آدھی روٹی

آدھی روٹی

ایک سرد رات تھی…
چاندنی شہر کی خاموش گلیوں پر ایسے بکھری ہوئی تھی جیسے کسی نے چاند کو زمین پر اتار دیا ہو۔

بادشاہ اپنے وفادار قاضی کے ساتھ سادہ لباس میں بغداد کی گلیوں میں نکل آیا تھا۔

کسی کو خبر نہ تھی کہ تخت پر بیٹھنے والا شخص آج خود ایک مسافر بن کر چل رہا ہے…

اچانک ایک پرانی مسجد کے باہر اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی۔

پھٹے ہوئے کپڑے…
کانپتا ہوا جسم…
اور آنکھوں میں خاموش بھوک…

یہ شہر کا مشہور بھکاری تھا — اللہ داد۔

بادشاہ رک گیا۔

اس نے دیکھا کہ اللہ داد نے اپنی جھولی سے ایک سادہ سی روٹی نکالی…
آسمان کی طرف دیکھا…
خاموش دعا کی…
اور روٹی دو حصوں میں توڑ دی۔

آدھی خود کھائی…
اور آدھی ایک تھیلی میں رکھ دی۔

بادشاہ حیران رہ گیا…

اتنی غربت میں بھی “کل” کی فکر؟

بادشاہ قریب گیا اور بولا:

“بھائی… ہم مسافر ہیں، کچھ کھانے کو مل سکتا ہے؟”

اللہ داد نے سکون سے کہا:

“میرے پاس بس یہی روٹی تھی…
آدھی آج کے لیے، آدھی کل کے لیے…”

بادشاہ نے نرمی سے کہا:

“اگر ممکن ہو تو وہ آدھی ہمیں دے دو… ہم بہت بھوکے ہیں…”

ایک لمحہ خاموشی چھا گئی…

پھر اللہ داد نے بغیر ہچکچاہٹ وہ آدھی روٹی اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔

“لو… اللہ آسان کرے تمہارا راستہ…”

بادشاہ کے ہاتھ کانپ گئے۔

اس نے کہا:

“تمہیں کل کی فکر نہیں؟ تم نے اپنی بچی ہوئی روٹی بھی دے دی…”

اللہ داد مسکرایا…

اور بس اتنا کہا:

“میں نے ایک بات سیکھ رکھی ہے…”

“جب اللہ دو روٹیاں دے… تو ایک بانٹ دی جاتی ہے…”

“اور جب ایک ہی روٹی ہو… تو اسے بھی آدھا کر لیا جاتا ہے…”

پھر اس نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:

“آج تم دونوں کو دیکھ کر لگا…
شاید تم مجھ سے زیادہ بھوکے ہو…”

یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔

اس کے دل میں ایک عجیب سا طوفان اٹھا…

اور پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ اس کے خزانے… اس کی سلطنت…
سب چھوٹے ہیں۔

بادشاہ نے آہستہ سے اپنا نقاب ہٹایا۔

چاندنی میں اس کا چہرہ ظاہر ہوا…

اللہ داد کانپ گیا۔

بادشاہ نے اس کے ہاتھ پکڑ لیے اور کہا:

“آج بادشاہ میں نہیں…”

“آج اصل بادشاہ تم ہو…”

“کیونکہ اصل دولت خزانہ نہیں…”

“بلکہ وہ دل ہے جو اپنی روٹی بھی بانٹ دے…”

اگلے دن بغداد میں ایک خبر پھیلی…

بادشاہ نے اللہ داد کے لیے ایک چھوٹا سا گھر بنوایا…

اور دروازے پر ایک تختی لگوائی گئی:

“یہ گھر اُس شخص کا ہے
جس نے بادشاہ کو انسان ہونا سکھایا…”

اصل بادشاہ وہ نہیں جس کے پاس تخت ہو…
اصل بادشاہ وہ ہے جس کے پاس اتنا دل ہو کہ وہ اپنی آدھی روٹی بھی بانٹ دے۔

پوسٹ اچھی لگی تو ایک اچھا سا میسج کمنٹ میں ضرور دیں۔ اور پوسٹ کو اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شئیر کریں شکریہ.

Leave a Reply

NZ's Corner