کنجوس تاجر۔۔۔🙂!

کنجوس تاجر۔۔۔🙂!

پرانے دمشق میں ایک تاجر رہتا تھا جس کی کنجوسی مشہور تھی۔
وہ اگر خواب میں بھی سکہ خرچ کر دیتا تو صبح اٹھ کر صدقہ دے دیتا کہ خواب ٹوٹ جائے۔

ایک دن ایک فقیر اس کی دکان کے باہر آ بیٹھا۔
نہ مانگ رہا تھا، نہ آہ و زاری بس بیٹھا ہنس رہا تھا۔

تاجر کو غصہ آ گیا۔
“لوگ یہاں رو کر مانگتے ہیں، تم ہنس کیوں رہے ہو؟”

فقیر بولا
“میں تمہیں دیکھ کر ہنس رہا ہوں۔”

تاجر بھڑک اٹھا
“میں تمہیں مضحکہ خیز لگتا ہوں؟”

فقیر نے سر ہلایا
“ہاں، تمہارے پاس سب کچھ ہے،
اور میرے پاس کچھ نہیں
مگر نیند مجھے آتی ہے، تمہیں نہیں۔”

تاجر نے طنزیہ ہنسی ہنسی
“نیند تو خریدی جا سکتی ہے۔”

فقیر بولا:
“ہاں، مگر صرف سکون کے بدلے،
اور وہ تم فروخت نہیں کرتے۔”

رات کو تاجر نے واقعی نیند کی کوشش کی۔
سونا، گنا، حساب لگایا
مگر آنکھ نہ لگی۔

صبح اس نے فقیر کو تلاش کیا۔
فقیر وہیں بیٹھا مسکرا رہا تھا۔

تاجر نے ایک سکہ اس کے ہاتھ میں رکھا۔

فقیر نے سکہ واپس کرتے ہوئے کہا:
“یہ فیس نہیں، سبق تھا۔”

🧠 اخلاقی سبق

دولت چیزیں خرید سکتی ہے
سکون نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner