اصغر صاحب ریٹائرڈ سرکاری ملازم تھے۔ ساری زندگی انہوں نے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے میں گزار دی تھی۔ اب پنشن معمولی تھی، مگر دل مطمئن تھا۔
ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب کی شادیاں ہو چکی تھیں اور اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف تھے۔
اصغر صاحب اکثر اپنے بڑے بیٹے افضل کو فون کرتے۔
“بیٹا، فرصت ملے تو گھر آ جایا کرو… تمہیں دیکھے بہت دن ہو گئے ہیں۔”
افضل ہر بار یہی کہتا:
“ابا، ضرور آؤں گا… بس کام ذرا کم ہو جائے۔”
اصغر مسکرا کر کہتے:
“کام تو چلتا ہی رہتا ہے بیٹا۔”
پھر خاموش ہو جاتے۔
ایک جمعرات کو اصغر نے دوبارہ افضل کو فون کیا۔
“بیٹا، اس اتوار آ سکو تو ضرور آنا۔ تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔”
افضل نے پوچھا:
“ابا، خیریت تو ہے؟”
اصغر ہنسے:
“ہاں بیٹا، بالکل خیریت ہے۔ یہ بات فون پر نہیں بتاؤں گا… سامنے بیٹھ کر کریں گے۔”
افضل نے وعدہ کیا:
“ٹھیک ہے ابا، اتوار کو پکا آؤں گا۔”
فون بند ہوا تو اصغر کے چہرے پر ایسی خوشی تھی جیسے کوئی بچہ عید کا انتظار کر رہا ہو۔
انہوں نے اپنی بیوی شمیم سے کہا:
“میرا افضل اتوار کو آ رہا ہے۔ اس کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنانا۔”
شمیم بھی مسکرا دیں۔
مگر ہفتے کی رات افضل کے دفتر میں ایک ضروری کام نکل آیا۔ پوری رات وہ رپورٹ بنانے میں لگا رہا۔
صبح اس نے والد کو فون کیا:
“ابا، آج آنا مشکل ہو گیا ہے۔ دفتر میں بہت ضروری کام ہے۔ اگلے اتوار پکا آؤں گا۔”
دوسری طرف کچھ لمحے خاموشی رہی۔
پھر اصغر نے آہستہ سے کہا:
“اچھا بیٹا… کوئی بات نہیں۔ کام ضروری ہے۔ اگلے اتوار ہی سہی۔”
پھر کچھ رک کر بولے:
“بس ایک بات تم سے سامنے بیٹھ کر کرنی تھی… اب اگلے اتوار بتا دوں گا۔”
افضل نے بے فکری سے جواب دیا:
“جی ابا، اگلے اتوار ضرور۔”
لیکن…
وہ اگلا اتوار کبھی نہیں آیا۔
اگلی صبح شمیم کی گھبرائی ہوئی کال آئی:
“افضل… بیٹا جلدی گھر آ جاؤ!”
“امی، کیا ہوا؟ ابا ٹھیک ہیں؟”
دوسری طرف سسکیاں تھیں۔
“رات سے ان کے سینے میں درد تھا… اسپتال لے جانے کی کوشش کی، مگر راستے میں ہی…”
شمیم کی آواز ٹوٹ گئی۔
افضل کے ہاتھ سے فون چھوٹ گیا۔
وہ فوراً گھر روانہ ہوا۔
گھر پہنچ کر سب سے پہلے اس کی نظر صحن میں رکھی اپنے ابا کی کرسی پر پڑی۔
وہی کرسی…
جس پر اصغر صاحب ہر شام دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے بیٹھا کرتے تھے۔
افضل آہستہ سے اس کرسی کے پاس بیٹھ گیا۔
اس کے کانوں میں ابا کے آخری الفاظ گونج رہے تھے:
“بس ایک بات تم سے سامنے بیٹھ کر کرنی تھی…”
افضل نے سر پکڑ لیا۔
“ابا… وہ بات بتا تو دیتے!”
مگر اب جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد شمیم اس کے پاس آئیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا کپڑے کا تھیلا تھا۔
“یہ تمہارے ابا نے تمہارے لیے رکھا تھا۔”
افضل نے تھیلا کھولا۔
اندر ایک پرانی گھڑی تھی۔
وہی گھڑی جو اصغر صاحب نے اپنی پہلی تنخواہ سے خریدی تھی۔
ساتھ ایک پرچی بھی تھی۔
افضل نے کانپتے ہاتھوں سے پرچی کھولی۔
اس پر لکھا تھا:
“یہ گھڑی افضل کو دے دوں گا۔ اسے یاد رہے کہ زندگی میں وقت سے قیمتی چیز کوئی نہیں۔”
افضل کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
شمیم نے آہستہ سے کہا:
“تمہارے ابا تمہیں ایک اور بات بھی کہنا چاہتے تھے۔”
افضل نے سر اٹھایا۔
“وہ کہتے تھے گھر کی تھوڑی مرمت کروا لیں گے… پھر سب بچوں کو ایک ساتھ بلائیں گے۔ کہتے تھے، زندگی بھر بچوں کے لیے گھر بنایا، اب آخری عمر میں بس ایک بار سب کو ایک ساتھ اس صحن میں دیکھنا چاہتا ہوں۔”
افضل کی نظریں جھک گئیں۔
اب اسے سمجھ آیا…
ابا اسے کسی کام کے لیے نہیں بلا رہے تھے۔
وہ صرف اپنے بکھرے ہوئے بچوں کو ایک بار پھر اکٹھا دیکھنا چاہتے تھے۔
افضل نے روتے ہوئے پوچھا:
“امی… ابا مجھ سے ناراض تو نہیں تھے؟”
شمیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“نہیں بیٹا… آخری وقت تک یہی کہتے رہے کہ افضل مصروف ہے، اس کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔”
افضل پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
باپ آخری وقت تک بھی بیٹے کا دفاع کرتا رہا۔
اس نے خالی کرسی کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولا:
“ابا… آپ نے صرف ایک اتوار مانگا تھا۔”
کچھ عرصے بعد افضل نے اپنے بہن بھائیوں کو بلایا۔
برسوں بعد سب ایک ہی صحن میں اکٹھے بیٹھے تھے۔
وہی گھر…
وہی صحن…
وہی کرسی…
مگر اصغر صاحب نہیں تھے۔
افضل نے ابا کی گھڑی اپنی کلائی پر باندھی اور بہن بھائیوں سے کہا:
“ابا ہمیں آخری بار ایک ساتھ دیکھنا چاہتے تھے۔ ہم ان کی یہ خواہش پوری نہیں کر سکے… لیکن امی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔”
سب کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اس دن سب کو احساس ہوا کہ:
والدین کو ہمیشہ ہماری دولت نہیں چاہیے ہوتی،
کبھی کبھی انہیں صرف ہمارا وقت چاہیے ہوتا ہے۔
ایک ملاقات…
ایک فون کال…
کچھ دیر ساتھ بیٹھنا…
اور کبھی صرف اتنا کہنا:
“ابا، امی… آپ ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔”
اس لیے والدین کو بار بار “پھر کبھی” پر مت چھوڑیں۔
کیونکہ جس ملاقات کو ہم اگلے اتوار تک مؤخر کرتے ہیں…
کبھی کبھی وہی اگلا اتوار زندگی بھر کا پچھتاوا بن جاتا ہے۔ 🥀
ابا کا آخری انتظار…..ایک وعدہ جو پورا نہ ہو سکا🥺

