رات کے 2 بجے ایک ٹیکسی ڈرائیور سنسان سڑک پر گاڑی چلا رہا تھا۔ پیچھے سیٹ پر ایک مسافر بیٹھا ھوا تھا جو بالکل خاموش تھا۔
ماحول بہت ڈراؤنا تھا، ہلکی ہلکی دھند تھی۔
اچانک… پیچھے بیٹھے مسافر نے ڈرائیور کے کندھے پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔
جیسے ھی مسافر کا ہاتھ کندھے پر لگا، ڈرائیور نے خوفناک چیخ ماری!
اسٹیرنگ وہیل چھوٹ گیا، ٹیکسی لہراتی ھوئی فٹ پاتھ پر چڑھی، ایک کھمبے سے بال بال بچی اور بڑی مشکل سے ایک جھاڑی میں جا کر رکی۔
ڈرائیور کا سانس پھولا ھوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھا۔
مسافر بھی ڈر گیا اور بولا:
“بھائی صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو صرف آپ سے ٹائم (وقت) پوچھنے کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنا ڈر جائیں گے۔”
ڈرائیور نے لمبی سانس لی، ماتھے سے پسینہ پونچھا اور بولا:
“بھائی! اس میں آپ کا قصور نہیں ھے۔ دراصل میرا آج ٹیکسی چلانے کا ‘پہلا دن’ ھے۔”
مسافر: “تو اس سے پہلے کیا کرتے تھے؟”
ڈرائیور: “میں پچھلے 20 سال سے ‘مردہ گاڑی’ (ایمبولینس) چلا رہا تھا… مجھے عادت ہے کہ پیچھے والا ہلتا جلتا نہیں ہے!”
مسافر نے وھیں اُتر کر پیدل بھاگنے میں ھی عافیت سمجھی! 😅😅😅😅
