شہر کے ایک بازار میں زاہد نام کا ایک غریب لڑکا کپڑے بیچ کر اپنی بوڑھی اور نابینا ماں کا سہارا بنا ہوا تھا۔
ایک دن ماں نے کہا:
“بیٹا! میری چپل ٹوٹ گئی ہے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے پاؤں میں کنکریاں چبھتی ہیں۔ اگر ممکن ہو تو میرے لیے ایک نئی چپل لے آنا۔”
زاہد نے فوراً وعدہ کر لیا، مگر اگلے تین دن بازار میں اتنا مندا رہا کہ جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، وہ صرف گھر کے کھانے کے لیے کافی ہوتے۔
ہر شام زاہد شرمندگی سے خالی ہاتھ گھر لوٹتا۔
ایک رات اس نے اندھیرے میں ماں کے پاؤں دیکھے تو اس کے دل کو دھچکا لگا۔ پاؤں پر کنکریوں کے چھوٹے چھوٹے زخم تھے۔
زاہد نے ماں کے پاؤں اپنے ہاتھوں میں لیے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ اللہ سے فریاد کرنے لگا:
“یا اللہ! میں کتنا مجبور ہوں کہ اپنی ماں کی ایک چپل بھی نہیں خرید سکتا۔ میری مدد فرما۔”
اگلی صبح ایک امیر شخص زاہد کی دکان پر آیا۔ اس نے کپڑوں کا ایک بڑا آرڈر دیا اور اچھی خاصی رقم ایڈوانس میں زاہد کے ہاتھ پر رکھ دی۔
زاہد حیران ہو کر اسے دیکھنے لگا۔
اس شخص نے کہا:
“رات میں ایک ایسا خواب دیکھا جس نے میرے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ صبح اٹھتے ہی دل میں آیا کہ کسی ضرورت مند کی مدد کروں، اسی لیے تمہاری دکان پر آ گیا۔”
زاہد کی آنکھوں سے شکر کے آنسو بہنے لگے۔
وہ فوراً بازار گیا، ماں کے لیے ایک خوبصورت اور آرام دہ چپل خریدی اور گھر پہنچ کر اپنے ہاتھوں سے ماں کے پاؤں میں پہنا دی۔
ماں نے حیرت سے پوچھا:
“بیٹا! یہ کہاں سے آئی؟”
زاہد نے روتے ہوئے ماں کا ہاتھ چوما اور کہا:
“ماں! آپ نے زمین پر صرف ایک چپل مانگی تھی… مگر آپ کے اس مجبور بیٹے کے آنسو دیکھ کر اللہ نے عرش سے آپ کی چپل کا انتظام فرما دیا۔”
ماں نے بیٹے کو سینے سے لگا لیا، اور دونوں کی آنکھوں سے شکر کے آنسو بہنے لگے۔
سبق:
اللہ کے سامنے بہنے والا سچا آنسو کبھی بےکار نہیں جاتا۔ مدد کب اور کس راستے سے آئے گی، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔ ❤️

