مالک کو اتنے ماہر کارگر کو کھونا بہت برا لگ رہا تھا، اس لیے بڑھئی کے ریٹائر ہونے سے پہلے اس نے اس سے ایک آخری احسان مانگا: ایک آخری گھر بنا دو۔
بڑھئی راضی تو ہو گیا، مگر اب اس کا دل کام میں نہیں تھا۔ وہ پہلے ہی اپنی زندگی کے اگلے باب کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس نے جلدی جلدی کام نمٹایا، کام میں کوتاہی کی (شارٹ کٹس لیے)، اور معیار پر پورا اترنے والے اچھے مواد کی بجائے وہی چیزیں استعمال کیں جو آسانی سے مل سکیں۔
بالآخر، گھر تیار ہو گیا۔
جب مالک اس کا معائنہ کرنے آیا، تو اس نے کاریگری پر کوئی تنقید کی اور نہ ہی کسی کمی یا کوتاہی کی نشاندہی کی۔ اس کے بجائے، وہ بڑھئی کے پاس آیا اور اسے سامنے والے دروازے کی چابیاں تھما دیں۔
اس نے کہا، “یہ گھر تمہارا ہے،” “میرے ساتھ اتنے سال کام کرنے کی تعریف میں، یہ میری طرف سے تمہیں تحفہ ہے۔”
بڑھئی دنگ رہ گیا۔
اسی لمحے اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کر ڈالا ہے۔ اگر اسے پتہ ہوتا کہ وہ یہ گھر اپنے لیے بنا رہا ہے، تو وہ بہتر سے بہتر مواد چنتا، ہر ایک چھوٹے بڑےموضوع پر دھیان دیتا، اور ہر حصے میں اپنی پوری محنت لگاتا۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ #معاشرےکےمسائل #حوصلہ #سچائی #جذبہ #زندگی #سکون #قدرت #فلسفہ
