ایک زمانے کا ذکر ہے، ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں “مسکراہٹ آباد” میں استاد نادان رہتے تھے۔ استاد نادان کا نام تو خیر نادان تھا، لیکن ان کی حرکات دیکھ کر پورے گاؤں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ ان کا نام “مہا نادان” ہونا چاہیے تھا۔ استاد صاحب کا ماننا تھا کہ دنیا کا ہر مسئلہ صرف تین چیزوں سے حل ہو سکتا ہے: ایک کڑک چائے کا کپ، تھوڑی سی حکمت، اور اگر یہ دونوں کام نہ کریں تو ایک لمبا بانس!
ایک مرغن شام، استاد نادان اپنی بیٹھک میں بیٹھے مکھیاں مارنے کی حکمتِ عملی پر غور کر رہے تھے کہ اچانک گاؤں کے چوہدری شجاعت ہانپتے کانپتے داخل ہوئے۔
“استاد جی! غضب ہو گیا! میری سب سے پیاری بھینس ‘چمیلی’ کو ناگن نے ڈس لیا ہے یا شاید اس پر کسی جن کا سایہ ہو گیا ہے! وہ مسلسل ایک ٹانگ پر کھڑی ہے اور عجیب و غریب آوازیں نکال رہی ہے!” چوہدری نے روتے ہوئے کہا۔
استاد نادان نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا، چائے کا آخری گھونٹ بھرا اور بولے، “چوہدری صاحب، گھبرانے کی ضرورت بالکل نہیں! حکمت کا اصل امتحان ہی مصیبت کے وقت ہوتا ہے۔ چلو، ذرا چمیلی کا معائن کریں۔”
پورے گاؤں کا مجمع بھینس کے طبلے کے باہر اکٹھا ہو گیا۔ چمیلی واقعی اپنی دائیں پچھلی ٹانگ فضا میں اٹھائے، آنکھیں مٹکا کر “موں… موں…” کر رہی تھی۔ استاد نادان نے نظر کا چشمہ ناک پر ٹکایا، بھینس کے گرد تین چکر لگائے، اور پھر گہرے سسپنس کے ساتھ بولے:
“معاملہ نہایت حساس ہے۔ چمیلی کو نہ ناگن نے ڈسا ہے نہ اس پر جن کا سایہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس بھینس کی روح میں ‘کلاسیکی ڈانسر’ بیدار ہو گئی ہے!”
گاؤں والے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور چوہدری کا سر چکرا گیا۔
استاد نے آگے بڑھ کر کہا، “اب اس کا واحد علاج یہ ہے کہ اسے اس کا پسندیدہ ساز سنایا جائے تاکہ یہ اپنا رقص مکمل کرے اور سکون میں آئے۔”
استاد نادان نے فوراً گاؤں کے ڈھولچی کو بلا کر زور زور سے ڈھول بجانے کا حکم دیا۔ جیسے ہی ڈھول پر تھاپ پڑی، چمیلی نے غصے میں آ کر ایک زوردار لت پیچھے ماری اور ٹھیک استاد نادان کے پیٹ پر جڑی! استاد صاحب تین گز دور جا کر توڑی کے ڈھیر میں گرے۔
چوہدری شجاعت بھاگ کر استاد کے پاس پہنچے، “استاد جی! آپ ٹھیک تو ہیں؟”
استاد نادان نے توڑی میں سے اپنا منہ باہر نکالا، چشمہ سیدھا کیا اور مسکرا کر بولے، “ہاہا! میں تو بس بھینس کا ردِعمل دیکھ رہا تھا۔ اور دیکھو! میری حکمت کام کر گئی!”
سب نے دیکھا تو چمیلی اب آرام سے اپنی چاروں ٹانگوں پر کھڑی جگالی کر رہی تھی۔ دراصل، ڈھول کی دُھن پر جب اس نے زور سے لت ماری تو اس کے کھر میں پھنسا ہوا ایک چھوٹا سا نوکیلا پتھر نکل کر دور جا گرا تھا، جس کی وجہ سے وہ درد کے مارے ٹانگ اٹھائے کھڑی تھی۔
استاد نادان نے اپنی دھوتی جھاڑی اور فخر سے بولے، “دیکھا چوہدری صاحب؟ میں نے کہا تھا نا کہ لت کا علاج لت ہی سے ہوتا ہے! میری حکمت نے پتھر بھی نکال دیا اور چمیلی کا موڈ بھی ٹھیک کر دیا۔”
پورے گاؤں نے استاد نادان کی “حکمتِ لت” کی داد دی، اور استاد صاحب ایک بار پھر شان سے اپنی بیٹھک کی طرف چائے پینے روانہ ہو گئے۔
