بند دروازہ

بند دروازہ

مرنے کے بعد کرم دین کو سب سے پہلے پیاس محسوس ہوئی۔

یہ بات اسے عجیب لگی، کیونکہ زندگی بھر اس نے سنا تھا کہ موت کے بعد جسم کی ضرورتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ مگر اس کے گلے میں کانٹے چبھ رہے تھے، ہونٹ خشک تھے، اور زبان تالو سے یوں چپکی ہوئی تھی جیسے کسی نے اندر راکھ بھر دی ہو۔

وہ ایک لمبی، سنسان سڑک پر چل رہا تھا۔

دائیں طرف کھیت تھے، مگر ان میں کوئی کسان نہیں تھا۔ بائیں طرف کیکر کے درخت تھے، مگر ان پر کوئی پرندہ نہیں بیٹھا تھا۔ ہوا چل رہی تھی مگر پتے نہیں ہلتے تھے۔ آسمان صاف تھا، پھر بھی روشنی میں ایک عجیب سا دھندلا پن تھا، جیسے صبح اور شام کے بیچ کوئی لمحہ اٹک گیا ہو۔

کرم دین نے چلتے چلتے اپنے قدموں کی آواز سنی۔

پھر ایک اور آواز۔

ہلکی سی، شناسا سی۔

اس نے مڑ کر دیکھا۔

بھورا اس کے ساتھ چل رہا تھا۔

وہی بھورا، جس کی پیٹھ پر مٹیالے بال تھے، ایک کان آدھا کٹا ہوا تھا، اور آنکھوں میں وہی پرانی عاجزی تھی جسے کرم دین زندگی بھر سمجھ نہ سکا تھا۔

کرم دین کے قدم رک گئے۔

“ارے…” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

بھورا دم ہلانے لگا۔

اسی لمحے یاد کا ایک دروازہ کھلا۔

کرم دین کو اپنا آخری دن یاد آیا۔ سینے میں اٹھتا ہوا درد، چارپائی کے گرد کھڑے بیٹے، بہوؤں کی دبی دبی سرگوشیاں، محلے کے مولوی صاحب کی تلاوت، اور پھر اچانک سب آوازوں کا پانی میں ڈوب جانا۔

وہ مر چکا تھا۔

اور بھورا تو اس سے بھی سات سال پہلے مر گیا تھا۔

کرم دین نے جھک کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ہاتھ واقعی بالوں پر پھرا۔ بھورا واقعی ساتھ تھا۔ وہ کوئی خیال، سایہ یا دھوکا نہیں تھا۔

“تو بھی آ گیا؟” کرم دین نے آہستہ سے کہا۔

کتے نے گردن ذرا ٹیڑھی کی، جیسے پرانی بات سمجھ گیا ہو۔

کرم دین کے سینے میں کوئی پرانا پچھتاوا چبھا۔

بھورا اس کے گھر کا کتا تھا، مگر کبھی گھر کے اندر نہیں آیا۔ صحن کے کونے میں بوری پر سوتا، رات بھر گیٹ کے پاس بیٹھا رہتا، اور صبح کرم دین کی چپلوں کے پاس دم ہلاتا ملتا۔ جب کرم دین کے بیٹے بڑے ہوئے تو انہوں نے اسے کئی بار گلی میں چھوڑ آنے کا کہا۔

“ابا، ہر وقت یہ کتا پیچھے لگا رہتا ہے۔ مہمان آتے ہیں تو برا لگتا ہے۔”

کرم دین نے بھی ایک آدھ بار ڈانٹ دیا تھا۔

“ہٹ، پرے ہو! ہر جگہ منہ اٹھائے چلا آتا ہے۔”

بھورا پرے ہو جاتا، مگر دور نہیں جاتا تھا۔

وفاداری بھی عجیب بیماری ہے؛ جس کو لگ جائے، وہ بے عزتی سے بھی ٹھیک نہیں ہوتی۔

دونوں چلتے رہے۔

سڑک آہستہ آہستہ چڑھائی میں بدل گئی۔ دور ایک سفید دیوار نمودار ہوئی۔ اتنی سفید کہ آنکھیں چندھیا جائیں۔ دیوار کے بیچ ایک بلند محرابی دروازہ تھا، جس پر دھوپ موتیوں کی طرح جم گئی تھی۔ دروازے کے اندر ایک چمکتی ہوئی گزرگاہ دکھائی دیتی تھی، جیسے سونا پگھلا کر زمین پر بچھا دیا گیا ہو۔

کرم دین کے دل میں ایک آس جاگی۔

شاید سفر ختم ہوا۔

دروازے کے پاس ایک آدمی میز لگائے بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے اجلے تھے، بال سلیقے سے جمے ہوئے، چہرے پر وہ مسکراہٹ جو امیر دفتروں کے استقبالیہ کمروں میں رکھی جاتی ہے؛ نہ پوری گرم، نہ پوری سرد۔

کرم دین نے قریب جا کر کہا، “بھائی صاحب، یہ کون سی جگہ ہے؟”

آدمی نے سر اٹھایا، کرم دین کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر ایک مشق شدہ شائستگی سے بولا، “یہ جنت ہے، جناب۔ خوش آمدید۔”

کرم دین کے خشک ہونٹ ہلے۔

“پانی مل جائے گا؟”

“بالکل، جناب۔ اندر تشریف لے آئیے۔ ٹھنڈا پانی، سایہ، آرام، سب موجود ہے۔”

یہ کہتے ہی دروازہ آہستہ آہستہ کھلنے لگا۔ اندر کی روشنی آنکھوں کو کھینچ رہی تھی۔ کرم دین کے قدم خود بخود آگے بڑھے۔

پھر بھورا اس کی پنڈلی سے آ لگا۔

کرم دین نے نیچے دیکھا۔ کتے کی زبان باہر نکلی ہوئی تھی۔ وہ بھی پیاسا تھا۔

“یہ میرے ساتھ ہے،” کرم دین نے کہا۔ “یہ بھی اندر آ جائے گا نا؟”

میز والے آدمی کی مسکراہٹ ویسی ہی رہی، مگر آنکھیں بدل گئیں۔

“معذرت، جناب۔ یہاں جانوروں کی اجازت نہیں۔”

کرم دین نے سمجھا شاید اس نے ٹھیک نہیں سنا۔

“اجازت نہیں؟”

“جی۔ اصول ہے۔ آپ اندر آ سکتے ہیں۔ اسے باہر چھوڑ دیجیے۔ یہاں اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔”

کرم دین نے دروازے کے اندر دیکھا۔ پانی کا خیال اس کے گلے میں ٹھنڈک بن کر اترا۔ اس نے اپنی پوری زندگی تھکن میں گزاری تھی۔ زمین جوتی، بیٹوں کو پالا، قرض اتارے، رشتے نبھائے۔ آخر میں یہی چاہا تھا کہ کہیں آرام مل جائے۔

مگر بھورا اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔

نہ شکایت، نہ مطالبہ۔

بس وہی پرانی آنکھیں۔

کرم دین کو اچانک ایک رات یاد آئی۔ بارش ہو رہی تھی۔ اس کے بڑے بیٹے نے غصے میں کہا تھا، “ابا، آپ کی زمین ہمارے نام ہو جائے تو بہتر ہے۔ کل کو کاغذوں کا مسئلہ نہ بنے۔”

اسی رات کرم دین دیر تک چھت کے نیچے بیٹھا رہا تھا۔ سب سو گئے تھے۔ بھورا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔ کرم دین نے اس کو دھکا دیا تھا۔

“جا، مجھے اکیلا چھوڑ دے۔”

بھورا دو قدم پیچھے ہٹا، پھر وہیں بیٹھ گیا۔

کرم دین نے پہلی بار اس رات رویا تھا۔ گھر میں کسی نے نہیں دیکھا۔ کتے نے دیکھا تھا۔

دروازے پر کھڑے آدمی نے پھر کہا، “جناب، اندر آئیے۔ دیر نہ کیجیے۔”

کرم دین نے بھورے کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“اگر یہ نہیں جا سکتا،” اس نے دھیرے سے کہا، “تو میں بھی نہیں جا سکتا۔”

میز والے آدمی نے پہلی بار مسکرا کر نہیں دیکھا۔ اس نے صرف قلم اٹھایا، جیسے کسی نام کے آگے نشان لگا رہا ہو۔

“جیسی آپ کی مرضی۔”

دروازہ بند ہونے لگا۔

کرم دین نے ایک لمحے کو اندر کی روشنی کو دیکھا۔ انسان کی کمزوری عجیب ہوتی ہے؛ وہ سچ جاننے سے پہلے سہولت کو پہچان لیتا ہے۔ اس کے پاؤں میں تھوڑی دیر کے لیے لرزش آئی۔ پھر بھورا چل پڑا۔ کرم دین بھی چل پڑا۔

سڑک اب کچی ہو گئی تھی۔

چمک ختم ہو گئی۔ دھوپ نرم پڑ گئی۔ دور ایک ٹوٹا سا لکڑی کا پھاٹک تھا، جو بند ہونے کے قابل ہی نہیں لگتا تھا۔ اس کے اندر ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا۔ چند نیم کے درخت، ایک پرانا کنواں، مٹی کی خوشبو، اور سایہ جس میں کوئی دکھاوا نہیں تھا۔

درخت کے نیچے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس کے کپڑے معمولی تھے، مگر چہرے پر عجب اطمینان تھا؛ جیسے جسے کچھ ثابت نہ کرنا ہو۔

کرم دین نے آواز دی، “بابا جی، پانی ملے گا؟”

بوڑھے نے کتاب بند کی، عینک اتاری، اور مسکرا کر بولا، “کیوں نہیں بیٹا۔ ادھر ہینڈ پمپ ہے۔ خود بھی پی لو، اپنے ساتھی کو بھی پلا دو۔ پیالہ ساتھ پڑا ہے۔”

کرم دین نے چونک کر پوچھا، “یہ بھی آ سکتا ہے؟”

بوڑھے نے بھورے کو دیکھا۔ بھورا تھکن سے زبان نکالے کھڑا تھا۔

“یہ تمہارے ساتھ آیا ہے تو تم سے کم حق دار کیسے ہو گیا؟” بوڑھے نے کہا۔

کرم دین کے اندر کچھ ٹوٹ کر بیٹھ گیا۔

وہ ہینڈ پمپ کے پاس گیا۔ لوہے کا دستہ ٹھنڈا تھا۔ اس نے زور لگایا۔ پہلے کھڑ کھڑاہٹ ہوئی، پھر مٹی کی بو والا صاف پانی پھوٹ نکلا۔ اس نے پیالہ بھرا۔ بھورا پہلے جھجھکا۔ شاید اسے زندگی بھر پہلے کھانے پینے کی عادت نہیں ڈالی گئی تھی۔

کرم دین نے پیالہ اس کے آگے رکھا۔

“پی لے، یار۔ آج پہلے تو پی۔”

بھورا پانی پینے لگا۔

کرم دین اسے دیکھتا رہا۔ کتے کی زبان پانی پر پڑتی، پیالہ ہلتا، چند قطرے مٹی پر گرتے۔ وہ قطرے کرم دین کو موتی لگے۔ پھر اس نے خود پانی پیا۔ پانی گلے سے اترتا گیا اور برسوں کی کوئی پیاس، جو صرف جسم کی نہیں تھی، کم ہوتی گئی۔

وہ واپس بوڑھے کے پاس آیا۔

“بابا جی، یہ جگہ کون سی ہے؟”

بوڑھے نے کہا، “جنت۔”

کرم دین کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔

“مگر آگے ایک بڑا دروازہ تھا۔ سفید دیوار، سونے کی سڑک، موتیوں جیسا پھاٹک۔ وہاں بھی ایک آدمی کہتا تھا کہ وہ جنت ہے۔”

بوڑھے نے کتاب گود میں رکھی اور بہت خاموشی سے بولا، “وہ جہنم ہے۔”

کرم دین کے حلق میں پانی ہوتے ہوئے بھی خشکی اتر آئی۔

“جہنم؟ مگر وہ تو بہت خوبصورت تھی۔”

بوڑھا مسکرایا نہیں۔ اس نے صرف کہا، “ہر چمکتی ہوئی چیز روشنی نہیں ہوتی، کرم دین۔ بعض اوقات آگ بھی بہت خوبصورت لگتی ہے۔”

کرم دین نے سر جھکا لیا۔

“آپ کو غصہ نہیں آتا کہ وہ آپ کا نام استعمال کرتے ہیں؟”

بوڑھے نے بھورے کی طرف دیکھا، پھر کرم دین کی طرف۔

“نہیں۔ ہمیں سہولت رہتی ہے۔ جو آدمی اپنے پیاسے ساتھی کو دروازے پر چھوڑ سکتا ہے، وہ خود ہی وہاں رک جاتا ہے۔”

کرم دین کی آنکھیں بھر آئیں۔

اس نے بھورے کو اپنے قریب بلایا۔ کتا اس کے پاؤں کے پاس آ بیٹھا۔ زندگی بھر دروازوں کے باہر بیٹھنے والا آج پہلی بار اس کے ساتھ اندر تھا۔

کرم دین نے بوڑھے سے پوچھا، “اور جو لوگ دیر سے سمجھتے ہیں؟”

بوڑھے نے کتاب دوبارہ کھولی۔

“جنت میں دیر سے آنے والوں کے لیے بھی جگہ ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ کسی کو پیچھے چھوڑ کر نہ آئیں۔”

کرم دین نے بھورے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ حساب صرف نمازوں، روزوں، زمینوں اور اولادوں کا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی ایک پیالہ بھی نامۂ اعمال میں رکھا جاتا ہے، اور ایک پیاسا جانور انسان کی اصل اوقات بتا دیتا ہے۔

درختوں کے پیچھے سے ہوا آئی۔

بھورا دم ہلانے لگا۔

کرم دین نے آنکھیں بند کیں تو اسے دور کہیں وہ سفید دروازہ بند ہوتا سنائی دیا۔

اور پہلی بار اسے کسی بند دروازے کا افسوس نہیں ہوا۔

Leave a Reply

NZ's Corner