کہتے ہیں ایک اعرابی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔
لوگ اس کے پاس آئے اور پوچھنے لگے:
“تم نے اپنی بیوی کو طلاق کیوں دی؟”
اعرابی نے کہا:
“وہ ابھی عدت میں ہے، ابھی تک میری بیوی ہے۔ مجھے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اگر میں اس کے عیب تمہارے سامنے بیان کر دوں تو کل اس سے رجوع کیسے کروں گا؟”
لوگ خاموش ہو گئے۔
عدت گزر گئی، مگر اعرابی نے رجوع نہ کیا۔
لوگ دوبارہ آئے اور پوچھا:
“اب تو طلاق کی وجہ بتا دو!”
اعرابی نے جواب دیا:
“اب وہ میری بیوی نہیں رہی۔ اگر میں اس کے عیب بیان کروں گا تو اس کی شخصیت خراب ہوگی، اور شاید کوئی اس سے شادی نہ کرے۔”
کچھ عرصے بعد اس عورت کی دوسری جگہ شادی ہو گئی۔
لوگ پھر اعرابی کے پاس پہنچے:
“اب تو وہ کسی اور کی بیوی ہے، اب تو بتا دو کہ طلاق کیوں دی تھی؟”
اعرابی مسکرایا اور بولا:
“اب وہ کسی اور کی عزت ہے۔ مروت کا تقاضا ہے کہ میں ایک اجنبی عورت کے بارے میں اپنی زبان بند رکھوں۔”
لوگوں کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا۔
سبق
رشتہ ختم ہو جائے تو بھی عزت ختم نہیں ہونی چاہیے۔
کسی کی غلطیاں اپنے دوستوں میں بیان کرنا بہادری نہیں، بلکہ کردار کی کمزوری ہے۔
