ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔
ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے:
“آفے دائے… آفے دائے…!” 😥
سرائیکی دوست نے سوچا:
“ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹
وہ خاموش بیٹھا رہا۔
صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔
سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا:
“بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺
بلوچ نے پوچھا:
“کیا پڑھ رھے تھے؟”
سرائیکی بولا:
“بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇
یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا:
“اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨
سرائیکی گھبرا کر بولا:
“اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣
سبق:
کبھی کبھی ایک لفظ سمجھ لینا، پوری کہانی بدل دیتا ھے!
اگر ہنسی آئی ھو تو اپنے اُس دوست کو مینشن کریں جو ہر بات اپنی مرضی سے سمجھ لیتا ھے! 👇😄
