حلب کا سنار اور ریت کی گھڑی

حلب کا سنار اور ریت کی گھڑی


بہت زمانہ پہلے حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نامی ایک سنار رہتا تھا۔ وہ اپنے فن میں بے مثال تھا۔ اس کے تیار کردہ زیورات دور دور تک پسند کیے جاتے تھے، لیکن ایک خامی اس کی شخصیت پر حاوی تھی: لالچ۔

اس کا یقین تھا کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت نہیں بلکہ سونا ہے، اسی لیے وہ اپنی پوری زندگی دولت جمع کرنے میں مصروف رہتا تھا۔

اس کے پڑوس میں ایک بزرگ اور دانا شخص رہتا تھا جسے لوگ احترام سے “الحکیم” کہتے تھے۔ وہ اکثر یوسف سے کہا کرتا:

“یوسف! سونا تو مٹی کی مانند ہے، اصل خزانہ وقت ہے۔ ایک بار جو لمحہ گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔”

مگر یوسف ہمیشہ یہ نصیحت ہنسی میں اڑا دیتا۔

ایک شام، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے غروب ہو رہا تھا، ایک پراسرار اجنبی اس کی دکان پر آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک عجیب ریت کی گھڑی تھی جس میں ریت کے بجائے باریک سنہری ذرات بھرے ہوئے تھے۔

اجنبی نے کہا:

“یہ گھڑی تمہارے لیے ایک تحفہ ہے۔ جب تک تم اس کے سامنے بیٹھے رہو گے اور اس کا سونا نیچے گرتا رہے گا، تمہاری دکان کی ہر لوہے اور تانبے کی چیز خالص سونے میں بدلتی جائے گی۔”

یوسف کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔

مگر اجنبی نے جاتے جاتے ایک شرط بھی رکھی:

“اگر تم نے اس گھڑی سے نظریں ہٹائیں، آنکھ جھپکی یا دکان سے باہر قدم رکھا، تو تمہارا سارا سونا ہمیشہ کے لیے پتھر بن جائے گا۔”

اجنبی کے جاتے ہی یوسف نے گھڑی الٹ دی۔

سونا نیچے گرنا شروع ہوا اور اس کی دکان کی ہر چیز سونے میں تبدیل ہونے لگی۔ اوزار، کرسیاں، زنجیریں، حتیٰ کہ معمولی سامان بھی چمکتے ہوئے سونے میں بدل گیا۔

یوسف خوشی سے جھوم اٹھا۔

گھنٹے گزرتے گئے…

رات بیت گئی…

پھر ایک اور دن طلوع ہوا…

لیکن یوسف اپنی جگہ سے نہ ہلا۔

بھوک لگتی تو برداشت کر لیتا، پیاس ستاتی تو خود کو تسلی دیتا:

“بس تھوڑی دیر اور… پھر میں اتنا مالدار ہو جاؤں گا کہ حلب کا سلطان بھی میری دولت کے سامنے کچھ نہ ہوگا!”

مگر وقت گزرتا رہا اور اس کی قوت جواب دیتی گئی۔

اس کے ہونٹ خشک ہوگئے، جسم کمزور پڑ گیا، مگر وہ سونے کے لالچ میں گھڑی کے سامنے بیٹھا رہا۔

اب دکان سونے سے بھر چکی تھی، لیکن وہ خود زندگی سے خالی ہو رہا تھا۔

تیسرے دن الحکیم وہاں سے گزرا۔ اس نے کھڑکی سے جھانکا تو یوسف نیم مردہ حالت میں دکھائی دیا۔

لوگوں نے دروازہ توڑا تو دیکھا کہ یوسف کا بے جان جسم سونے کے ڈھیر پر پڑا ہے۔

ایک ہاتھ میں ریت کی گھڑی تھی جس کا سونا ختم ہو چکا تھا، اور دوسرے ہاتھ میں سونے کا ایک نوالہ تھا جسے وہ کبھی کھا نہ سکا۔

اور پھر وہی ہوا جس کی وارننگ دی گئی تھی…

ساری دکان کا سونا لمحوں میں سخت، بے جان پتھروں میں تبدیل ہوگیا۔

الحکیم نے افسوس سے یوسف کو دیکھا اور آہستہ سے کہا:

“انسان لالچی ہے، اور وقت تلوار کی مانند ہے؛ اگر تم اسے استعمال نہیں کرو گے تو وہ تمہیں کاٹ دے گا۔ اس نے سونا تو بہت جمع کیا، مگر زندگی خریدنا بھول گیا۔”

سبقِ زندگی:

دنیا کی کوئی دولت گزرا ہوا ایک لمحہ واپس نہیں لا سکتی۔ وقت ہی انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔

بے انتہا لالچ انسان کی بصیرت چھین لیتا ہے اور اسے صحت، سکون اور رشتوں جیسی نعمتوں سے محروم کر دیتا ہے۔

دو

لت زندگی گزارنے کا ایک ذریعہ ہے، خود زندگی نہیں۔ جو لوگ دولت کو مقصد بنا لیتے ہیں، اکثر وہی زندگی کی اصل خوشیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔

یاد رکھیے!
سونا دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، لیکن گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔

Leave a Reply

NZ's Corner