عشقِ مجازی

عشقِ مجازی


اصلاحِ نفس کے لیے ایک آدمی اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوا اور شیخ کے تجویز کردہ اوراد و وظائف کو پابندی کے ساتھ پڑھنے لگا۔ شیخ کے گھر سے ایک خادمہ اس کے لیے کھانا لایا کرتی تھی۔ چند دنوں کے بعد وہ اصلاحِ نفس کرنے والا آدمی نفس کے جال میں پھنسنا شروع ہو گیا۔
وہ آہستہ آہستہ خادمہ کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ جب خادمہ کھانا لے کر آتی…… وہ اسے دیکھتا رہتا۔ خادمہ اللہ والوں کی نوکر تھی۔ اس نے صاف صاف شیخ صاحب کو بتلا دیا کہ حضور! آپ کا فلاں مرید میرے عشق میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اب اس کو اوراد و وظائف سے کیا نفع ہوگا پہلے اس کا یہ مسئلہ حل کریں۔ شیخ صاحب یہ سن کر خاموش ہو گئے اور اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کرنے لگے کہ الٰہی مجھے اس مسئلے کا حل عطا فرما۔ چند دنوں کے بعد شیخ صاحب نے خادمہ کو اسہال کی دوا دی اور ساتھ حکم دیا کہ تجھے جتنے دست آئیں سب کو ایک طشت میں جمع کرتی رہنا…… یہاں تک کہ اس کو بیس دست ہوئے جس سے وہ انتہائی کمزور اور لاغر ہو گئی۔ چہرہ پیلا ہو گیا۔ آنکھیں دھنس گئیں۔ رخسار اندر کو بیٹھ گئے۔ ہیضے کے مریض کی طرح خادمہ کا چہرہ بھی مکروہ سا ہو گیا۔ اور تمام حسن جاتا رہا۔
شیخ نے خادمہ سے کہا کہ آج اس کا کھانا لے جا اور خود بھی آڑ میں چھپ کر کھڑے ہو گئے۔ اس عاشق مرید نے جیسے ہی خادمہ کو دیکھا۔ کھانا لینے کے بجائے اس کی طرف سے چہرہ پھیر لیا اور کہا کھانا وہاں رکھ دو۔ شیخ فوراً آڑ سے نکل آئے اور ارشاد فرمایا کہ اے بے وقوف! آج تُو نے اس خادمہ سے رُخ کیوں پھیر لیا، اس کنیز سے کیا چیز گم ہو گئی جو تیرا عشق آج رُخصت ہو گیا۔ پھر شیخ نے حکم دیا کہ وہ پاخانے کا طشت اٹھا لا! جب اس نے وہ طشت اس کے سامنے رکھ دیا تو شیخ نے مرید کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے بے وقوف! اس خادمہ کے جسم سے سوائے اتنی مقدار پاخانے کے اور کوئی چیز خارج نہیں ہوئی معلوم ہوا کہ تیرا عشق درحقیقت یہی پاخانہ تھا۔ جس کے نکلتے ہی تیرا عشق غائب ہو گیا۔

درسِ حیات:
اے لوگو! جس گھنگھرو والی زلفِ مشکبار پر آج تم فریفتہ ہو وہی زُلف تم کو ایک دن بوڑھے گدھے کی دُم کی طرح بُری معلوم ہوگی۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللّٰہ علیہ
کتاب. حکایاتِ رومیؒ


Leave a Reply

NZ's Corner