برصغیر کے قدیم زمانے میں، راجستھان کی ایک خشک مگر باوقار بستی میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی۔
لوگ اسے “دادی اماں” کہتے تھے۔
اس کی کمر جھک چکی تھی، ہاتھوں پر جھریاں تھیں، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سا سکون تھا، ایسا سکون جو صرف اس دل میں ہوتا ہے جس نے زندگی کو قریب سے دیکھا ہو اور پھر بھی شکوہ نہ کیا ہو۔
وہ نہ عالمہ تھی، نہ کسی مدرسے میں پڑھی تھی،
مگر اس کا یقین ایسا تھا کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اس کے سامنے خاموش ہو جاتے تھے۔
اس کی سب سے خاص بات یہی تھی کہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین غیر معمولی تھا۔
جب گاؤں میں قحط پڑتا،
اور لوگ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے،
تو اماں جی اپنے گھر کے باہر ایک مٹکا رکھ دیتی اور کہتی:
“جو پیاسا ہو، پانی لے جائے”
لوگ ہنستے:
“یہ بوڑھیاں پاگل ہوگئی ہے، جب پانی کی اتنی کمی ہے اور یہ دوسروں کو پلا رہی ہو؟”
وہ مسکرا کر کہتیں:
“جس نے مجھے دیا ہے، وہ اور دے دے گا”
اور عجیب بات یہ تھی،
کہ اس کا مٹکا کبھی خالی نہیں رہتا تھا۔
جب اس کے گھر میں آخری روٹی بچتی،
تو وہ اسے دو حصوں میں نہیں،
تین حصوں میں بانٹ دیتی۔
ایک اپنے لیے،
ایک پوتی کیلئے
اور ایک کسی انجان کے لیے۔
پوتی پوچھتی:
“دادی! اگر کل کچھ نہ ہوا تو؟”
وہ ہنستیں:
“جس نے آج دیا ہے، کل بھی وہی دے گا”
جب کسی کا کاروبار بند ہو جاتا، وہ کہتیں:
“دروازے بند ہوتے ہیں تاکہ بندہ اصل در پر دستک دے”
جب کوئی بیمار ہوتا، وہ دوا کے ساتھ یہ ضرور کہتیں:
“شفا دوا میں نہیں، دینے والے کے حکم میں ہے”
ایک دن اس کی پوتی نے پوچھ ہی لیا:
“دادی، ایک بات بتائیں؟
آپ بعض چیزیں آنکھوں سے دیکھتی ہیں، عقل بھی کہتی ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔
پھر بھی آپ یقین نہیں کرتیں، کیوں؟”
یہ سوال نیا نہیں تھا، مگر ہر نسل اسے نئے انداز میں پوچھتی تھی۔
اماں جی نے آہستہ سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
اور کہا:
“ہم جب کھیتوں میں بیج بوتے تھے نا،
تو زمین خشک ہوتی تھی
آسمان صاف ہوتا تھا،
اور دور دور تک بارش کا کوئی نشان نہیں ہوتا تھا…”
“یہاں تک کہ آج کل کے موسمیات والے جیسے لوگ،
وہ بھی کہتے تھے کہ اس سال بارش کا کوئی امکان نہیں”
اور اکثر ایسا ہی ہوتا کہ آسمان مکمل صاف ہوتا”
پوتی نے حیرت سے پوچھا:
“پھر آپ لوگ کیا کرتے تھے؟”
اماں جی مسکرائیں:
“میں بھی اپنے بزرگوں سے کہتی:
وہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ بارش نہیں ہوگی”
تو وہ جواب دیتے:
“انہیں تو اپنے آج کا بھی پتہ نہیں، یہ ہمارے کل کا کیا بتائیں گے؟”
پھر وہ ایک جملہ کہتے،
جو آج بھی میرے دل میں زندہ ہے:
“ہم ان کی سنیں، یا اس کی سنیں جس نے رزق کا وعدہ کیا ہے؟”
“پھر کیا ہوتا تھا دادی؟” پوتی نے بے تابی سے پوچھا۔
اماں جی کی آنکھیں چمک اٹھیں:
“پھر بارش ہوتی تھی،
ایسی کہ زمین بھی سیراب ہو جاتی تھی اور دل بھی”
“بیٹی، ہمیں سیکھا گیا تھا کہ دنیا والے جو کچھ کہتے ہیں، وہ سچ نہیں ہوتا،
جو آنکھ دیکھتی ہے، وہ بھی مکمل حقیقت نہیں ہوتی”
“حقیقت صرف وہ ہوتی ہے
جو اللہ چاہتا ہے”
“یقین وہ نہیں جو حالات دیکھ کر پیدا ہو،
یقین وہ ہے جو حالات کے خلاف بھی قائم رہے”
حاصل سبق:
یہ تو ہمارے بڑوں کی وراثت تھی،
جو انہوں نے ہمیں صرف الفاظ سے نہیں، اپنے عمل سے ترغیب دی۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ
بھوک میں بھی بانٹنا کیا ہوتا ہے
خشکی میں بھی امید رکھنا کیا ہوتا ہے
اور ناممکن میں بھی یقین کرنا کیا ہوتا ہے۔
اب سوال ہمیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔
ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں صرف ڈگریاں دے رہے ہیں؟
یا یقین بھی دے رہے ہیں؟
کیا ہم انہیں صرف دنیا سکھا رہے ہیں؟
یا رب پر بھروسا بھی سکھا رہے ہیں؟
اگر ہماری نئی نسل کے پاس سب کچھ ہے
مگر اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس پر یقین نہیں ہے
تو یاد رکھیں
یہ کمی ان کی نہیں
ہماری ہے۔
کیونکہ
وراثت صرف زمین یا دولت نہیں ہوتی
وراثت وہ یقین ہوتا ہے
جو نسلوں کو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے جوکہ ہمارے بڑے یہ کچھ ہمیں دے کر گئے ہیں۔
“حقیقی دولت وہ نہیں جو ہاتھ میں ہو،
بلکہ وہ یقین ہے جو دل میں ہو۔
جو انسان حالات پر نہیں،
اللہ کے وعدوں پر یقین رکھتا ہے،
وہ کبھی خالی نہیں رہتا
نہ اس کا مٹکا، نہ اس کا دل۔
اور یاد رکھو،
نسلیں الفاظ سے نہیں،
عمل اور یقین سے سنورتی ہیں۔
اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اولاد مضبوط ہو،
تو انہیں صرف کمانا نہیں،
اللہ پر بھروسا کرنا بھی سکھاؤ
کیونکہ جہاں یقین زندہ ہو،
وہاں ناممکن بھی راستہ دے دیتا ہے۔”


