بلاعنوان۔۔۔! آجکل کے حالات کے تناظر میں اس تحریر کو ایک بار ضرور پڑھیں۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔! آجکل کے حالات کے تناظر میں اس تحریر کو ایک بار ضرور پڑھیں۔۔۔!

محمد بن عروة یمن کے گورنر بن کر شہر میں داخل ہوئے۔۔ لوگ استقبال کے لئے اجتماع کی شکل میں کھڑے تھے لوگوں کا خیال تھا کہ نئے گورنر  لمبی چوڑی تقریر کریں گے محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔!!  

وہ جُملہ :  ” لوگوں یہ میری سواری  میری ملکیّت ھے ۔ اگر اس سے زیادہ لے کر مَیں واپس پَلٹا، تو مجھے چور سمجھا جائے”  

یہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کا سنہرا دَور تھا۔۔۔!! 

محمد بن عروۃ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا۔۔۔ جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و ‏سال پورے کر کے واپس پَلٹ رہے تھے لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رھے تھے ، لوگوں کا جمِ غفیر موجود تھا۔۔ امید تھی کہ لمبی چَوڑی تقریر کریں گے۔ 

محمد بن عروۃ نے صرف ایک جُملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔۔۔  وہ جملہ ؛ لوگوں یہ میری سواری میری ملکیّت تھی۔ میں واپس جا رھا ھوں ۔ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ھے”۔

Leave a Reply

NZ's Corner