ایک بڑے سپر اسٹور میں چوہوں کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ رات ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا جیسے پوری دکان زندہ ہو گئی ہو۔ آٹے کی بوریاں، خشک میوہ جات، چاول، دالیں، بسکٹ، ہر طرف ان کی چہل پہل تھی۔ نسلیں وہیں پلی تھیں، بوڑھے وہیں مرے تھے اور نئے بچے وہیں جوان ہو رہے تھے۔
دکان کے مالک نے ہر ترکیب آزما لی، مگر چوہے ختم نہ ہوئے۔
آخر ایک دن اس نے ایک نہایت خونخوار جنگلی بلی لا کر چھوڑ دی۔
وہ عام بلی نہ تھی۔
اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، پنجوں میں بجلی، اور حملہ ایسا کہ کئی چوہے سنبھلنے کا موقع ہی نہ پاتے۔
پہلے ہی ہفتے درجنوں چوہے مارے گئے۔
چوہوں کی بستی میں کہرام مچ گیا۔
ہر رات کسی نہ کسی گھر سے ماتم کی آواز آتی۔
پھر ایک دن بزرگ چوہوں نے مشورہ کیا۔
“جان ہے تو جہان ہے۔”
“دکان کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر ہر صبح کسی کا جنازہ اٹھے تو ایسی جنت کا کیا فائدہ؟”
یوں چوہوں نے خاموشی سے ہجرت شروع کر دی۔
ہر رات چند خاندان اپنا سامان اٹھاتے اور کسی نئی پناہ گاہ کی تلاش میں نکل جاتے۔
شروع شروع میں بلی نے اس بات پر توجہ نہ دی۔
وہ تو روز ایک نہ ایک شکار پا کر خوش تھی۔
مگر چند ہفتوں بعد اس نے محسوس کیا کہ شکار کم ہوتا جا رہا ہے۔
پھر ایک رات وہ دکان کی چھت پر بیٹھی دیر تک سوچتی رہی۔
آخر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا:
“اگر سارے چوہے ہی چلے گئے، تو پھر میری ضرورت بھی ختم ہو جائے گی۔”
اگلے ہی دن اس نے ایک عظیم الشان اجلاس بلایا۔
تمام چوہوں کے سردار، بزرگ اور نوجوان اکٹھے ہوئے۔
بلی نہایت نرم لہجے میں بولی:
“میں ساری رات سو نہ سکی۔ تم لوگوں کو اس طرح اپنا گھر چھوڑتے دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ آخر تم یہاں مجھ سے پہلے رہتے آئے ہو، اس جگہ پر پہلا حق تمہارا ہے۔”
چوہے حیران رہ گئے۔
بلی نے بات جاری رکھی۔
“دنیا میں کتنی ہی مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں۔ اختلاف کے باوجود امن سے زندگی گزارتے ہیں۔ ہم کیوں نہیں رہ سکتے؟”
چوہوں نے پہلی بار بلی کی آنکھوں میں نرمی دیکھی۔
ان کے دل نرم پڑنے لگے۔
پھر بلی نے کہا:
“میں تجویز دیتی ہوں کہ ہم ایک آئین بناتے ہیں۔ کچھ قوانین ہوں گے، جن کی پابندی تم بھی کرو گے اور میں بھی۔”
سب نے خوشی سے تائید کی۔
چند ہی دنوں میں “امن نامہ” تیار ہو گیا۔
اس میں لکھا گیا:
کوئی چوہا رات کے فلاں پہر کے بعد باہر نہیں نکلے گا۔
ہر خاندان اپنی تعداد درج کروائے گا۔
ہر چوہا اپنی رہائش کا اندراج کرائے گا۔
اگر کسی پر قانون شکنی کا الزام ثابت ہو گیا تو اسے سزا دی جائے گی۔
سزا کا اختیار صرف بلی کے پاس ہوگا۔
چوہوں نے تالیاں بجائیں۔
انہیں لگا اب ان کی جان محفوظ ہو گئی۔
مگر انہیں ایک بات کا احساس نہ ہوا
قانون لکھنے والا بھی بلی تھی
قانون کی تشریح کرنے والی بھی بلی تھی
اور سزا سنانے والی بھی بلی تھی۔
اگلے ہی دن ایک چوہا پکڑا گیا۔
الزام لگا:
“یہ مقررہ وقت سے دو لمحے دیر سے اپنے بل میں داخل ہوا۔”
بلی نے افسوس سے سر ہلایا۔
“قانون سب کے لیے برابر ہے۔”
اور اسے کھا گئی۔
اگلے دن دوسرا چوہا پکڑا گیا۔
الزام تھا:
“اس نے اپنی خوراک مقررہ مقدار سے زیادہ جمع کی ہے۔”
بلی نے پھر آہ بھری۔
“مجھے افسوس ہے، لیکن قانون، قانون ہوتا ہے۔”
اور اسے بھی کھا گئی۔
پھر تیسرے دن،
چوتھے دن، پانچویں دن
ہر روز کوئی نہ کوئی نیا قانون ٹوٹ جاتا۔
اور عجیب اتفاق یہ تھا کہ ہر بار قانون صرف چوہوں کے خلاف ٹوٹتا تھا۔
ادھر چوہے مطمئن تھے۔
وہ کہتے:
“فکر کی کوئی بات نہیں، اب تو قانون موجود ہے۔”
ایک بوڑھا چوہا اکثر کہتا:
“قانون کمزور کی حفاظت کرتا ہے۔”
مگر ایک اور بوڑھا خاموش رہتا۔
ایک دن اس نے آہستہ سے کہا:
“بیٹا، قانون ضرور حفاظت کرتا ہے، لیکن پہلے یہ دیکھو کہ قانون بنایا کس نے ہے۔”
کسی نے اس کی بات پر توجہ نہ دی۔
وقت گزرتا گیا۔
چوہوں کی تعداد کم سے کم ہوتی گئی۔
آخر ایک دن دکان میں صرف ایک بوڑھا چوہا باقی رہ گیا۔
بلی نے اسے بھی پکڑ لیا۔
بوڑھے چوہے نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
“میں نے تو کبھی کوئی قانون نہیں توڑا”
بلی مسکرائی۔
“آج تمہارا جرم یہ ہے کہ تم اکیلے رہ گئے ہو، اور آئین کی دفعہ ستائیس کے مطابق کوئی چوہا تنہا نہیں رہ سکتا۔”
بوڑھے چوہے نے پہلی بار سر اٹھا کر بلی کی طرف دیکھا اور تلخی سے بولا:
“قصور قانون کا نہیں تھا”
“قصور ہمارا تھا”
“ہم یہ بھول گئے تھے کہ قانون انصاف کے لیے نہیں بنایا گیا تھا”
“بلکہ ہمیں یہیں روک کر کھانے کے لیے بنایا گیا تھا۔”
یہ کہہ کر وہ بھی بلی کی خوراک بن گیا۔
اخلاقی سبق:
ہر قانون انصاف نہیں ہوتا، اور ہر آئین آزادی کی ضمانت نہیں بنتا۔ جب قانون بنانے والا، اس کی تشریح کرنے والا اور سزا دینے والا ایک ہی طاقت ہو، تو کمزور اگر صرف قانون کے نام پر مطمئن ہو جائے، تو وہ اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ اصل سوال قانون کا نہیں، بلکہ قانون بنانے والے کی نیت کا ہوتا ہے۔
