بوڑھا خرگوش اور چوہا

بوڑھا خرگوش اور چوہا

جنگل کے ایک سرسبز کونے میں ایک بوڑھا خرگوش رہتا تھا۔ بڑھاپے کے باوجود وہ محنت سے جی نہیں چراتا تھا۔ اس نے اپنے پنجوں سے زمین نرم کی، بیج بوئے، پانی دیا اور کئی مہینوں کی محنت کے بعد گاجروں کا ایک خوبصورت کھیت تیار کر لیا۔

مگر مسئلہ یہ تھا کہ جنگل کے جانور جب وہاں سے گزرتے تو کوئی گاجریں کھا جاتا، کوئی پودوں پر پاؤں رکھ دیتا، کوئی کھیلتے کھیلتے فصل روند دیتا۔ شام تک خرگوش آدھی فصل تباہ دیکھتا، مگر خاموش رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جھگڑے سے فصلیں نہیں بچتیں۔
آخر اس نے بڑی محنت سے پورے کھیت کے گرد مضبوط لکڑیوں کی باڑ بنا دی۔

اب جانوروں کا اندر جانا بند ہو گیا۔ لیکن جنگل میں ایک نوجوان چوہا بھی رہتا تھا۔
وہ اپنی شرارتوں اور اکڑ کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسے دوسروں کو تنگ کرنے میں عجیب لطف آتا تھا۔

اسے جب معلوم ہوا کہ خرگوش نے باڑ لگا دی ہے تو اس نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ ہر صبح اذان کے فوراً بعد، جب پورا جنگل ابھی نیم خواب میں ہوتا، وہ چپکے سے آتا، اپنی تیز دھار دانتوں سے باڑ کا ایک حصہ کاٹ دیتا اور سیٹی بجاتا ہوا واپس چلا جاتا۔ بیچارہ خرگوش صبح آتا تو باڑ ٹوٹی ہوئی ملتی۔

وہ پھر سارا دن اسے ٹھیک کرتا رہتا۔ یہ سلسلہ ایک دن، دو دن نہیں بلکہ کئی ہفتوں تک چلتا رہا۔
پھر چوہے نے اپنی شرارت کو تماشہ بنا لیا۔
اب وہ اکیلا نہیں آتا تھا۔

ہر روز چند نوجوان جانوروں کو ساتھ لاتا اور سینہ تان کر کہتا: “دیکھو! پورے جنگل میں میرے جیسے دانت کسی کے نہیں۔ یہ باڑ میرے سامنے ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرتی۔”

جانور بھی تالیاں بجاتے اور اس کی واہ واہ کرتے۔
ادھر خرگوش سب کچھ دیکھتا رہا، مگر خاموش رہا۔

ایک دن اس نے سوچا: “شرارتی کو نصیحت سے نہیں، سبق سے سمجھ آتی ہے۔”
اگلی شام اس نے باڑ کے اس حصے پر، جہاں چوہا ہمیشہ دانت مارتا تھا، ایک باریک مگر انتہائی سخت فولادی پٹی مضبوطی سے جڑ دی۔ اوپر سے اسی لکڑی کا باریک سا غلاف چڑھا دیا تاکہ دیکھنے والا اسے عام لکڑی ہی سمجھے۔

اگلی صبح حسبِ معمول چوہا اپنی پوری ٹولی لے کر آیا۔

آتے ہی بولا: “آج دیکھنا، ایک ہی وار میں باڑ کا صفایا کر دیتا ہوں”
سب جانور دم سادھے کھڑے تھے۔

چوہے نے سینہ پھلایا، لکڑی پر دانت جمائے اور پوری طاقت سے کاٹنے کی کوشش کی۔
“ٹھاک!”
ایک زور دار آواز آئی۔

چوہا الٹا قلابازی کھا کر پیچھے جا گرا۔

اس کے اگلے دونوں دانت وہیں ٹوٹ کر زمین پر گر چکے تھے۔
وہ درد سے چیخنے لگا۔

جانور پہلے تو گھبرا گئے، پھر جب حقیقت سامنے آئی تو ہنسی نہ روک سکے۔ جو کل تک اس کی بہادری کے نعرے لگا رہے تھے، آج وہی پیٹ پکڑ کر ہنس رہے تھے۔
اس دن کے بعد جنگل میں کسی نے اسے اس کے اصل نام سے نہیں پکارا۔

ہر طرف ایک ہی آواز گونجتی تھی:
“لو آ گیا، پھدا چوہا”
چوہا جب بھی آئینے جیسے صاف پانی میں اپنا چہرہ دیکھتا تو اپنے ٹوٹے ہوئے دانت اسے اپنی حماقت یاد دلا دیتے۔

کہتے ہیں، اس دن کے بعد اس نے نہ کبھی کسی کی باڑ کاٹی، نہ اپنی طاقت کا بے جا مظاہرہ کیا، اور نہ ہی دوسروں کو تنگ کر کے داد لینے کی کوشش کی۔

اخلاقی سبق:

طاقت کا اصل حسن دوسروں کو نقصان پہنچانے میں نہیں بلکہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے میں ہے۔ جو شخص اپنی صلاحیت صرف لوگوں کو تنگ کرنے اور اپنی نمائش کے لیے استعمال کرتا ہے، ایک دن وہی صلاحیت اس کی سب سے بڑی رسوائی بن جاتی ہے۔ غرور اکثر وہ چیز چھین لیتا ہے جس پر انسان سب سے زیادہ فخر کرتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner