سورج ڈھل رہا تھا اور حویلی کے صحن میں سناٹا تھا۔ آج علی کے والد، چوہدری صابر کے دنیا سے رخصت ہوئے پورا ایک سال گزر چکا تھا۔
علی کو وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب اس کے والد زندہ تھے۔ حویلی میں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ چاچا، تایا، ماموں، خالاؤں اور تمام عزیز و اقارب کا آنا جانا لگا رہتا۔ باپ کا سایہ ایک ایسے گھنے درخت کی طرح تھا جس کے نیچے پورا خاندان پناہ لیے ہوئے تھا۔ والد صاحب کا رعب اور ان کی شفقت ایسی تھی کہ کوئی رشتے دار علی اور اس کی بہن کو نظر انداز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
لیکن باپ کے دنیا سے جاتے ہی، جیسے وقت کی ہوا کا رخ ہی بدل گیا۔
شروع کے چند ہفتے تو لوگ تعزیت کے بہانے آتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ حویلی کی رونقیں مانند پڑنے لگیں۔ چھ ماہ گزرتے گزرتے، جن چاچا اور تایا کی علی ہر بات مانتا تھا، انہوں نے زمین کی تقسیم پر تلخیاں پیدا کرنا شروع کر دیں۔ جن ماموں کے گھر علی بچپن میں پورا پورا مہینہ گزارتا تھا، انہوں نے اب فون اٹھانا بھی کم کر دیا تھا۔
ایک دن علی کو اپنی چھوٹی بہن کی یونیورسٹی کی فیس کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی۔ اس نے سوچا کہ تایا جان سے بات کی جائے، آخر وہ والد کے بڑے بھائی تھے۔ علی جب ان کے گھر پہنچا تو تایا نے بڑی بے فرخی سے کہا، “علی بیٹے! اب تم بڑے ہو گئے ہو، اپنے خرچے خود سنبھالنا سیکھو۔ باپ کے زمانے اور تھے، اب ہر کوئی اپنا دیکھتا ہے۔”
اس دن علی کو احساس ہوا کہ وہ رشتے دار جو کل تک والد کی عزت اور ان کے نام کی وجہ سے جڑے ہوئے تھے، وہ دراصل والد سے جڑے تھے، ان سے نہیں۔ باپ کا سایہ کیا اٹھا، جیسے سارے رشتوں کا وجود ہی ختم ہو گیا۔
علی حویلی کے صحن میں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ دنیا میں باپ ہی وہ واحد ستون ہوتا ہے جس پر پورے خاندان کا چھت ٹکا ہوتا ہے۔ ستون گر جائے تو چھت کے ساتھ ساتھ رشتے بھی بکھر جاتے ہیں۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور اپنی بہن کا ہاتھ تھام کر عزم کیا کہ اب اسے خود اپنے لیے اور اپنی بہن کے لیے ایک مضبوط درخت بننا ہے، کیونکہ باپ کے بعد دنیا صرف طاقت اور خود مختاری کو سلام کرتی ہے۔😭😭😭😭
