جنوبی امریکہ کے سرسبز ملک کولمبیا کے اوپر ایک بادل رہتا تھا، اور اس بادل کے دل میں ایک ایسی بارش بسی ہوئی تھی جس کے سینے میں برسوں سے ایک خاموش اداسی پل رہی تھی۔
دن بھر وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی رہتی، پہاڑوں کے سروں کو چھوتی، دریاؤں کے اوپر سے گزرتی اور جنگلوں پر سایہ کرتی، مگر اس کے دل کا بوجھ کم نہ ہوتا۔
ایک رات جب چاند بادلوں کے پیچھے چھپ چھپ کر جھانک رہا تھا، بارش نے آہ بھری اور نیچے سوئی ہوئی زمین سے کہا:
“اے زمین! میرے دل میں ایک درد ہے۔ میں رونا چاہتی ہوں، بہت رونا چاہتی ہوں۔”
زمین نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:
“پھر رو کیوں نہیں لیتی؟”
بارش کی آواز کانپ گئی۔
“میری مشکل یہی تو ہے۔ میں آنسو نہیں بہا سکتی، کیونکہ میں خود پانی ہوں۔ جب بھی رونے کی کوشش کرتی ہوں، میرے آنسو بارش بن کر برسنے لگتے ہیں۔ لوگ مجھ سے بچنے کے لیے چھتوں کے نیچے چھپ جاتے ہیں، کھڑکیاں بند کر لیتے ہیں، اور میرے آنے کو زحمت سمجھتے ہیں۔”
زمین چند لمحے خاموش رہی، جیسے کسی گہری بات پر غور کر رہی ہو۔
پھر اس نے نہایت نرمی سے کہا:
“تم اپنے آپ کو غلط سمجھ رہی ہو۔”
بارش حیران ہوئی۔
“کیسے؟”
زمین مسکرائی۔
“تمہارا رونا صرف رونا نہیں ہے۔ تمہارے آنسو میرے سوکھے ہونٹوں کو نمی دیتے ہیں، میری بنجر چھاتی میں زندگی جگاتے ہیں، اور میرے دامن میں پھول کھلاتے ہیں۔”
بارش خاموش ہو گئی۔
زمین نے بات جاری رکھی:
“تمہیں معلوم بھی ہے؟ جب تم روتی ہو تو بیج جاگ اٹھتے ہیں، درخت سرسبز ہو جاتے ہیں، پرندے نغمے چھیڑتے ہیں اور کسان دعائیں دیتے ہیں۔ تمہارے آنسو میرے لیے رحمت ہیں، زحمت نہیں۔”
یہ سن کر بارش کے دل کا بوجھ ہلکا ہونے لگا۔
پھر ایک دن اس نے اپنے جذبات کو روکنا چھوڑ دیا۔
وہ کھل کر روئی۔
بادلوں نے اپنے دروازے کھول دیے۔ پانی موتیوں کی طرح آسمان سے برسنے لگا۔ پہاڑ دھل گئے، ندی نالے گنگنانے لگے، کھیت لہلہا اٹھے اور جنگل زمرد کی چادر اوڑھنے لگے۔
کچھ ہی دنوں میں زمین ہری بھری ہو گئی۔
پھولوں نے مسکرا کر خوشبو بکھیری، درختوں نے جھوم کر استقبال کیا، اور ہوا نے بارش کے نام کا گیت گایا۔
بارش نے خوشی سے زمین سے کہا:
“آج پہلی بار مجھے اپنے رونے پر شرم نہیں آ رہی۔”
زمین نے محبت سے جواب دیا:
“کیونکہ تم سمجھ گئی ہو کہ ہر آنسو کمزوری نہیں ہوتا۔ بعض آنسو زندگی کی آبِ حیات ہوتے ہیں۔”
بارش پھر برسی، مگر اس بار اس کے قطروں میں غم نہیں، سکون تھا۔
سبق
اپنے آنسوؤں سے شرمندہ نہ ہوں۔ بعض اوقات انسان کا درد، اس کی حساسیت اور اس کا رونا دوسروں کے لیے امید، سکون اور نئی زندگی کا سبب بن جاتا ہے۔ ہر آنسو کمزوری کی علامت نہیں؛ کچھ آنسو رحمت بن کر برستے ہیں اور دلوں کو سرسبز کر دیتے ہیں۔ 🌧️
