مینڈکوں کا ایک گروہ کہیں جا رہا تھا کہ اچانک ان میں سے دو بے دھیانی میں ایک گہرے گڑھے میں جا گرے۔
باہر کھڑے مینڈکوں نے جب نیچے جھانک کر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ یہ گڑھا ان دونوں کی طاقت سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔
انہوں نے اوپر سے آوازیں دینا شروع کر دیں:
“افسوس! تم اس سے باہر نہیں نکل سکو گے۔
فضول کوشش مت کرو، ہار مان لو…
یہیں اپنی موت کا انتظار کرو۔”
ایک مینڈک نے یہ سب سنا تو اس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔
چند کمزور سی کوششوں کے بعد وہ دل شکستہ ہو کر وہیں دم توڑ گیا۔
مگر دوسرا مینڈک مسلسل جدوجہد کرتا رہا۔
وہ جگہ بدل بدل کر، بار بار چھلانگیں لگاتا رہا۔
اوپر کھڑے مینڈک زور زور سے آوازیں کستے رہے، سیٹیاں بجاتے رہے،
اور کہتے رہے:
“مت ہلکان ہو!
موت اب تیرا مقدر بن چکی ہے!”
لیکن وہ مینڈک اور زیادہ طاقت سے کوشش کرتا رہا…
اور آخرکار حیرت انگیز طور پر گڑھے سے باہر نکل آیا۔
تمام مینڈک اس کے گرد جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے:
“یہ کیسے ممکن ہوا؟”
تب سب پر حیرت کا انکشاف ہوا کہ
یہ مینڈک تو بہرا تھا — کانوں سے محروم!
وہ ساری دیر یہی سمجھتا رہا کہ اوپر کھڑے مینڈک اسے حوصلہ دے رہے ہیں،
اس کی ہمت بڑھا رہے ہیں،
اسے کامیابی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ سب اس کا حوصلہ توڑنے میں لگے ہوئے تھے۔
سبق:
زندگی میں ملنے والی ہر تنقید کو دل پر مت لو۔
لوگوں کے منفی جملوں کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں،
بلکہ کامیابی کی سیڑھیاں بنا لو۔
جو ہمت ہار گیا، وہ وہیں رہ گیا…
اور جو اپنے یقین پر قائم رہا، وہ منزل تک پہنچ گیا۔


