رازان

رازان

ریاستِ بہاولپور کے سنہرے دور میں، نواب پنجم عباسی کے زمانے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام رازان تھا۔ رازان ایک عجیب طبیعت کا آدمی تھا خواب بڑے دیکھتا تھا، مگر قسمت اس کا ساتھ نہیں دیتی تھی۔

رازان نے کئی کام آزمائے:
کبھی وہ کپڑوں کا چھوٹا کاروبار کرتا، مگر دکان میں نقصان ہو جاتا۔
کبھی وہ مٹی کے برتن بنانے لگتا، مگر وہ بھی نہ چل پاتا۔

کبھی وہ اونٹوں کی خرید و فروخت کرتا، مگر دھوکہ کھا جاتا۔
کبھی وہ کھانے پینے کی دکان کھولتا، مگر لوگوں کو پسند نہ آیا۔
اور کبھی وہ شاہی کپڑوں کی نقل کرنے کی کوشش کرتا، مگر ڈیزائن اور نفاست میں ناکام رہتا۔

ہر ناکامی کے بعد لوگ اس کا مذاق اڑاتے:
“رازان، تم سے کچھ نہیں ہو سکتا!”
“ہر کام ادھورا چھوڑ دیتے ہو!”

یہ جملے اس کے دل میں تیر کی طرح لگتے تھے۔ ان سب ناکامیوں کے بعد رازان مکمل طور پر مایوس ہو گیا، اور اندر سے ٹوٹنے کی وجہ سے دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ شاید قسمت واقعی اس کا ساتھ نہیں دیتی۔

آخر ایک دن، تھک ہار کر، وہ شہر چھوڑ کر چولستان کے صحرا کی طرف نکل گیا۔ دل میں مایوسی تھی، آنکھوں میں ہار کا بوجھ۔
چلتے چلتے وہ ایک پرانے کنویں کے پاس پہنچا۔ سورج تپ رہا تھا، اور پیاس نے اسے نڈھال کر دیا تھا۔ وہ کنویں سے پانی پینے لگا تو
اسی دوران اس نے ایک عجیب منظر دیکھا۔

چند عورتیں پانی بھرنے آئیں۔ وہ اپنے مٹی کے گھڑے کنویں کے پاس رکھتیں، پانی بھرتیں اور واپس چلی جاتیں۔ لیکن رازان کی نظر ایک خاص چیز پر جا کر رک گئی۔

جہاں وہ گھڑے رکھتی تھیں، وہاں بڑے بڑے پتھر پڑے ہوئے تھے، اور ان پتھروں پر گہرے نشان بن چکے تھے۔ ایسے جیسے کسی نے انہیں گھس کر کمزور کر دیا ہو۔

رازان حیران رہ گیا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے؟” اس نے خود سے کہا۔

وہ قریب گیا، غور سے دیکھا، پھر اچانک اس کے ذہن میں بجلی سی کوندی۔
“یہ نشان ان گھڑوں کے ہیں؟”

ایک بوڑھی عورت نے مسکرا کر کہا،
“ہاں بیٹا، سالوں سے ہم یہی کرتے آ رہے ہیں۔ روز گھڑے رکھتے ہیں، اور یہی نشان بنتے گئے۔”

رازان دیر تک اس پتھر کو دیکھتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا:
“یعنی ایک کمزور مٹی کا گھڑا، مسلسل لگنے سے اس سخت پتھر کو بھی گھس سکتا ہے؟”

اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوئی۔

“اگر یہ مٹی کے گھڑے یہ کر سکتے ہیں، تو میں کیوں نہیں؟ میں کیوں ہر بار ہار مان لیتا ہوں؟”
یہ گھڑے روز یہی کام کرتے رہے، انہوں نے کبھی اپنا طریقہ نہیں بدلا۔ اسی لیے پتھر بھی جھک گیا۔
اور میں؟ میں ہر بار کام بدلتا رہا، اسی لیے ہار جاتا ہوں۔”
“میں ناکام اس لیے نہیں تھا کہ میں کمزور تھا،
میں ناکام اس لیے تھا کہ میں ہر بار راستہ بدل لیتا تھا۔”

اسی لمحے اس نے فیصلہ کر لیا۔

وہ واپس شہر آیا۔ اس بار اس نے شاہی کپڑوں کا کاروبار دوبارہ شروع کیا، وہی کام جس میں وہ پہلے ناکام ہو چکا تھا۔
لیکن اس بار فرق تھا:
رازان روز محنت کرتا۔
ہر غلطی سے سیکھتا۔
نئے طریقے آزماتا۔

اور سب سے بڑھ کر، وہ ہار نہیں مانتا۔
لوگ پھر ہنسے،
“رازان پھر شروع ہو گیا!”
لیکن اس بار رازان صرف مسکرا دیتا۔
مہینے گزرے، پھر سال۔
آہستہ آہستہ اس کے کپڑے بہتر ہونے لگے۔
پھر خوبصورت ہوئے۔
پھر مشہور ہو گئے۔

ایک دن اس کے بنائے ہوئے کپڑے نواب کے محل تک پہنچے۔ نواب پنجم عباسی نے جب وہ دیکھے، تو حیران رہ گئے:
“یہ کس نے بنائے ہیں؟”

جب رازان کو دربار میں بلایا گیا، وہی شخص جو کبھی ناکام کہلاتا تھا، آج کامیاب کاریگر کے طور پر کھڑا تھا۔

نواب نے اسے پوچھا کہ
“تمہاری کامیابی کا راز کیا ہے؟”

رازان نے مسکرا کر جواب دیا:
“حضور، ایک کھڑا۔”

اخلاقی سبق:

کامیابی کا راز صرف محنت نہیں، بلکہ ایک ہی کام میں مسلسل محنت ہے۔
بار بار کام بدلنے والا کبھی ماہر نہیں بن سکتا۔
کمزور چیز بھی اگر مسلسل رہے، تو مضبوط کو ہرا سکتی ہے
ناکامی اصل میں انجام نہیں، بلکہ ایک سبق ہے
اگر ایک کمزور گھڑا مسلسل محنت سے پتھر کو بدل سکتا ہے، تو انسان کیوں نہیں اپنی قسمت بدل سکتا؟

Leave a Reply

NZ's Corner