بلاعنوان

بلاعنوان

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر کی ریاستوں میں بڑے بڑے جاگیردار اور دولت مند تاجر اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہوا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک شہر میں ایک نہایت دولت مند شخص رہتا تھا۔ دولت، زمینیں، باغات، نوکر، گھوڑے، سب کچھ تھا، مگر اولاد صرف ایک تھی۔ ایک اکلوتا بیٹا۔
وہ بیٹا اس کی آنکھوں کا نور تھا۔
جس چیز کی خواہش کرتا، باپ اس کے قدموں میں لا کر رکھ دیتا۔ اس نے کبھی “نہیں” کا لفظ سنا ہی نہ تھا۔
ایک دن بچپن میں اس نے محلے کے ایک غریب لڑکے کو معمولی سی بات پر بری طرح زخمی کر دیا۔
لوگ شکایت لے کر آئے۔
ایک بوڑھے شخص نے کہا:
“مالک! بچے کی غلطی ہے۔ آج اسے روک لیجیے، کل دیر ہو جائے گی۔”
دولت مند شخص نے مسکرا کر کہا: “بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ اتنی سی بات پر اپنے اکلوتے بیٹے کو سزا دوں؟”
اس نے زخمی لڑکے کے گھر والوں کو مال دے کر خاموش کر دیا۔
بیٹا پہلی بار سزا سے بچ گیا۔
اس دن اسے اپنی غلطی پر شرمندگی نہیں ہوئی، بلکہ ایک نیا یقین پیدا ہو گیا۔
“میرے پیچھے میرے باپ کی طاقت ہے۔”
چند برس گزرے۔
اس نے بازار میں ایک دکاندار کو معمولی اختلاف پر بری طرح مارا پیٹا۔
لوگ پھر جمع ہوئے۔
مگر اس بار بھی دولت مند شخص نے پیسے خرچ کیے، اثر و رسوخ استعمال کیا اور معاملہ دبا دیا۔
گھر آ کر بھی اس نے بیٹے سے ایک لفظ نہ کہا۔
اب لڑکے کے دل سے خوف کا آخری ذرہ بھی نکل گیا تھا۔
اسے یقین ہو گیا کہ دنیا میں کوئی قانون اس تک پہنچ ہی نہیں سکتا۔
وقت گزرتا گیا۔
اب وہ نوجوان ہو چکا تھا۔
ایک دن اس نے چند غریب کسانوں کی زمین زبردستی ہتھیا لی۔ فریادیں ہوئیں۔
آہیں نکلیں۔
بددعائیں بلند ہوئیں۔
وہی بوڑھا پھر آیا۔
اس نے دولت مند شخص سے کہا:
“تم ہر بار اپنے بیٹے کو سزا سے نہیں بچاتے، تم اسے سزا کے لیے تیار کر رہے ہو۔”
وہ ہنس پڑا۔
“جب تک میں زندہ ہوں، کوئی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، نہ میرے بیٹے کا۔”
وقت خاموشی سے گزرتا رہا۔

پھر ایک دن ایسا آیا جب نوجوان نے نشے اور غرور میں ریاست کے ایک افسر کو سرِ عام قتل کر دیا اور یہ ایک بے گناہ کا خون تھا۔
یہ پہلی بار تھا جب معاملہ عوام کا نہیں، ریاست کا تھا۔
اس بار باپ نے اپنی پوری دولت لگا دی۔
وزیروں کے دروازے کھٹکھٹائے۔
سفارشیں کروائیں۔
رشوتیں دیں۔
دوستوں کو پکارا۔
مگر قانون اس سے کہیں بڑا تھا۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر نوجوان کو موت کی سزا سنا دی۔
چند ہی دنوں بعد اسے سزا دے دی گئی۔
وہی باپ، جو ہمیشہ دوسروں کے سامنے سر اٹھا کر چلتا تھا، آج قبر کے پاس بیٹھا بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر چیخا: “اے قدرت! میرے ساتھ یہ ظلم کیوں ہوا؟”
اتنے میں وہی بزرگ وہاں سے گزرے، جنہوں نے برسوں پہلے پہلی غلطی پر اسے روکا تھا۔
انہوں نے روتے ہوئے باپ کو دیکھا
اور ان کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ آ گئی۔
لوگ حیران رہ گئے۔
انہوں نے غصے سے کہا: “ایک باپ اپنے جوان بیٹے پر رو رہا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟”
بوڑھے نے آہ بھری اور کہا:
“میں اس کی موت پر نہیں ہنس رہا، میں اس دھوکے پر ہنس رہا ہوں جس میں یہ برسوں جیتا رہا۔”
پھر وہ دولت مند شخص کے قریب آیا اور بولا: “آج سے دس برس پہلے میں نے تم سے کہا تھا کہ بچے کو اس کی پہلی غلطی کی سزا ملنے دو۔ اس دن قدرت اسے بچانا چاہتی تھی، مگر تم درمیان میں کھڑے ہو گئے۔”
“پھر دوسری بار کہا تھا”
“پھر تیسری بار”
“اور ہر بار کسی نہ کسی نے تمہیں یہی سمجھایا کہ بچے کو اس کی غلطی کا نتیجہ دیکھ لینے دو۔”
“مگر ہر مرتبہ تم اس کے اور قدرت کے درمیان دیوار بن گئے۔”
وہ خاموش ہو گیا۔
پھر قبر کی طرف دیکھ کر بولا:
“تم ہر بار کہتے رہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو بچا لیا۔”
“نہیں”
“تم نے اسے کبھی بچایا ہی نہیں۔”
“تم نے صرف اس کی پہلی سزا چھین لی”
“اور جس انسان کو پہلی سزا نہیں ملتی، وہ اکثر آخری سزا تک پہنچ جاتا ہے۔”
پھر اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
“قدرت اسے پہلی غلطی پر صرف شرمندہ کرنا چاہتی تھی”
“دوسری پر اسے ڈرانا چاہتی تھی”
“تیسری پر اسے روکنا چاہتی تھی”
“مگر ہر بار تم نے قدرت کا ہاتھ پکڑ لیا۔”
“آج قدرت نے وہ ساری چھوٹی سزائیں ایک ہی بڑی سزا میں جمع کر کے واپس کر دیں۔”
یہ سنتے ہی باپ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اب اسے سمجھ آ چکی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے کو محبت نہیں دی تھی
بلکہ اس سے اصلاح کا ہر موقع چھین لیا تھا۔

اخلاقی سبق:

قدرت کی ہر تنبیہ میں رحمت چھپی ہوتی ہے۔ غلطی کے بعد ملنے والی چھوٹی سزا انسان کو بڑی تباہی سے بچا لیتی ہے۔ لیکن جب محبت، طاقت یا اثر و رسوخ کے ذریعے ہر بار غلطی چھپا دی جائے، تو گناہ ختم نہیں ہوتے، وہ جمع ہوتے رہتے ہیں۔ پھر ایک دن وہی جمع شدہ غلطیاں انسان پر ایسے ٹوٹتی ہیں کہ سنبھلنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہتا۔ اس لیے کبھی بھی کسی عزیز کو اس کی غلطی کے انجام سے بچانا حقیقی محبت نہیں، بلکہ بعض اوقات اسے ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیلنا ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner