ایک صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنے بیٹے کو پاس بلایا اور کہا:
“بیٹا! جب میرا انتقال ہو جائے تو میری ایک آخری خواہش ضرور پوری کرنا۔ مجھے میرے پرانے موزے پہنا کر دفن کرنا۔”
بیٹے نے حیرت سے پوچھا:
“ابا جان! آپ یہ کیسی خواہش کر رہے ہیں؟”
والد نے صرف اتنا کہا:
“وقت آنے پر تم خود سمجھ جاؤ گے۔”
کچھ عرصے بعد وہ صاحب انتقال کر گئے۔
بیٹے نے غسل اور کفن کا انتظام شروع کیا تو اسے اپنے والد کی آخری خواہش یاد آئی۔ اس نے عالمِ دین سے کہا:
“حضرت! میرے والد کی خواہش تھی کہ انہیں ان کے پرانے موزے پہنا کر دفن کیا جائے۔”
عالمِ دین نے نرمی سے جواب دیا:
“بیٹا! میت کو شریعت کے مطابق کفن دیا جاتا ہے، اس لیے موزے پہنانے کی اجازت نہیں۔”
بیٹے نے بہت اصرار کیا، مگر عالمِ دین اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
بیٹا خاموش اور اداس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ایک شخص وہاں آیا اور اسے ایک خط دیتے ہوئے بولا:
“یہ خط تمہارے والد نے مجھے دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد یہ تمہیں دے دوں۔”
بیٹے نے کانپتے ہاتھوں سے خط کھولا۔
اس میں لکھا تھا:
“میرے پیارے بیٹے!
آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ انسان چاہے کتنی ہی دولت، جائیداد، کاروبار، گاڑیاں اور دنیاوی آسائشیں جمع کر لے، موت کے بعد وہ ایک بوسیدہ موزہ بھی اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔
میں نے تمہیں یہ بات سمجھانے کے لیے یہ خواہش کی تھی۔
کہ تمہارے ساتھ صرف تمہارے اعمال جائیں گے۔
بیٹے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
اس دن اسے اپنے والد کی عجیب سی وصیت کا اصل مطلب سمجھ آ گیا تھا۔
مال اور اولاد دنیا کی زندگی کی زینت ہیں، اور باقی رہنے والی نیکیاں تمہارے رب کے ہاں بہتر ہیں۔”

