10 جنوری 1616۔ بظاہر یہ صرف ایک درباری ملاقات تھی۔ ایک
انگریز سفیر، چند تحائف، ایک درخواست، اور مغل دربار کی شان و شوکت۔ مگر تاریخ کے لمبے سفر میں یہی لمحہ برصغیر کی تقدیر بدلنے والے سب سے سنگین موڑوں میں شمار ہوا۔
اس پینٹنگ میں تخت پر بیٹھا شخص نورالدین محمد جہانگیر ہے، اکبر اعظم کا بیٹا اور مغل سلطنت کا چوتھا بادشاہ۔ سامنے کھڑا انگریز سفیر سر تھامس رو ہے، جو برطانیہ کے بادشاہ جیمز اول کا نمائندہ بن کر آیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں درخواست ہے، لیکن حقیقت میں وہ درخواست نہیں، آنے والے دو سو برسوں کی غلامی کا ابتدائی پروانہ تھا۔
یہ پینٹنگ مغل دور کی منی ایچر روایت سے متاثر بعد کے زمانے کی تاریخی مصوری مانی جاتی ہے۔ اصل ملاقات کی کئی تصویری تشریحات بعد میں یورپی اور ہندوستانی مصوروں نے بنائیں، اس لیے اس مخصوص تصویر کا حتمی مصور متعین کرنا مشکل ہے، لیکن اس کا منظر تاریخی حوالوں سے مشہور ہے: سر تھامس رو کا جہانگیر کے دربار میں حاضر ہونا۔
سر تھامس رو 1615 میں ہندوستان پہنچا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اس سے پہلے بھی کوششیں کر چکی تھی کہ مغل سلطنت سے باقاعدہ تجارتی اجازت حاصل کی جائے، مگر پرتگیزی اثر و رسوخ، درباری سازشیں اور مغل دربار کی پیچیدہ رسومات انگریزوں کے راستے میں رکاوٹ تھیں۔ رو کو مہینوں انتظار کرنا پڑا۔ کبھی درباری اسے اندر نہ جانے دیتے، کبھی ملاقات ملتوی ہو جاتی۔ مغل سلطنت اس وقت دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی، جبکہ انگلستان ایک ابھرتی ہوئی بحری طاقت تھا۔ جہانگیر کے لیے یہ چند تاجروں کی درخواست تھی، لیکن ان تاجروں کی پشت پر ایک ایسی سلطنت کھڑی ہو رہی تھی جو سمندروں پر قبضہ جما رہی تھی۔
آخرکار 10 جنوری 1616 کو یہ ملاقات ہوئی۔ جہانگیر کو تحائف پیش کیے گئے۔ انگریزوں نے عاجزی دکھائی، دوستی کی بات کی، تجارت کی اجازت مانگی۔ مغل دربار نے شاید اسے ایک معمولی سفارتی واقعہ سمجھا۔ انہیں اندازہ نہ تھا کہ ساحلوں پر تجارتی کوٹھیاں مانگنے والے یہی لوگ ایک دن توپوں کے دہانے پر پورا ہندوستان کھڑا کر دیں گے۔
پہلے انہوں نے صرف تجارت کی۔ سورت، مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں فیکٹریاں قائم ہوئیں۔ پھر انہوں نے مقامی سیاست میں مداخلت شروع کی۔ ایک ریاست کو دوسری کے خلاف استعمال کیا۔ مقامی نوابوں اور درباریوں کو خریدا گیا۔ اور پھر وہ وقت آیا جب تجارت کرنے والی کمپنی نے فوج کھڑی کر لی۔
1757 میں پلّاسی کی جنگ ہوئی۔ بنگال کے نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی غداری کے ذریعے شکست دی گئی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ایسٹ انڈیا کمپنی پہلی بار صرف تاجر نہیں رہی بلکہ حکمران بن گئی۔ بنگال کی دولت انگریز خزانے میں بہنا شروع ہوئی۔ ہندوستان کے وسائل نے برطانیہ کے صنعتی انقلاب کو ایندھن فراہم کیا۔
1616 سے 1757 تک تقریباً 141 سال لگے کہ ایک تجارتی کمپنی سیاسی طاقت میں تبدیل ہو جائے۔ اور پھر 1757 سے 1857 تک مزید سو برس میں پورا برصغیر انگریز اقتدار کے شکنجے میں چلا گیا۔
1857 کی جنگِ آزادی دراصل اسی ملاقات کا آخری باب تھی۔ وہی کمپنی جس نے جہانگیر کے دربار میں اجازت مانگی تھی، دو صدیوں بعد دہلی کے لال قلعے پر قبضہ کر چکی تھی۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون جلا وطن کر دیا گیا۔
تاریخ کے عجیب منظر ہوتے ہیں۔ جہانگیر کے دربار میں شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ایک معمولی سا انگریز سفیر، جو دربار میں داخلے کے لیے ترس رہا ہے، آنے والے وقت میں ایسی طاقت کی بنیاد رکھ رہا ہے جو تاجِ مغلیہ ہی نہیں، پورے برصغیر کی قسمت بدل دے گی۔
یہ صرف ایک ملاقات نہیں تھی۔
یہ ہندوستان میں انگریز اقتدار کے پہلے قدم کی دستک تھی۔
ایک خاموش دستک… جس کی گونج دو سو سال تک سنائی دیتی رہی۔
