ہر مفت ملنے والی چیز نعمت نہیں ہوتی

ہر مفت ملنے والی چیز نعمت نہیں ہوتی

جنگل کے مغربی کنارے پر ایک وسیع و عریض خطہ تھا جسے وادیِ سبزہ کہا جاتا تھا۔ وہاں کے درخت باقی جنگل سے زیادہ گھنے، چشمے زیادہ شفاف اور زمین زیادہ زرخیز تھی۔ دور دور سے جانور وہاں آتے، کچھ دن قیام کرتے اور پھر اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتے۔ مگر ایک دن اس وادی پر ایسی خاموشی اتری کہ پرندوں کے گیت رک گئے، چشموں کے کنارے آباد رہنے والے جانور اپنے بلوں میں تڑپنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی سب سے آباد وادی موت کی وادی بننے لگی۔ پہلے چند جانور بیمار ہوئے، پھر درجنوں، پھر سینکڑوں۔ کسی کو شدید بخار چڑھتا، کسی کا پیٹ پھول جاتا، کوئی چلتے چلتے زمین پر گر پڑتا۔ کئی دنوں کے اندر اندر وادی کے آدھے سے زیادہ جانور مر چکے تھے، جبکہ باقی زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنی بڑی تباہی کے باوجود ایک ننھی سی گلہری بالکل تندرست تھی۔ اس خبر نے پورے جنگل میں کھلبلی مچا دی۔ بادشاہ شیر نے ہنگامی دربار بلایا اور حکم دیا کہ جنگل کے تمام طبیب وادی میں پہنچیں اور معلوم کریں کہ آخر کون سی بلا ان کے جانوروں کو نگل رہی ہے۔ کئی دن تک معائنہ ہوتا رہا، پانی کے نمونے لیے گئے، پودوں اور پھلوں کو پرکھا گیا، مگر بیماری کی اصل وجہ سامنے نہ آئی۔ آخر ایک بوڑھے طبیب نے وادی کے کنارے مٹی میں دھنسا ہوا ایک سیاہ، چکنا مادہ دیکھا۔ اس نے اسے سونگھا تو فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ چند ہفتے پہلے جنگل کے قریب سے گزرنے والی ایک گاڑی، جو تیل صاف کرنے والی فیکٹری کی طرف جا رہی تھی، پہاڑی موڑ پر الٹ گئی تھی۔ گاڑی میں موجود کچا تیل اور کیمیائی فضلہ ایک گہری نالی میں بہہ کر وادی کے کنارے جمع ہو گیا تھا۔ وہ مادہ دیکھنے میں چکنا اور خوشبودار تھا، اور جانوروں کو اس کی بو بہت بھاتی تھی۔ کچھ جانوروں نے اسے چاٹ کر دیکھا، پھر ایک نے دوسرے کو بتایا، دوسرے نے دس اور جانوروں کو خبر دی۔ جلد ہی وہاں جانوروں کا ہجوم لگنے لگا۔ ہر آنے والا خوشی سے کہتا، ’’ایسی نعمت تو کبھی نصیب نہیں ہوئی! نہ کسی سے مانگنا، نہ کسی کو قیمت دینا، بس جتنا چاہو کھاؤ!‘‘ کسی نے اسے جنگل کا تحفہ کہا، کسی نے قسمت کی مہربانی، اور کسی نے دعویٰ کیا کہ شاید یہ زمین کے اندر سے نکلنے والا کوئی نایاب روغن ہے۔ کسی نے یہ جاننے کی زحمت نہ کی کہ یہ چیز کہاں سے آئی ہے، کس کام کی ہے اور کھانے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔ جو جانور اسے کھاتا، وہ اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتا اور مزید جانوروں کو وہاں لے آتا۔ یوں مفت کی چیز کی خبر پورے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ مگر جس مادے کو وہ نعمت سمجھ رہے تھے، وہ ان کے جسموں میں زہر بن کر اتر رہا تھا۔ طبیب نے بادشاہ کو بتایا کہ اس آلودہ تیل نے جانوروں کو شدید بیمار کر دیا تھا، اور اگر اسے بروقت نہ روکا گیا تو مزید جانیں جا سکتی تھیں۔ بادشاہ نے فوراً اس جگہ پہرے لگوا دیے، لیکن اب سوال یہ تھا کہ اتنے جانوروں میں صرف گلہری ہی کیوں محفوظ رہی؟ شیر نے اسے دربار میں طلب کیا اور پوچھا، ’’ننھی گلہری! تم بھی اسی وادی میں رہتی تھیں، وہ چیز تمہارے سامنے بھی موجود تھی، باقی سب اسے کھانے کے لیے ٹوٹ پڑے، پھر تم نے اسے کیوں نہ کھایا؟‘‘ گلہری نے ادب سے سر جھکایا اور کہا، ’’بادشاہ سلامت! میں نے بھی اسے دیکھا تھا۔ اس کی بو اچھی تھی، سب جانور اسے کھا کر خوش ہو رہے تھے، اور میرے دل میں بھی اسے چکھنے کا خیال آیا تھا۔ مگر عین اسی وقت مجھے اپنے باپ کی نصیحت یاد آ گئی۔ وہ کہا کرتے تھے، بیٹی! دنیا میں کوئی چیز محض اس لیے اچھی نہیں ہو جاتی کہ وہ مفت مل رہی ہے۔ جو چیز تمہیں بغیر قیمت کے ملے، پہلے یہ ضرور سوچنا کہ اس کی قیمت کہیں تمہاری صحت، عزت، آزادی یا زندگی تو نہیں۔ کبھی کبھی انسان کسی چیز کی قیمت پہلے ادا نہیں کرتا، مگر وہ قیمت بعد میں اس سے وصول کر لی جاتی ہے۔‘‘ گلہری کی بات سن کر دربار میں خاموشی چھا گئی۔ شیر نے دیر تک سر جھکائے رکھا، پھر بولا، ’’ہم نے اسے مفت کی نعمت سمجھا، مگر اس کی اصل قیمت اپنی جانوں سے ادا کر دی۔‘‘ بوڑھے طبیب نے آہستہ سے کہا، ’’بادشاہ سلامت! بعض چیزیں ہاتھ میں آتے ہی فائدہ دیتی دکھائی دیتی ہیں، مگر ان کا نقصان اس وقت سامنے آتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔‘‘ اس دن کے بعد جنگل کے دروازوں اور بازاروں میں ایک ہی نصیحت لکھی جانے لگی: ہر مفت ملنے والی چیز نعمت نہیں ہوتی؛ کبھی اس کی قیمت پیسوں سے نہیں، انسان کی زندگی سے وصول کی جاتی ہے۔

حاصلِ سبق:
دنیا میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ بعض اوقات ہم کسی چیز کے لیے پیسے ادا نہیں کرتے، مگر اس کے بدلے اپنی صحت، وقت، عزت، آزادی یا سکون کھو بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کسی چیز کے مفت ملنے پر خوش ہونے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ اس کے پیچھے کیا قیمت چھپی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner