جزائے خیر –

جزائے خیر –

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔
ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔
راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔
(جاری ہے)

وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب اس نے اسد سے پانی طلب کیا تو اسد نے بہت بے رُخی کا اظہار کرتے ہوئے مدد سے انکار کر دیا، مگر پھر بھی بڑھیا نے ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے اسد کو دعا دیتے ہوئے اس کے ہاتھ میں ایک بیج تھما دیا۔گھر لوٹ کر اسد نے بھی اس بیج کو زمین میں بو دیا۔کسان کی ہدایت کے مطابق دونوں بھائی باری باری باغ کو پانی سے سیراب کرتے۔
امجد خوش دلی سے اور اسد بے دلی سے پانی دیتا تھا۔
چند ہی دنوں میں دونوں بھائی یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ دو بالکل ایک ہی جیسے پودے بڑھنا شروع ہو گئے۔چند سالوں کے بعد ایک حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ ایک درخت پھل دار، سایہ دار اور ہرا بھرا تھا، جبکہ دوسرا درخت اسی قد کاٹھ کا، مگر مرجھایا ہوا بے ثمر تھا۔امجد نے اس ہرے بھرے درخت کی قلمیں جگہ جگہ لگا دیں اور اس کے پھلوں سے اپنا چھوٹا سا کاروبار شروع کر دیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner