ہر وہ شخص جو آپ کی تعریف کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کی عظمت کا قائل ہو۔

ہر وہ شخص جو آپ کی تعریف کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کی عظمت کا قائل ہو۔

ایک زمانے کی بات ہے، جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جسم اتنا بھاری کہ چلتا تو زمین جیسے ذرا سوچ کر قدم اٹھاتی، سینگ ایسے کہ دور سے دیکھنے والا بھی راستہ بدل لیتا، اور خود پسندی ایسی کہ اسے یقین تھا کہ جنگل میں اس سے زیادہ باوقار، بااثر اور عظیم جانور شاید کبھی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ دوسرے جانور اس کے ساتھ چلنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں، اس سے بات کرنا عزت سمجھتے ہیں اور اگر کبھی وہ کسی کو دیکھ کر سر ہلا دے تو وہ جانور اسے پورا دن اپنے لیے اعزاز سمجھ کر گزارتا ہے۔ مختصر یہ کہ بھینسے کو اپنی عظمت کا اتنا یقین تھا کہ اگر ایک دن جنگل کے سب جانور اسے نظرانداز کر دیتے تو وہ شاید یہ نتیجہ نکالتا کہ “آج پورا جنگل میری عظمت سے مرعوب ہو کر خاموش ہے۔
حقیقت یہ تھی کہ جنگل کے اکثر جانور اس کی خوش فہمی سے واقف تھے، مگر کوئی اسے بتانے کی حماقت نہیں کرتا تھا۔ ان میں ایک لومڑی بھی تھی جو بھینسے کی اس عادت کو بہت اچھی طرح جانتی تھی۔ اسے معلوم تھا کہ بھینسے کو طاقت سے زیادہ اپنی تعریف سننا پسند ہے، اور اگر کوئی اس کی معمولی سی بات کو بھی عظمت کا درجہ دے دے تو وہ اس شخص کو اپنا خاص سمجھنے لگتا ہے۔

” ایک دن بادشاہ شیر نے اسے ایک اہم شاہی کام سونپا اور ساتھ اسی دبلی پتلی لومڑی بھی کر دی۔ دونوں کو جنگل کے دوسرے کنارے ایک ضروری پیغام پہنچانا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا اور سورج ایسا برس رہا تھا جیسے آسمان نے آگ کی چادر تان دی ہو۔ بھینسا اپنی بھاری چال میں آگے بڑھ رہا تھا اور لومڑی پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ چند ہی قدم چلی تو لومڑی کی زبان خشک ہونے لگی، سانس پھولنے لگی اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے سورج خاص طور پر اسی کے خلاف نکلا ہو۔ اچانک اس کی نظر بھینسے کے بڑے سے سائے پر پڑی۔ لومڑی ذرا پیچھے ہوئی، پھر کچھ اور پیچھے، یہاں تک کہ بھینسے کا سایہ اس کے عین اوپر آنے لگا۔ ٹھنڈی چھاؤں ملتے ہی اس نے دل ہی دل میں کہا، “واہ! قدرت نے آج میری بھی سن لی۔” مگر اب مسئلہ یہ تھا کہ اسے مسلسل اسی سائے میں رہنا تھا۔ کچھ دیر بعد بھینسے نے مڑ کر دیکھا کہ لومڑی بہت پیچھے کو رہ گئی تھی۔ اس نے رعب سے پوچھا، “کیا بات ہے؟ ساتھ کیوں نہیں چل رہی؟” لومڑی نے فوراً گردن جھکا لی۔ “حضور! گستاخی معاف ہو۔” بھینسا چونکا، “گستاخی؟ کون سی گستاخی؟” لومڑی نے نہایت ادب سے کہا، “میں آپ کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کی جسارت کر رہی تھی۔ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ یہ میری حیثیت سے بڑھ کر ہے۔ آپ جیسی عظیم شخصیت کے برابر چلنا بھی شاید میرے لیے مناسب نہیں۔ اسی لیے میں پیچھے رہ کر چل رہی ہوں۔” بھینسے کی چال فوراً بدل گئی۔ سینہ کچھ اور آگے نکلا، گردن ذرا اور بلند ہوئی اور قدموں میں ایسی شان آ گئی جیسے ابھی کسی نے اسے جنگل کا بادشاہ مقرر کیا ہو۔ اس نے دل میں کہا، “آخر کسی کو تو میری عظمت کا احساس ہوا!” لومڑی نے دیکھا کہ تیر نشانے پر لگا ہے۔ اب وہ تھوڑا اور پیچھے ہو گئی۔ بھینسے کا سایہ بھی اس کے ساتھ چلتا رہا۔ لومڑی نے کبھی دائیں قدم بڑھایا، کبھی بائیں، مگر اس بات کا خاص خیال رکھا کہ سایہ اس کے جسم سے جدا نہ ہو۔ بھینسے نے پھر پوچھا، “تم اتنا پیچھے کیوں ہو؟” لومڑی نے فوراً جواب دیا، “حضور! آپ کے قدموں کے برابر چلنا میری گستاخی ہوگی۔ میں تو آپ کے سائے میں چلنے کو ہی اپنی خوش نصیبی سمجھتی ہوں۔” یہ جملہ سنتے ہی بھینسے کے دل میں عظمت کے مزید پھول کھل گئے۔ اب اسے یقین ہو چکا تھا کہ جنگل نے دیر سے سہی، مگر اس کی اصل حیثیت پہچان لی ہے۔ وہ سوچنے لگا، “آج اس لومڑی کو سمجھ آئی ہے، کل پورا جنگل سمجھے گا۔” پھر اس نے گردن اکڑا کر آسمان کی طرف دیکھا اور ایسے چلنے لگا جیسے اس کا سایہ بھی اس کی شان میں ساتھ چل رہا ہو۔ ادھر لومڑی نے اپنی رفتار بالکل مناسب رکھی ہوئی تھی۔ نہ بہت آگے، نہ بہت پیچھے؛ بس اتنی کہ سایہ ساتھ رہے۔ راستے میں چند جانور ملے۔ بھینسے نے سمجھا سب اسے دیکھ کر مرعوب ہو رہے ہیں، جبکہ لومڑی نے موقع دیکھ کر ایک آدھ جملہ اور کہہ دیا، “دیکھا؟ پورا جنگل آپ کی ہیبت سے واقف ہے۔” بھینسا اندر ہی اندر پھولتا گیا۔ آخرکار منزل قریب آئی۔ لومڑی کا کام بھی ہو گیا اور دھوپ بھی کچھ کم ہونے لگی۔ واپسی پر بھینسے نے بڑے فخر سے کہا، “لومڑی!

آج مجھے اندازہ ہوا کہ واقعی میں جنگل کا ایک غیر معمولی جانور ہوں۔” لومڑی نے فوراً سر جھکا کر کہا، “حضور! میں تو بہت پہلے ہی جانتی تھی۔” بھینسا خوش ہو کر بولا، “تمہیں کیسے معلوم تھا؟” لومڑی مسکرائی “حضور! عظمت بتائیں نہیں جاتی بلکہ وہ تو دور سے ہی نظر آجاتی ہے اور میں تو آپ کے اس قدر قریب تھی، اور مجھے ہر وقت دیکھائی دیتی اور آج تو ضرورت سے زیادہ دیکھائی دینے لگی۔
بھینسا یہ سن کر اتنا خوش ہوا کہ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ لومڑی نے ابھی تک ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ “آپ واقعی عظیم ہیں”؛ وہ صرف اتنا کہتی رہی تھی کہ “آپ کا سایہ میرے کام آ رہا ہے۔”

حاصل سبق:
“دنیا عجیب جگہ ہے؛ بعض لوگ آپ کے قریب اس لیے نہیں رہتے کہ وہ آپ کی عظمت کے قائل ہیں، بلکہ اس لیے کہ آپ کا سایہ ان کے کسی کام آ رہا ہوتا ہے۔” مگر یہ بات لومڑی کی طرح وہ اپنی زبان پر نہیں آنے دیتے۔ ہر وہ شخص جو آپ کی تعریف کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ آپ کی عظمت کا قائل ہو۔ کبھی کوئی آپ کے قریب آپ کے کردار کے لیے ہوتا ہے اور کبھی آپ کے سائے کے لیے۔ اس لیے خوشامد کو محبت، ضرورت کو وفاداری اور مفاد کو احترام سمجھ لینا انسان کو اپنے ہی بارے میں ایک ایسی خوش فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے جس کا سچ اکثر بہت دیر سے سامنے آتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner