ایک بار جحا اپنے بیٹے کے ساتھ بازار جا رہا تھا۔ جحا اپنے گدھے پر سوار تھا اور اس کا بیٹا ساتھ ساتھ پیدل چل رہا تھا۔
راستے میں کچھ لوگوں نے انہیں دیکھ کر کہا: “دیکھو تو سہی! کتنا بے رحم باپ ہے، خود آرام سے سوار ہے اور ننھا بچہ پیدل چل رہا ہے۔”
جحا کو یہ سن کر تھوڑی شرمندگی ہوئی، وہ نیچے اترا اور بیٹے کو گدھے پر بٹھا دیا اور خود پیدل چلنے لگا۔ تھوڑی دور چلے تو کچھ بوڑھوں نے دیکھ کر تبصرہ کیا: “آج کل کے بچے کتنے گستاخ ہو گئے ہیں! بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے اور تندرست بیٹا اوپر بیٹھا عیش کر رہا ہے۔”
یہ سن کر جحا نے سوچا کہ شاید دونوں کا سوار ہونا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ وہ بھی بیٹے کے پیچھے گدھے پر بیٹھ گیا۔ اب دونوں گدھے پر سوار تھے۔ ابھی کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کا ایک گروہ ملا، وہ چلا اٹھا: “ارے ظالمو! اس ننھے سے جانور کی جان لو گے کیا؟ دو ہٹے کٹے انسان ایک غریب گدھے پر لادے ہوئے ہیں، ذرا ترس نہیں آتا؟”
جحا اب پریشان ہو گیا، وہ اور اس کا بیٹا دونوں نیچے اتر گئے اور گدھے کو خالی لے کر چلنے لگے۔ لوگ اب انہیں دیکھ کر ہنسنے لگے اور کہنے لگے: “ان بیوقوفوں کو دیکھو! گدھا ساتھ ہے پھر بھی خاک چھانتے ہوئے پیدل چل رہے ہیں۔”
آخر کار جحا تنگ آ گیا، اس نے ایک لکڑی ڈھونڈی، گدھے کی ٹانگیں باندھیں اور اسے لکڑی سے لٹکا کر اپنے بیٹے کے ساتھ کندھے پر اٹھا لیا۔ جب وہ اس حال میں پل پار کر رہے تھے تو لوگ ان کا مذاق اڑانے لگے، گدھا بدک گیا اور دریا میں گر کر بہہ گیا۔
کہانی کا سبق
جحا نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور ایک گہری بات کہی:
“بیٹے! تم نے دیکھ لیا؟ اگر تم ہر ایک کو خوش کرنے کی کوشش کرو گے اور لوگوں کی باتوں میں آؤ گے، تو آخر میں تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا—حتیٰ کہ تم اپنا گدھا بھی کھو دو گے۔”
