چٹکی لال

چٹکی لال

ایک زمانے کا ذکر ہے، “قہقہہ نگر” کے نامی گرامی درزی، استاد چٹکی لال، اپنی تیز رفتار قینچی اور عجیب و غریب خیالات کے لیے پورے علاقے میں مشہور تھے۔ استاد کا دعویٰ تھا کہ وہ بندے کا سائز دیکھے بغیر صرف اس کی آواز سن کر ایسا سوٹ سی سکتے ہیں جو سیدھا پیرس کے فیشن شو میں جا سکے۔
ایک دن، گاؤں کے سب سے کنجوس اور ڈرپوک سیٹھ کلو مل استاد کی دکان پر آئے۔ سیٹھ صاحب کو اپنے بھتیجے کی شادی میں جانا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ کپڑا بھی کم لگے، سلائی بھی کم ہو، لیکن رعب ایسا پڑے جیسے بادشاہ کا ہو۔
استاد چٹکی لال نے اپنی مونچھ پر ہاتھ پھیرا اور بولے، “سیٹھ جی! آپ بے فکر ہو جائیں۔ میں آپ کے لیے ایسا ‘جادوئی شیروانی سوٹ’ سیوں گا کہ شادی میں سب دولہا کو چھوڑ کر آپ کو دیکھتے رہ جائیں گے!”
استاد نے رات بھر جاگ کر، چراغ کی روشنی میں، رنگ برنگے بچے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑے جوڑ کر ایک شاندار شیروانی تیار کی۔ لیکن جلدی میں استاد صاحب ایک چھوٹی سی غلطی کر گئے—انہوں نے شیروانی کی دائیں آستین میں بائیں بازو کا ناپ ڈال دیا اور پتلون کے ساتھ ایک عجیب و غریب تجربہ کر ڈالا!
اگلے دن، شادی کی بارات روانہ ہونے ہی والی تھی کہ سیٹھ کلو مل نے جلدی جلدی سوٹ پہنا۔ جیسے ہی انہوں نے دایاں بازو آستین میں ڈالا، ان کا ہاتھ سیدھا اوپر آسمان کی طرف اٹھ گیا! اور پتلون اتنی تنگ تھی کہ وہ سیدھا چلنے کے بجائے صرف مرغے کی طرح مٹک مٹک کر چل سکتے تھے۔
سیٹھ صاحب نے گھبرا کر کہا، “استاد! یہ کیا مصیبت ہے؟ میرا ہاتھ نیچے ہی نہیں آ رہا اور میں سیدھا چل بھی نہیں پا رہا!”
استاد چٹکی لال نے فوراً اپنا چشمی درست کیا اور بڑی سنجیدگی سے بولے، “سیٹھ جی! یہی تو اس سوٹ کا اصل کمال ہے! اسے ‘سلامی ڈانس سوٹ’ کہتے ہیں۔ اٹھا ہوا ہاتھ دکھاتا ہے کہ آپ ہر وقت لوگوں کو دعائیں دے رہے ہیں، اور یہ چال آپ کی شاہانہ شان کو ظاہر کرتی ہے!”
شادی کے ہال میں جیسے ہی سیٹھ کلو مل نے اس عجیب و غریب انداز میں قدم رکھا، تو ڈھول والے نے سمجھا کہ سیٹھ جی نے کوئی نیا ڈانس کا سٹیپ ایجاد کیا ہے۔ ڈھولچی نے فوراً تیز دھن بجانا شروع کر دی۔ استاد چٹکی لال نے پیچھے سے سیٹھ صاحب کو ہلکا سا دھکا دیا، اور سیٹھ جی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک ٹانگ پر جھومتے اور ہاتھ اٹھائے ناچنے لگے!
پورے ہال میں تالیاں گونج اٹھیں۔ لوگ بولے، “واہ سیٹھ جی واہ! کیا زبردست ڈانس ہے!” دلہا کے باپ نے خوش ہو کر سیٹھ کے ہاتھ پر پانچ سو کا نوٹ تھما دیا۔
شادی ختم ہوئی تو سیٹھ کلو مل ہانپتے ہوئے استاد چٹکی لال کے پاس پہنچے اور بولے، “استاد جی! زندگی میں پہلی بار میری کنجوسی پر کسی نے مجھے انعام دیا ہے! یہ لو اپنی سلائی، اور اگلی بار میرے لیے ایسا ہی ایک اور ‘رقص والا سوٹ’ تیار رکھنا!”

Leave a Reply

NZ's Corner