عقل مند کسان اور چالاک نائی

               عقل مند کسان اور چالاک نائی



پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے سرسبز قصبے میں “رحیم بخش” نامی ایک غریب لیکن بہت سمجھدار کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس زمین کا ایک چھوٹਾ سا ٹکڑا تھا جس پر وہ دن رات محنت کرتا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالتا تھا۔ قصبے کے لوگ اس کی دیانت داری اور حاضر دماغی کی وجہ سے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔
اسی قصبے میں ایک نائی رہتا تھا جس کا نام “فتح علی” تھا۔ فتح علی کو اپنی چالاکی اور زبان درازی پر بڑا ناز تھا۔ وہ سارا دن دکان پر بیٹھ کر لوگوں کے بال کاٹنے کے بہانے قصبے کی جھوٹی سچی خبریں اکٹھی کرتا اور لوگوں کو باتوں میں الجھا کر ان کی جیبیں ہلکی کرنے کے نت نئے طریقے سوچتا رہتا تھا۔


ایک دن فتح علی نے سوچا کہ کیوں نہ اس عقل مند کسان رحیم بخش کو کسی طرح بیوقوف بنایا جائے تاکہ پورے قصبے میں اس کی دھاک بیٹھ جائے کہ اس سے زیادہ چالاک انسان اس خطے میں کوئی نہیں۔
اگلے دن جب رحیم بخش اپنے کھیت سے فارغ ہو کر قصبے کے بازار سے گزر رہا تھا، تو فتح علی نے اپنی دکان کے تختے پر بیٹھے بیٹھے زور سے آواز دی:
“ارے رحیم بخش بھائی! ذرا ادھر تو آنا۔ اتنی جلدی کہاں کی ہے؟ آج تم پر کون سی افتاد ٹوٹی ہے جو سلام کیے بغیر ہی نکلے جا رہے ہو؟”
رحیم بخش مسکراتا ہوا دکان کے پاس آ گیا اور بولے: “سلام فتح علی بھائی! ایسی کوئی بات نہیں، بس گھر کا کچھ کام یاد آ گیا تھا۔ کہو، آج کیسے یاد کیا؟”
فتح علی نے ایک مکارانہ مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجائی اور بولا: “بھائی بات یہ ہے کہ میں نے سنا ہے تم بڑے عقل مند ہو اور ہر بات کا فوراً جواب دے دیتے ہو۔ آج میرا دل ایک شرط لگانے کو چاہ رہا ہے۔ بولو، لگاؤ گے شرط؟”
رحیم بخش نے کہا: “بھائی! ہم غریب لوگ شرطوں کے چکر میں نہیں پڑتے، لیکن اگر بات عزت کی ہے تو بتاؤ، کیا شرط ہے؟”

فتح علی نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا: “شرط یہ ہے کہ میں تم سے ایک ایسا سوال پوچھوں گا جس کا جواب تم نہ دے پائے تو تمہیں اپنے کھیت کے اس سال کے گندم کا ادھا حصہ مجھے دینا پڑے گا، اور اگر تم نے صحیح جواب دے دیا تو میں تمہیں ایک سونے کا سکہ دوں گا۔ منظور ہے؟”
رحیم بخش نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر سر ہلا کر کہا: “چلو بھئی، منظور ہے۔ پوچھو اپنا سوال!”

فتح علی نے دکان کے دروازے پر کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھا، لوگوں کا ایک مجمع اکٹھا ہو چکا تھا، کیونکہ قصبے میں مفت کا تماشا دیکھنے کا موقع کون چھوڑتا!
فتح علی نے سینہ پھلا کر سوال داغا:
“یہ بتاؤ کہ وہ کون سی چیز ہے جو زمین پر پیدا ہوتی ہے، جسے انسان اپنے سر پر رکھتا ہے، لیکن وہ نہ تو کبھی کھائی جاتی ہے، نہ پہنی جاتی ہے، اور نہ ہی اسے بازار میں بیچا جا سکتا ہے؟ بتاؤ اگر تم واقعی عقل مند ہو!”
مجمع میں سناٹا چھاگیا۔ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے کہ بھلا ایسی کون سی چیز ہو سکتی ہے جو زمین سے اگے، سر پر رکھی جائے مگر کسی کام کی نہ ہو۔ سب کی نظریں اب رحیم بخش پر تھیں کہ وہ کیا جواب دیتا ہے۔
فتح علی فتح مندانہ انداز میں مسکرا رہا تھا اور دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ اس بار تو گندم کا سارا انبار اس کے ہاتھ لگنے ہی والا ہے۔

رحیم بخش نے ذرا بھی گھبرائے بغیر، اپنے ماتھے سے پسینہ پونچھا، ایک گہرا سانس لیا اور اپنے سر پر بندھی ہوئی پرانی پگڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے آرام سے بولا:
“فتح علی بھائی! تمہارا سوال جتنا مشکل دکھائی دیتا تھا، اس کا جواب اتنا ہی سادہ ہے۔ وہ چیز اور کچھ نہیں بلکہ ‘مٹی’ ہے!”
مجمع نے حیرت سے پوچھا: “مٹی؟ وہ کیسے؟”
رحیم بخش نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی: “دیکھو بھئی! مٹی زمین پر ہی پیدا ہوتی ہے (یا زمین کا ہی حصہ ہوتی ہے)۔ جب ہم کھیتوں میں کام کرتے ہیں یا آندھی چلتی ہے، تو یہ اڑ کر ہمارے سر اور بالوں پر پڑتی ہے۔ اب نہ تو کوئی اسے شوق سے کھاتا ہے، نہ ہی کوئی اسے کپڑے کی طرح پہن سکتا ہے، اور نہ ہی کوئی دکان پر اس کی کوئی قیمت لگا کر بیچ سکتا ہے!”
انجامِ کار
رحیم بخش کا یہ جواب سن کر دکان پر موجود تمام لوگ زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ فتح علی کا منہ دیکھنے کے لائق رہ گیا؛ اس کا رنگ پھیکا پڑ چکا تھا اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔
مجمع میں سے ایک بزرگ نے آگے بڑھ کر رحیم بخش کی پیٹھ تھپتپائی اور بولے: “واہ رے رحیم بخش! تم نے تو واقعی ثابت کر دیا کہ عقل بڑی یا بھینس!”
فتح علی کو مجبوراََ اپنی ہار ماننی پڑی اور سب کے سامنے اپنا وہ وعدہ پورا کرنا پڑا، لیکن اس دن کے بعد اس نے کبھی کسی کو عقل کی آزمائش میں الجھانے کی حماقت نہیں کی۔
اور اس طرح، پرانے زمانے کا وہ کسان اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے پورے علاقے میں ایک بار پھر ہیرو بن گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner