سونے کے سکے والی تھیلی۔

سونے کے سکے والی تھیلی۔

ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔

ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔”

رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔

بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟”

بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب دیا: “وہی تھیلی جو تم نے صندوق میں رکھی تھی؟”

بوڑھا بولا: “ہاں، مگر اب وہ جگہ محفوظ نہیں۔ آج کل گاؤں میں چور بہت گھوم رہے ہیں۔ ایسا کرو، تھیلی نکالو، ہم اسے کنویں میں چھپا دیتے ہیں۔”

چور یہ سن کر خوش ہوگیا۔ اس نے دل میں کہا: “واہ! خزانہ تو خود میرے ہاتھ آنے والا ہے!”

بوڑھا اور اس کی بیوی ایک بھاری تھیلا اٹھا کر باہر کنویں کی طرف لے گئے اور “چھپاک!” کی آواز کے ساتھ اسے کنویں میں پھینک دیا۔ حقیقت میں اس تھیلے میں صرف پتھر بھرے ہوئے تھے۔

بوڑھا واپس آکر سکون سے سو گیا، مگر چور ساری رات کنویں سے پانی نکالتا رہا تاکہ تھیلا حاصل کر سکے۔

صبح ہونے تک چور تھک کر چور ہوچکا تھا، کپڑے بھیگ گئے تھے، ہاتھ زخمی ہوگئے تھے، مگر کنواں خالی نہ ہوا۔

اتنے میں سورج نکل آیا اور گاؤں والے وہاں جمع ہوگئے۔ سب نے چور کو کنویں سے پانی نکالتے دیکھا تو حیران رہ گئے۔

بوڑھا مسکرا کر بولا: “بھائیو! یہی وہ چور ہے جو سب کے گھروں میں چوری کرتا تھا۔ آج اس نے خود اپنے آپ کو پکڑوا دیا۔”

چور شرمندگی سے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔

بوڑھے نے کہا: “یاد رکھو، طاقت سے زیادہ بڑی چیز عقل ہوتی ہے۔ عقل مند آدمی بغیر لڑائی کے بھی مشکل پر قابو پا لیتا ہے۔”

سبق:
عقل مندی وہ خزانہ ہے جو بڑے سے بڑے چالاک انسان کو بھی مات دے سکتی ہے۔
منقول

Leave a Reply

NZ's Corner