دوپہر کی تیز دھوپ میں ایک بوڑھا باپ اور اس کا جوان بیٹا اینٹوں کے بھٹے پر کام کر رہے تھے۔
باپ بار بار کہتا:
“بیٹا، کچھ دیر سائے میں بیٹھ جاؤ۔ یہ سخت دھوپ تمہیں بیمار کر دے گی۔ کام کل بھی ہو جائے گا۔”
مگر بیٹا مسکرا کر کہتا:
“ابا جان، فکر نہ کریں، مجھے کچھ نہیں ہوگا۔”
باپ خاموش ہو جاتا، مگر اپنے بیٹے کو تپتی دھوپ میں دیکھ کر اندر ہی اندر پریشان ہوتا رہتا۔
کچھ دیر بعد وہ گھر گیا، اپنے دو سالہ پوتے کو گود میں اٹھایا اور اسے ساتھ لے کر بھٹے پر واپس آ گیا۔
اس نے بچے کو چند لمحوں کے لیے دھوپ میں کھڑا کیا۔ گرمی محسوس ہوتے ہی بچہ رونے لگا۔
بیٹا فوراً دوڑا، بچے کو گود میں اٹھایا اور سایے میں لے گیا۔
پھر غصے اور پریشانی سے بولا:
“ابا جان! آپ نے بچے کو دھوپ میں کیوں کھڑا کیا؟ اسے کچھ ہو جاتا تو؟”
بوڑھے باپ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“میرے بیٹے، تم نے اپنے بچے کو چند لمحے دھوپ میں دیکھا تو تمہارا دل بے چین ہو گیا۔ میں بھی صبح سے تمہیں اسی دھوپ میں دیکھ کر یہی تکلیف محسوس کر رہا ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تم اپنے بچے کے باپ ہو، اور میں تمہارا باپ ہوں۔”
بیٹا خاموش ہو گیا۔
پہلی بار اسے اپنے باپ کی آنکھوں میں وہ درد نظر آیا جو صرف محبت سے پیدا ہوتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ آگے بڑھا، باپ کو گلے لگایا اور بولا:
“مجھے معاف کر دیں، ابا جان۔ میں آپ کی محبت اور فکر کو سمجھ نہیں سکا۔”
اس دن بیٹے نے ایسا سبق سیکھا جو شاید برسوں کی نصیحتیں بھی نہ سکھا سکتی تھیں:
بعض رشتوں کا درد تب سمجھ آتا ہے، جب انسان خود اسی رشتے میں آتا ہے۔

