ایک مالی تھا جس نے اپنی ساری عمر باغ لگانے میں صرف کی تھی ۔ اس کا باغ جنت کے کسی باغ سے کم نہ تھا۔ وہاں طرح طرح کے پھل پھول موجود تھے۔ جن کی خوشبوؤں سے دماغ معطر رہتا تھا۔ بوڑھا مالی بڑے آرام سے اس باغ میں تنہا زندگی بسر کر رہا تھا۔ آخر ایک دن وہ اپنی اس تنہائی سے گھبرا گیا اور بے حد اداس ہوا۔ گھبرا کر ایک جنگل کی طرف چل پڑا ۔ ایک مدت تک جنگلوں میں بھٹکتا رہا۔ اچانک ایک بدصورت ، ڈراؤ نا ریچھ جو اسی کی طرح تنہائی سے بے زرار ہو چکا تھا اور اکیلا رہتا تھا اس پہاڑ سے نیچے اترا۔ دونوں ایک دوسرے سے دو چار ہوئے اور چونکہ دونوں کی فطرت میں خباثت موجود تھی لہذا دونوں ایک دوسرے سے بہت جلد مانوس ہو گئے ۔
مالی ریچھ کو ساتھ لے کر اپنے باغ میں آیا۔ دونوں خوشی خوشی ساتھ ساتھ رہنے لگے ۔ جب مالی آرام کرتا تھا ۔ ریچھ اس کے سرہانے بیٹھ کر مکھیاں اڑاتا تھا۔
ایک دن مالی گہری نیند سورہا تھا اور ریچھ حسب معمول مکھیاں اڑا رہا تھا لیکن مکھیوں نے اتنا ہجوم کر لیا تھا کہ ریچھ جتنی مکھیاں اڑاتا تھا اتنی ہی پھر جمع ہو جاتی تھیں۔ ریچھ نے پریشان ہو کر ایک وزنی پتھر جو تقریبا بیس سیر سے کم کا نہ ہوگا۔ اٹھا کر مکھیوں پر دے مارا اور اس طرح مالی کا سر پاش پاش ہو گیا۔


