کھوتا پیر

کھوتا پیر

نتھو کمہار نے ہزار کوشش کی کہ تپش زیادہ ہونے سے پہلے وہ بیوی کی اوڑھنی رنگوا کر گھر پہنچ جائے ۔ لیکن ابھی وہ بیراں والی بستی کے قریب ہی پہنچا تھا کہ اس کا مریل گدھا دھڑام سے گرا اور دم توڑ گیا۔
نتھو اس کے مردہ جسم کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگ گیا ۔ کیونکہ یہی تو اس کی روٹی روزی کا واحد وسیلہ تھا ۔
ایسے میں آسمان پر گدھ منڈلاتے دیکھ کر اس کا دل دھک سے رہ گیا ۔ اس نے اپنے پرانے ساتھی کو  گِدھوں سے بچانے کے لئے ، اس کی لاش گھسیٹ کر ، ایک قریبی گڑھے میں ڈال کر اسے مٹی سے ڈھانپ دیا ۔ اور پھر کٹے دل کے ساتھ اپنی بیوی کی سبز اوڑھنی ، اس کے اوپر ڈال دی ۔
کل کی روٹی کہاں سے آئے گی ۔ وہ سوچتا رہا ۔ روتا رہا اور اپنے آنسو پونچھتا رہا ۔ ایسے میں گاؤں کی طرف جاتے ہوئے اک گھڑسوار ، نیچے اترا ۔ یہاں فاتحہ پڑھی اور نتھو کو سو روپے پکڑا گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا ، سات آٹھ عورتیں بھی وہاں آ کر  دعا کرنے لگیں اور نتھو کو عائیشاں کی بیٹی کی جلد شادی کے لئے دعا کرنے کا کہنے لگیں ۔ ساتھ ہی سبز چادر پر ، پانچ چھ ، پچاس پچاس روپے کے نوٹ آن گرے ۔
نتھو کمہار ، شرمندگی کے مارے وہ قبر برابر کرنے کے لئے اٹھا ، مگر ڈر گیا کہ سبز چادر والی قبر کو کسی نے گراتے ہوئے دیکھ لیا تو وہ  اس کی تکا بوٹی کر دے گا ۔
شام کو گھر پہنچ کر اس نے سارے پیسے اپنی بیوی کی جھولی میں ڈال دیئے ۔ مگر گدھے اور سبز اوڑھنی کا وہ کوئی جواب نہ دے سکا ۔
مگر ساتھ ہی وہ بلک بلک کر رونے لگا کہ آج مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو گیا ہے ۔ جانے ایک گدھے کی قبر بنانے پر اللہ اسے معاف کرے گا یا نہیں ۔
نتھو کی بیوی اس سے پوچھنے لگی ، کیا تم نے گدھا جان بوجھ کر مارا تھا ۔۔؟؟ ۔۔۔ ” نہیں “
کیا تم نے دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے یہ قبر بنائی تھی ۔۔۔؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ ‘ نہیں “
کیا تم نے خود کسی سے خیرات مانگی تھی ۔۔؟؟     ۔۔۔ ” نہیں “
یہ سن کر اس کی بیوی نے تحکمانہ انداز میں کہا ، اللہ بڑا غفور الرحیم ہے نتھو ۔ اس پالن ہار نے رزق کا ایک در بند کر کے ، کئی در کھول دئے ہیں ۔ چل آٹھ ۔۔۔ روٹی کھا اور جا کر اس قبر پہ چراغ جلا ۔

Leave a Reply

NZ's Corner