رات کے تین بج رہے تھے اور چاروں طرف گہرا سناٹا تھا۔ شیدا میاں نے اس رات کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کے لیے محلے کی سب سے بڑی اور عالیشان کوٹھی کا انتخاب کیا۔ ارادہ بالکل واضح تھا کہ خاموشی سے دیوار پھلانگ کر اندر گھسیں گے، مال ومتاع پر ہاتھ صاف کریں گے اور رفو چکر ہو جائیں گے۔
منصوبے کے مطابق شیدا میاں نے بلی کی سی پھرتی دکھائی، اونچی دیوار پر ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جست میں اوپر جا پہنچے۔ تاریکی میں چاروں طرف جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اندر کی طرف ایک شاندار چھلانگ لگائی۔ لیکن قسمت کا پھیر تو دیکھیے! پیر زمین پر ٹکنے کے بجائے سیدھے ایک مہنگے چینی کے گملے پر پڑے، گملہ چکنا چور ہوا، محلے کا چوکیدار والا کتا بیدار ہو کر ڈوبارہ فرکانس پر آگیا، اور شیدا میاں دھڑم سے لان میں بچھاری ایک بڑی سی چارپائی پر جا گرے۔
شیدا میاں نے گڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کی ہی تھی کہ لان کے برآمدے کی روشنیاں یکدم آن ہو گئیں۔ انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو خون کے گھونٹ رہ گئے؛ سامنے ان کی اپنی ساس صاحبہ ہاتھ میں باورچی خانے والا بیلنا لیے کھڑی تھیں، اور پیچھے ان کی ناراض بیگم بھی آنکھوں میں شعلے سجائے نمودار ہو چکی تھیں۔
ماحول میں چند سیکنڈ کا ایسا سکوت طاری ہوا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنائی دے۔ پھر ساس صاحبہ کی کڑک دار آواز گونجی: “اوئے شیدے! رات کے تین بجے گھر میں چوری کرنے آیا تھا یا تجھے سسرال آنے کا دورہ پڑا ہے جو تو نے دروازے کے بجائے پچھواڑے کی دیوار چھانگی ہے؟”
شیدا میاں نے ٹوٹے ہوئے گملے، اپنی خستہ حال ٹانگ اور ساس صاحبہ کے ہاتھ میں موجود بیلنے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی، پھر کمال ڈھٹائی اور معصومیت سے مسکرا کر بولے: “امی جان، اصل میں بات یہ ہے کہ میں نے سوچا دروازے سے آتا تو آپ کہتیں اتنی رات گئے منہ اٹھائے کیوں چلے آئے، اس لیے سوچا عزت بچانے کے لیے چور والا شارٹ کٹ ہی اپنا لیا جائے!”
یہ سن کر بیگم نے اپنے ہاتھ باندھے اور طنزیہ لہجے میں بولیں: “بہت خوب! اب جب دیوار پھلانگ کر تشریف لے ہی آئے ہو، تو کل صبح جانے کا نام مت لینا، ناشتے میں تمہارا پسندیدہ حلوہ پوری بنے گا!”
سبق: جو شوہر سسرال جانے سے جتنی جان چھڑاتے ہیں، تقدیر انہیں اتنے ہی انوکھے طریقوں سے وہیں پہنچا دیتی ہے! 😂
