ظلم کا انجام

ظلم کا انجام



کسی زمانے میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اقتدار کے نشے میں وہ اتنا سخت دل ہو چکا تھا کہ غریب اور کمزور لوگ اس کے نام سے بھی خوف کھاتے تھے۔

ایک درویش نے اس کے ظلم سے تنگ آ کر دعا کی:

“اے اللہ! اسے اس کے اعمال کا انجام دکھا دے۔”

کچھ عرصے بعد بادشاہ کے دل میں اچانک تبدیلی آ گئی۔ اس نے رعایا کو جمع کیا اور کہا:

“میں نے بہت ظلم کیا، مگر اب مجھے اپنی غلطیوں کا احساس ہو گیا ہے۔ آج سے میں ظلم چھوڑ کر انصاف کروں گا۔”

لوگوں کو اس کی بات پر یقین نہ آیا، مگر وقت نے ثابت کر دیا کہ بادشاہ واقعی بدل چکا تھا۔ اب کمزور کو حق ملتا اور ظالم کو سزا دی جاتی۔ سلطنت میں ایسا امن قائم ہوا کہ دشمن جانور بھی ایک ہی جگہ پانی پیتے دکھائی دیتے۔

ایک دن ایک قریبی ساتھی نے پوچھا:

“حضور! آخر آپ کے دل میں ایسی کیا تبدیلی آئی؟”

بادشاہ نے جواب دیا:

“ایک دن شکار کے دوران میں نے دیکھا کہ ایک کتا لومڑی کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اس نے لومڑی کو زخمی کر دیا۔ کچھ دیر بعد ایک آدمی نے اسی کتے کو پتھر مار کر زخمی کر دیا۔ پھر اسی آدمی کو ایک گھوڑے نے لات مار دی، اور تھوڑی دیر بعد گھوڑا بھی ایک گڑھے میں گر کر زخمی ہو گیا۔”

بادشاہ نے کہا:

“میں یہ سب دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ ہر عمل اپنے ساتھ ایک انجام لے کر آتا ہے۔ اسی دن مجھے احساس ہوا کہ جو تکلیف ہم دوسروں کو دیتے ہیں، اس کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں ہماری اپنی زندگی تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔”

“تب میں نے فیصلہ کیا کہ اگر میری سلطنت سے ظلم ختم کرنا ہے تو آغاز مجھے خود سے کرنا ہوگا۔”

سبق:

کسی پر ظلم کر کے یہ نہ سمجھیں کہ آپ اس کے انجام سے ہمیشہ محفوظ رہیں گے۔ طاقت ملے تو ظلم نہیں، انصاف کریں، کیونکہ اعمال کا حساب کبھی نہ کبھی ضرور سامنے آتا ہے۔



Leave a Reply

NZ's Corner