ایک سرسبز و شاداب تالاب تھا، جس کے کناروں پر نرم گھاس لہلہاتی تھی، کنول کے پھول پانی پر مسکراتے تھے اور شام ڈھلے مینڈکوں کی ٹر ٹر ایک عجیب سی محفل سجا دیتی تھی۔
اسی تالاب میں ایک نوجوان مینڈک رہتا تھا۔
وہ باقی مینڈکوں کی طرح عام زندگی گزارنے پر راضی نہ تھا۔ اس کے دل میں بڑے بڑے خواب مچلتے رہتے تھے۔
وہ اکثر پانی میں اپنا عکس دیکھتا اور سوچتا:
“میں عام مینڈکوں جیسا نہیں ہوں۔ میری قسمت میں کچھ بڑا لکھا ہے!”
ایک شام جب تمام مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے، وہ اچانک ایک پتھر پر چڑھ گیا اور بلند آواز میں اعلان کیا:
“سنو! ایک دن میں تم سب کا بادشاہ بنوں گا!”
چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر پورا تالاب قہقہوں سے گونج اٹھا۔
ایک بوڑھا مینڈک ہنستے ہوئے بولا:
“بھئی، تم بادشاہ کیسے بنو گے؟”
دوسرا بولا:
“کیا تمہارے پاس تاج ہے؟”
تیسرا طنزاً بولا:
“یا تم نے بگلے کو اپنا وزیر بنا لیا ہے؟”
نوجوان مینڈک نے فخر سے گردن پھلائی۔
“نہیں! میں اپنی قابلیت سے بادشاہ بنوں گا۔”
“اور وہ کیسے؟”
سب نے بیک وقت پوچھا۔
مینڈک نے اعلان کیا:
“جو سب سے اونچی چھلانگ لگائے گا، وہی بادشاہ کہلائے گا!”
کچھ مینڈک ہنسے، کچھ نے سر ہلایا، اور کچھ نے دل ہی دل میں سوچا کہ یہ نیا تماشا بھی دیکھ لیتے ہیں۔
اگلی صبح پورا تالاب جمع ہو گیا۔
کنول کے پتوں پر تماشائی بیٹھ گئے، جھینگر خاموش ہو گئے، اور حتیٰ کہ کنارے پر بیٹھی کچھ بطخیں بھی دلچسپی سے منظر دیکھنے لگیں۔
نوجوان مینڈک آگے بڑھا۔
اس نے اپنے پٹھے کھینچے، سینہ پھلایا اور آسمان کی طرف دیکھ کر بولا:
“آج میں ثابت کر دوں گا کہ عظمت اونچی چھلانگ میں ہوتی ہے!”
پھر اس نے پوری قوت سے چھلانگ لگائی۔
وہ واقعی بہت اونچا گیا۔
اتنا اونچا کہ چند لمحوں کے لیے سب مینڈک حیرت سے اسے دیکھتے رہ گئے۔
مگر قسمت اکثر غرور کے تماشے خاموشی سے دیکھ رہی ہوتی ہے۔
اسی وقت آسمان سے ایک بگلا گزر رہا تھا۔
اس نے ہوا میں اچھلتے ہوئے مینڈک کو دیکھا، چونچ کھولی، اور…
چٹاک!
مینڈک سیدھا اس کے منہ میں جا گرا۔
نہ تاج ملا، نہ تخت، نہ بادشاہی۔
صرف بگلے کا ناشتہ بن گیا۔
تالاب پر خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر بعد ایک بوڑھے مینڈک نے گہری سانس لی اور کہا:
“بیچارہ بادشاہ بننا چاہتا تھا…”
دوسرے نے افسوس سے سر ہلایا۔
“…مگر بگلے کا ناشتہ بن گیا۔”
تیسرے نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا:
“کبھی کبھی بہت اونچا جانے کی جلدی، سیدھا مصیبت کے منہ تک پہنچا دیتی ہے۔”
اس دن کے بعد تالاب کے مینڈکوں نے بادشاہ بننے کے منصوبے ترک کر دیے۔
وہ اپنی کنول کی تخت گاہوں پر بیٹھتے، شام کو ٹر ٹر کرتے اور زندگی کے معمولی مگر محفوظ لطف سے لطف اندوز ہوتے۔
اور جب بھی کوئی نوجوان مینڈک غیر معمولی دعوے کرتا، بوڑھے مینڈک مسکرا کر صرف اتنا کہتے:
“بیٹا، بگلے ابھی بھی آسمان میں اڑتے ہیں!”
سبق
بڑا خواب دیکھنا بری بات نہیں، مگر اپنی صلاحیت، حالات اور خطرات کو نظرانداز کر دینا دانش مندی نہیں۔
ہر بلندی کامیابی کی طرف نہیں جاتی؛ بعض اوقات وہ شکاری کی چونچ تک بھی پہنچا دیتی ہے۔
منقول
