بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔
ایک گھنے جنگل میں ایک نہایت بھاری بھرکم گینڈا رہتا تھا۔ اپنی غیر معمولی جسامت اور طاقت کی وجہ سے وہ خود کو جنگل کا سب سے برتر جانور سمجھتا تھا۔
اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا ہرن بھی رہتا تھا۔
ہرن نہایت نرم مزاج، بردبار اور خاموش طبیعت کا مالک تھا۔
مگر گینڈے کو اس کا کمزور جسم ایک مذاق محسوس ہوتا تھا۔
جب بھی دونوں کا آمنا سامنا ہوتا، گینڈا ضرور کوئی نہ کوئی طنز کر دیتا۔
کبھی کہتا:
“ہرن میاں! تم گھاس کھاتے ہو یا ہوا؟”
کبھی ہنستے ہوئے بولتا:
“ذرا احتیاط سے چلا کرو، کہیں تیز ہوا نہ چل جائے، ورنہ اڑ جاؤ گے!”
اور کبھی اپنے موٹے پیروں کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتا:
“تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تمہاری ٹانگیں لکڑی کی تیلیاں ہیں۔”
آس پاس کھڑے چند جانور بھی ہنس دیتے۔
ہرن مسکرا دیتا، مگر خاموش رہتا۔
وہ جانتا تھا کہ ہر بات کا جواب زبان سے نہیں دیا جاتا۔
مگر روز روز کی تضحیک آخر کب تک برداشت ہوتی؟
ایک دن اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ گینڈے کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، مگر اسے یہ ضرور سمجھائے گا کہ ہر نعمت صرف طاقت اور جسامت نہیں ہوتی۔
چند دن بعد موقع مل ہی گیا۔
ہرن نے آ کر نہایت جوش سے کہا:
“گینڈا بھائی! میں نے جنگل کے اُس پار ایک ایسی جگہ دیکھی ہے جہاں نایاب اور میٹھی جڑیں نکلی ہوئی ہیں۔ زندگی میں ایسی نعمت شاید ہی کبھی دیکھنے کو ملے!”
گینڈے کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“چلو! ابھی چلتے ہیں۔”
ہرن مسکرایا اور اسے ساتھ لے کر چل پڑا۔
کچھ دیر بعد دونوں ایک ایسے راستے پر پہنچے جہاں بارش کے بعد زمین دلدل بن چکی تھی۔
اوپر سے دیکھنے میں سب کچھ معمول کے مطابق لگتا تھا، مگر نیچے نرم کیچڑ تھی۔
ہرن آہستہ آہستہ ہلکے قدموں سے چلتا ہوا آسانی سے آگے نکل گیا۔
گینڈا بھی اسی اعتماد سے اس کے پیچھے بڑھا۔
مگر دو ہی قدم چلا تھا کہ اس کا ایک پاؤں کیچڑ میں دھنس گیا۔
اس نے زور لگا کر نکالنا چاہا۔
دوسرا پاؤں بھی اندر چلا گیا۔
اب وہ پوری طاقت سے اچھلنے لگا۔
مگر جتنا زور لگاتا، اتنا ہی زیادہ دلدل اسے اپنی طرف کھینچتی جاتی۔
چند ہی لمحوں میں اس کا آدھا جسم کیچڑ میں دھنس چکا تھا۔
اس نے گھبرا کر ہرن کو آواز دی۔
“بھائی! مجھے بچاؤ!”
ہرن واپس آیا۔
خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
گینڈے کی سانس پھول رہی تھی۔
وہ پہلی بار اپنی طاقت کے سامنے خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔
ہرن نے آہستہ سے کہا:
“آج ہوا کیوں نہیں اڑا لے گئی مجھے؟”
گینڈے نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔
ہرن نے پھر کہا:
“جس کمزور جسم پر تم ہنسا کرتے تھے، آج اسی نے مجھے اس دلدل سے پار کر دیا… اور جس طاقت پر تمہیں غرور تھا، وہی آج تمہارے لیے بوجھ بن گئی۔”
گینڈے کی آنکھوں میں ندامت اتر آئی۔
وہ دھیمی آواز میں بولا:
“میں سمجھ گیا، ہر چھوٹی چیز کمزوری نہیں ہوتی، اور ہر بڑی چیز طاقت نہیں ہوتی۔”
ہرن نے جنگل کے دوسرے جانوروں کو بلایا۔
سب نے مل کر بڑی مشکل سے گینڈے کو دلدل سے باہر نکالا۔
اس دن کے بعد گینڈے نے کبھی کسی کے جسم، شکل یا کمزوری کا مذاق نہ اڑایا۔
بلکہ جب بھی کسی کمزور جانور کو دیکھتا تو مسکرا کر کہتا:
“قدرت کسی کو بے وجہ کچھ نہیں دیتی۔ ہر نعمت اپنے وقت پر اپنی قیمت خود بتا دیتی ہے۔”
اخلاقی سبق:
انسان اکثر دوسروں کی ظاہری کمزوریوں پر ہنستا ہے، مگر قدرت ہر صفت کسی نہ کسی حکمت کے ساتھ عطا کرتی ہے۔ جو چیز آج کمزوری دکھائی دیتی ہے، کل وہی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے، اور جس چیز پر غرور ہو، وہی کسی دن انسان کا بوجھ بن سکتی ہے۔
