شیر پر سواری

شیر پر سواری


طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک آدمی جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمة اللہ علیہ کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔ راستے کی دُوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی۔
آخر ایک دن شوقِ زیارت نے اس کو بے تاب کر دیا۔ رخِ زیبا کی زیارت کے لئے سامانِ سفر باندھ لیا۔ راستہ کٹھن اور دشوار گزار تھا۔ لیکن وہ ہمت کا پکا تھا۔ کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پُر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزلِ مقصود تک پہنچ گیا۔ شہر خرقان میں آ کر اس نے شیخ ابوالحسن رحمة اللہ علیہ کے گھر کا پتا دریافت کیا۔ وہاں جا کر نہایت ادب کے ساتھ دروازے کی زنجیر ہلائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا کون ہے۔ اس نے جواب دیا! میں…… حضرت شیخ ابو الحسن رحمة اللہ علیہ کی قدم بوسی کے لئے شہر طالقان سے حاضرِ خدمت ہوا ہوں۔ اس عورت نے کہا واہ میاں درویش بھلا یہ بھی کوئی مقصد تھا جس کے لئے تُو نے اتنا طویل اور کٹھن سفر طے کیا۔ معلوم ہوتا ہے تُو نے دھوپ میں اپنی داڑھی سفید کی ہے۔ تمہاری عقل و دانش پر رونے کو جی چاہتا ہے۔ کیا تجھے اپنے وطن میں کوئی کام دھندا نہ تھا؟ عقیدت مند یہ ماجرا دیکھ کر ہکابکا رہ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ تاہم اس نے ہمت کر کے پوچھا کہ حقیقتِ حال کچھ بھی ہو، یہ تو بتائیے شیخ صاحب ہیں کہاں؟ چونکہ وہ عقیدت کا ہاتھ تھام کر آیا تھا، اس لئے خاموش رہا۔ عورت نے جواب دیا: ارے وہ کہاں کا شیخ اور شاہ بن گیا اس نے تو دھوکے کا جال بچھا رکھا ہے۔ تجھ جیسے احمقوں کو اپنی ولایت کے جال میں پھانستا ہے۔ اب بھی وقت ہے جہاں سے آیا ہے اُلٹے پاؤں واپس چلا جا، ورنہ اس دغا باز کے چکر میں پھنس کر تباہ و برباد ہو جائے گا۔ نہ دین کا رہے گا نہ دنیا کا۔ وہ بڑا حضرت ہے، اس کی زبان اور آنکھوں میں ایسا جادو ہے کہ اچھا خاصا عقل مند بھی اس کے فریب میں آ جاتا ہے۔
بھلا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کا یہی طریقہ تھا؟ ان جیسے لوگوں نے تو تقویٰ اور احکامِ شریعت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج تو ایک عمر رضی اللہ عنہ کی ضرورت ہے جو سختی سے ان لوگوں کا محاسبہ کرے۔
اب تو شیخ کے معتقد کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور کہنے لگا “چراغ تلے اندھیرا۔” بی بی شیخ کے انوارِ فیوض سے ایک دُنیا جگمگا رہی ہے اور ان کی عظمت نے افلاک کی رفعتوں کو چھو لیا ہے۔ “چاند پر تھوکنے والا اپنے منہ پر ہی تھوکتا ہے۔” کتا دریا میں گر جائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ آفتابِ عالم تاب پر لاکھ پھونکیں مارو وہ بجھ نہیں سکتا۔ چمگادڑ رات کے اندھیرے میں اُڑنے والی سورج کو نکلنے سے کیسے روک سکتی ہے۔ غرض درویش نے شیخ کی اہلیہ کو ایسی کھری کھری سنائیں کہ وہ اپنا سامنا لے کر رہ گئی۔
وہ آدمی وہاں سے نکل کر شہر کے لوگوں سے شیخ کا پتہ پوچھنے لگا۔ کسی نے بتایا کہ وہ جنگل کی طرف گئے ہوئے ہیں۔ یہ سنتے ہی وہ راہِ حق کا مسافر دیوانہ وار شیخ کی تلاش میں جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔ راستے میں…… شیطان نے اس کے دل میں وسوسے ڈالنے شروع کر دیئے۔ سمجھ میں نہیں آتا آخر شیخ صاحب نے ایسی بے ہودہ بدتمیز اور زبان دراز عورت کو اپنے گھر میں کیوں رکھا ہے۔ عجیب معاملہ ہے! یہ میاں بیوی آپس میں کس طرح زندگی گزارتے ہوں گے۔ “ایک آگ ہے اور دوسرا پانی” ان مجموعہ اضداد میں محبت کیسے ہو سکتی ہے۔ ایسے وسوسے آتے بے چارہ گھبرا کر لاحول پڑھتا اور کانوں کو ہاتھ لگاتا۔ شیخ کے بارے میں ایسے خیالات کو دل میں جاگزیں کرنا نادانی ہے انہیں سوچوں کا تانا بانا بنتا چلا جا رہا تھا کہ آخر دل نے کہا کہ اس میں بھی کوئی بھید ہو گا۔ وہ انہیں خیالات کی دنیا میں گم تھا کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی جو شیر کی پیٹھ پر اس شان سے سوار تھا کہ پیچھے لکڑیوں کا گٹھا لدا ہوا ہے اور ہاتھ میں سیاہ سانپ کا کوڑا ہے۔
عقیدت مند سمجھ گیا کہ یہی حضرت شیخ ابو الحسن خرقانی رحمة اللہ علیہ ہیں۔ اس سے پہلے کہ یہ کچھ عرض کرتا۔ شیخ نے دُور سے ہی مسکراتے ہوئے فرمایا: عزیزم! اپنے فریبی نفس کی باتوں میں نہ آ، اور ان پر دھیان نہ دے۔ ہمارا اکیلا پن اور جوڑا ہونا نفس کی خواہش کے لئے نہیں ہے۔ اللہ عزوجل کے حکم کی تعمیل کیلئے ہے۔ ہم اس جیسے سینکڑوں بے وقوفوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔ یہ گفتگو میں نے تیری خاطر کی ہے تاکہ تُو بھی بدخو ساتھی سے بنائے رکھے۔ تنگی کا بار ہنسی خوشی برداشت کر، کیونکہ صبر کشادگی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ بلند مقام اپنی بیوی کی بد زبانی پر صبر کرنے کی وجہ سے عطا فرمایا ہے اگر میں اس کی ہرزہ سرائیاں برداشت نہ کرتا تو یہ شیر میرا مطیع کیسے ہوتا۔

گر نہ صبر مےکشیدے بار زن
کے کشیدے شیرِ نر بیگار من

اگر میرا صبر اس عورت کا بوجھ نہ اٹھا سکتا تو یہ شیر میرا بوجھ کیسے اٹھاتا۔

درسِ حیات:
انسان کو ہر حال میں راضی بہ رضائے الٰہی رہنا چاہئے اور صبر و شکر سے کام لینا چاہئے۔ صبر کرنے سے ہی اعلیٰ مقاماتِ عرفان حاصل ہوتے ہیں۔

شاعرِ محبت:- حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ۔

Leave a Reply

NZ's Corner