چار دوست

چار دوست

صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے۔ ان کے نام فہد، دانش، اسلم اور شجاع تھے۔ وہ چاروں اکیلے تھے، اس دنیا میں ان کا کوئی اپنا باقی نہ رہا تھا، لہذا انہوں نے اکٹھے رہنے کا فیصلہ کیا اور آپس میں تہیہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں گے اور کبھی ایک دوسرے کو دھوکا نہیں دیں گے۔
ان چاروں میں سے شجاع بہت خوب صورت تھا، صورت کے ساتھ ساتھ اس کی سیرت بھی بہت اچھی تھی۔ وہ نیک سوچ رکھنے والا لڑکا تھا جبکہ باقی تینوں شر کی طرف مائل تھے۔ وہ اکثر الٹے سیدھے کام کرتے رہتے۔ ایک دن ان تینوں نے سوچا کہ انہیں ایک گروہ بنا کر ڈاکہ زنی شروع کرنی چاہیے تاکہ وہ جلد از جلد مال دار بن جائیں، مگر شجاع نے یہ تجویز سختی سے رد کر دی اور کہا:
“دوستو، کیا تم یہ پسند کرو گے کہ کوئی تمہارے گھر گھسے اور تمہارا محنت سے کمایا ہوا مال چرا لے؟”
تینوں نے انکار میں سر ہلایا اور بولے: “ہم کسی کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”
شجاع مسکرایا اور بولا: “تو پھر تم دوسروں کی کمائی کیوں چرانا چاہتے ہو؟”
تینوں لاجواب اور خاموش ہو گئے۔ شجاع ان سے ناراض ہو کر باہر نکل گیا تھا، مگر وہ باز نہ آئے اور اندر ہی اندر کھچڑی پکاتے رہے۔ ایک دن وہ جمع ہوئے اور کہنے لگے:
“ہمیں ایک خفیہ گروہ بنا لینا چاہیے اور کسی نہ کسی طرح شجاع سے بھی پیچھا چھڑانا ہوگا، تاکہ وہ بعد میں ہمارا راز ظاہر نہ کر دے۔”
“اس کی ترکیب میں نے سوچ لی ہے۔” اسلم نے کہا تو باقی دو چونکے۔
“ہمیں بھی بتاؤ نا۔” انہوں نے اسلم سے پوچھا۔
“ضرور کیوں نہیں، ترکیب یہ ہے کہ تم جا کر شجاع سے کہو کہ ہم نے ڈاکہ زنی کی سوچ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی ہے اور اب ہم جلد ہی ڈھنگ کا کوئی کام شروع کر دیں گے۔ اس کے بعد کل صبح میرا دوست بہروپیا آئے گا اور باقی ترکیب اس کی مدد سے مکمل ہوگی۔” اسلم نے کہا تو ان دونوں نے اسے شک بھری نگاہوں سے دیکھا، پھر فہد بولა:
“یہ کیسی ترکیب ہے؟”
“فہد درست کہہ رہا ہے، اس سے تو کہیں یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہم شجاع سے پیچھا چھڑا لیں گے۔” دانش نے بھی فہد کی تائید کی۔
اسلم دھیرے سے مسکرا دیا اور کہا: “دوستو، میں نے بتایا تو ہے کہ کل میرا دوست بہروپیا آئے گا، لہذا باقی جو کچھ ہوگا تم خود ہی دیکھ لینا۔” اسلم کی بات سن کر وہ کندھے اچکا کر رہ گئے۔
اگلی صبح منہ اندھیرے ہی ان کا دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا گیا۔ فہد آنکھیں ملتا ہوا بیدار ہوا اور جا کر دروازہ کھولا۔
“کون ہو تم اور اتنے زور سے دروازہ کیوں پیٹ رہے ہو؟” اس نے باہر کھڑے شخص کو بغور دیکھتے ہوئے پوچھا۔
اس دوران باقی تینوں بھائی بھی بیدار ہو چکے تھے۔ باہر ٹھہرے شخص نے فہد کو عجیب سی نگاہوں سے دیکھا اور بولا:
“میں ہوں بہروپیا… جانتا ہوں اسرار… ہر ایک خبر و اخبار… تلاش کیا لیل و نہار…”
“تم کسے تلاش کر رہے ہو اور یہ کیا شعر و شاعری شروع کر دی ہے؟” فہد سچ مچ پریشان ہو گیا تھا۔ اب اس کے باقی ساتھی بھی دروازے پر آچکے تھے۔
“میں ایک ایسے شخص کو تلاش کر رہا ہوں جس کی کلائی پر پتے کی طرح کا نشان ہے اور اس کا نام ش سے شروع ہوتا ہے، میرے خفیہ علم کے مطابق وہ اسی مکان میں رہتا ہے۔” بہروپیا نے بدستور پرسرار لہجے میں کہا۔
اس کی بات سن کر اسلم کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی جبکہ باقی دونوں حیرت کے عالم میں شجاع کو دیکھنے لگے۔ شجاع بھی حیران تھا۔ اسلم نے جھٹ سے اس کی کلائیوں سے کپڑا ہٹایا اور بہروپیا کا بتایا ہوا نشان تلاش کرنے لگا۔ جلد ہی دائیں کلائی پر وہ نشان مل گیا۔
“اف، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں!” اسلم نے کانپتی آواز میں کہا۔
چند لمحے خاموشی میں گزر گئے، پھر فہد بولا: “اے بہروپیا! ہمارے اس بھائی کا نام ش سے شروع ہوتا ہے، اس کا نام شجاع ہے اور اس کی کلائی پہ پتے جیسا نشان بھی ہے، اب تم بتاؤ تمہیں اس سے کیا کام ہے؟”
بہروپیا ان کے قریب ہوا اور پھر وہ شجاع کے سامنے جھک گیا۔ ساتھ ہی اس کی لجاجت بھری آواز سنائی دی: “اے عظیم شجاع، میں آپ کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں۔”
شجاع گڑبڑا گیا اور اسے پکڑ کر اٹھاتے ہوئے بولا: “میں آپ کو نہیں جانتا، لیکن آپ میرے بارے میں کیسے جانتے ہیں؟”
“میں خفیہ علوم کا ماہر ہوں عظیم شجاع، مجھے وادیٔ نصرت کے جادوگر نے آپ کی تلاش پر مامور کیا ہے، کیوں کہ آپ جادوئی آواز کے مالک ہیں اور آپ کے منہ سے نکلنے والی آواز ہی سے خزانے والے غار کا دہانہ کھلے گا۔” بہروپیا نے پوری تفصیل بتائی۔
“لیکن یہ وادیٔ نصرت کہاں ہے اور میں وہاں تک کیسے پہنچوں گا؟” شجاع نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
“وادیٔ نصرت یہاں سے مشرق کی طرف واقع ہے اور اس طرف جانے کا راستہ نہایت خطرناک ہے۔” بہروپیا نے کہا۔
“تو پھر میں کیسے جا سکتا ہوں؟ میں کسی مشکل میں نہیں پڑنا چاہتا اور نہ ہی مجھے خزانے سے کوئی غرض ہے۔” شجاع نے انکار کرنے والے انداز میں کہا۔
“ارے نہیں عظیم شجاع، آپ بے فکر رہیں۔ آپ کے راستے میں آنے والی مشکلات کا حل اس میں ہے۔” بہروپیا نے یہ کہتے ہوئے ایک تھیلی اس کے سامنے لہرائی۔
“یہ کیا ہے؟” وہ سب بولے۔
“اس تھیلی میں جادوئی دانے ہیں، راستے میں جو مشکل درپیش ہو تو اس میں سے ایک دانہ نکال کر کھا لینا، اسی وقت وہ مشکل دور ہو جائے گی۔ کاش آپ کے ساتھ میں بھی جا سکتا لیکن یہ شرط ہے کہ آپ اکیلے جائیں۔” بہروپیا نے حسرت بھرے انداز میں کہا۔
تھوڑی سی پس و پیش کے بعد شجاع بہروپیے کی باتوں میں آ گیا اور خزانے والے غار کی طرف جانے پر رضامند ہو گیا۔ اس کے دوستوں نے اس کے لیے سامانِ سفر تیار کیا اور اسے روانہ کر دیا۔
شجاع کو روانہ کرنے کے بعد وہ تینوں گھر میں بیٹھے قہقہے لگا رہے تھے۔ فہد بولا: “یار بہروپیا، تم تو بہت بڑے اداکار ہو۔”
“ہا ہا ہا!” بہروپیا ہنسا۔
“ہاں واقعی بہروپیا، مجھے تو یہ سب سچ لگنے لگا تھا۔” دانش نے کہا تو اسلم بھی ہنس پڑا۔
“دیکھا میری ترکیب کیسے کامیاب رہی!” اسلم نے فخریہ انداز میں کہا۔
“ہاں بالکل، مگر وہ جادوئی دانے کیسے تھے؟” فہد نے پوچھا۔
“وہ خطرناک زہر تھا دوستو، پہلا دانا کھاتے ہی شجاع کا کام تمام ہو جائے گا۔” بہروپیا نے بتایا۔
“اوہ!” وہ چونکے۔
“ہاں، اور اب ہم اپنا گروہ بنا کر ڈاکے کی منصوبہ بندی شروع کریں۔” اسلم نے کہا تو وہ سب سر ہلانے لگے۔
شجاع کئی دن سے مسلسل سفر کر رہا تھا اور مشرق کی طرف چلتے ہوئے کئی شہر اور جنگل عبور کر چکا تھا، لیکن ابھی تک اسے وادیٔ نصرت کا کوئی سراغ نہ ملا تھا، نہ ہی لوگ اس نام سے واقف تھے، اور واقف بھی کیسے ہوتے، اس نام کا کوئی مقام روئے زمین پر موجود ہی نہیں تھا، کیوں کہ وہ سب تو بہروپیے کا جھوٹ تھا۔
یہ آٹھواں روز تھا، شام ہو چکی تھی اور اندھیرا پھیل رہا تھا۔ شجاع درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس روکا اور یہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے گھوڑا درخت کے نیچے باندھا اور آگ جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کرنے لگا۔ اچانک اس نے دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنیں اور گرد و غبار اڑتے دیکھا۔ وہ فوراً ایک درخت پر چڑھ گیا اور خود کو پتوں میں چھپا لیا۔
آوازیں قریب آنے لگیں اور پھر گھڑ سواروں کا ایک گروہ وہاں آن پہنچا۔ وہ سب تیز تیز آواز میں باتیں کر رہے تھے، جب انہوں نے وہاں ایک گھوڑے کو تنہا کھڑے دیکھا تو حیران ہوئے۔ ان کی آپس کی باتوں سے شجاع پر یہ انکشاف ہوا کہ وہ سب پیشہ ور ڈاکو ہیں اور ایک بادشاہ کے محل میں ڈاکا ڈال کر آئے ہیں۔ شجاع یہ سن کر بہت خوف زدہ ہو گیا۔
گھڑ سوار شجاع کے گھوڑے کی تلاشی لینے لگے اور ان کی نظر شجاع کی جادوئی دانوں والی تھیلی پر جم گئی۔ اس تھیلی پر بہروپیے نے لکھ دیا تھا: “جادوئی دانے، ایک دانہ دے شیر جیسی طاقت۔”
یہ پڑھ کر ڈاکو بہت خوش ہوئے اور باری باری دانے کھانے لگے۔ ساتھ ہی ان کے قصے بلند ہو رہے تھے، مگر اگلے لمحے بہت عجیب تھے۔ شجاع نے ان سب کو گرتے ہوئے دیکھا، یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں گہری نیند نے ڈھانپ لیا ہو۔ شجاع نے سوچا صبح تک درخت پر ہی رہنا بہتر ہے، اور پھر یہ بھیانک رات گزر گئی۔
صبح ہوئی تو شجاع نے نیچے جھانکا۔ سبھی ڈاکو ٹیڑھے میڑھے انداز میں پڑے ہوئے تھے، اور ان کے گھوڑے ہنہنا رہے تھے مگر کوئی بھی ڈاکو حرکت نہیں کر رہا تھا۔ شجاع نے دیکھا کہ ایک دو گھوڑوں کے سم بھی ڈاکوؤں کو لگے مگر پھر بھی وہ نہ ہلے، تب شجاع کو احساس ہوا کہ ڈاکو مر چکے ہیں۔ وہ لرزتا کانپتا نیچے اترا اور قریب آ کر دیکھا، سبھی ڈاکوؤں کے جسم نیلے پڑ چکے تھے اور ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔
“اف، تو کیا بہروپیے نے مجھے زہریلے دانے دیے تھے؟” شجاع سوچنے لگا۔ “اف، تو کیا اس نے سب کچھ جھوٹ کہا تھا؟ وادیٔ نصرت اور سونے کا راز سب فریب تھا؟”
رفتہ رفتہ شجاع پر حقیقت کھل رہی تھی، وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کے دوستوں نے اس سے پیچھا چھڑانے کے لیے یہ ناٹک کیا تھا۔ اسے بے حد دکھ ہوا۔ اس نے ڈاکوؤں کی تلاشی لی اور اسے پتہ چل گیا کہ انہوں نے کس بادشاہ کا محل لوٹا ہے۔ اس نے دیکھا سب گھوڑے ہیرے جواہرات سے لدے ہوئے ہیں۔ اس نے سب کو رسی کی مدد سے قطار میں باندھا اور انہیں ہانکتا ہوا بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑا۔
ایک دن کے بعد وہ محل پہنچ گیا۔ بادشاہ کی ریاست میں اس ڈاکے کی وجہ سے سوگ کا سماں تھا، مگر جب شجاع لوٹے ہوئے مال کے ساتھ واپس آیا اور ساری کہانی گوش گزار کی تو بادشاہ بے حد خوش ہوا اور شجاع کو اپنا وزیر بننے کی درخواست کی، جس پر شجاع نے بادشاہ کا شکریہ ادا کیا اور یہ پیشکش قبول کر لی۔
یوں نیک طبیعت شجاع کو ایمانداری کے صلے میں وزارت مل گئی جبکہ اس کے لالچی دوستوں نے ڈاکہ زنی کا کام شروع کر دیا اور چند وارداتوں کے بعد ہی وہ پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت سنا دی گئی۔ شجاع اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا تھا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اچھی زندگی گزارنے کا موقع عطا کیا، اس نے عزم کیا کہ وہ ہمیشہ ایمانداری کو اپنا شعار بنائے گا۔
سبق آموز کہانیوں کے لیے پیج کو فالو کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner