سیلز مین شپ۔

سیلز مین شپ۔


ایک سیدھا سادا لڑکا نوکری کی تلاش میں فلوریڈا آیا
اور ایک بہت بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں پہنچا، جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر قسم کا سامان ملتا تھا۔
اسٹور کے مینجرنے اس سے پوچھا، “کیا تمہارے پاس سیلز کا کوئی تجربہ ہے؟”
لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا، “جی بالکل، میں اپنے علاقے میں ویکیوم کلینر بیچا کرتا تھا۔”
اگرچہ مینجرکو پورا یقین تو نہیں تھا، لیکن اسے لڑکا شریف اور محنتی لگا، سو اس نے موقع دیتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے، تم کل سے کام پر آ جاؤ۔ شام کو دکان بند ہونے کے بعد میں تمہاری کارکردگی دیکھنے نیچے آؤں گا۔”
لڑکے کا پہلا دن کافی کٹھن گزرا، مگر وہ ڈٹا رہا۔ شام کو جب اسٹور بند ہوا تو مینجرسیلز فلور پر آیا اور سختی سے پوچھا، “ہاں بھائی، آج دن بھر میں تم سے کتنے گاہکوں نے سامان خریدا؟”
لڑکے نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور آہستہ سے بولا، “صرف ایک۔”
مینجر کا پارہ چڑھ گیا، “صرف ایک؟!! ہمارے باقی سیلز والے روزانہ 20 سے 30 گاہکوں کو سامان بیچتے ہیں۔ اگر تم نے یہاں نوکری کرنی ہے تو یہ ڈھیلا رویہ نہیں چلے گا۔ فلوریڈا میں ہمارے معیار بہت سخت ہیں۔”
لڑکا خاموشی سے ڈانٹ سنتا رہا اور جوتوں کی طرف دیکھتا رہا۔ مینجر کو اپنے سخت رویے کاتھوڑا احساس ہوا تو اس نے لہجہ تھوڑا نرم کر کے طنزاً پوچھا، “چلو یہ بتاؤ، اس ایک گاہک نے کتنے کا سامان خریدا؟”
لڑکے نے سر اٹھایا اور معصومیت سے کہا، ” (ایک لاکھ ایک ہزار دو سو سینتیس ڈالر)۔
منیجر کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں! “کیاااا؟! ایک لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ؟! آخر تم نے اسے ایسا کیا بیچ دیا؟”
لڑکے نے بڑے اطمینان سے سارا واقعہ سنایا:
“سب سے پہلے میں نے اسے مچھلی پکڑنے کے کچھ نئے کانٹے بیچے۔ پھر میں نے کہا کہ اتنے اچھے کانٹوں کے ساتھ تو ایک جدید راڈ بھی ہونی چاہیے، سو اس نے راڈ بھی لے لی۔ پھر میں نے پوچھا کہ مچھلیاں پکڑنے کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا ساحل پر۔ میں نے کہا کہ ساحل پر تو کشتی کے بغیر مزہ نہیں آئے گا، تو ہم بوٹ ڈیپارٹمنٹ گئے اور میں نے اسے دو انجن والی شاندار کشتی بیچ دی۔ جب اس نے کہا کہ اس کی کار اتنی بڑی کشتی کو نہیں کھینچ پائے گی، تو میں اسے آٹو موبائل ڈیپارٹمنٹ لے گیا اور اسے  ٹرک بھی بیچ دیا۔”
مینجر حیرت کے سمندر میں ڈوب گیا اور بولا، اوہ میرے خدا! ایک بندہ صرف مچھلی کا کانٹا خریدنے آیا تھا اور تم نے اسے کشتی اور ٹرک تک بیچ دیا؟!”
لڑکے نے مسکرا کر جواب دیا:
“نہیں سر! وہ بندہ تو دراصل اپنی بیوی کے لیے نزلے  کی دوا اور ٹشو لینے آیا تھا۔ میں نے اس سے بس اتنا کہا، ‘بھائی! تمہارا پورا ویک اینڈ تو ویسے ہی برباد ہو چکا ہے، کیوں نہ ۔تم مچھلیاں پکڑنے چلے جاؤ!'”۔
🤣🤣🤣🤣

Leave a Reply

NZ's Corner