ایک بکری پیاس سے بے حال پانی کی تلاش میں نکلی۔ دور اسے چمکتا ہوا پانی دکھائی دیا۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے ادھر چھلانگ لگا دی، مگر وہ پانی نہیں، دلدل تھی۔ چند ہی لمحوں میں وہ اس میں بری طرح دھنس گئی۔ جتنا نکلنے کی کوشش کرتی، اتنا ہی مزید دھنس جاتی۔
خواہش جب عقل پر غالب آ جائے تو انسان سراب اور حقیقت میں فرق کرنا بھول جاتا ہے۔
کچھ دیر بعد ایک بھیڑیا بھی وہاں آ پہنچا۔ وہ بھی شکار اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔ دور سے بکری کو دیکھا تو لالچ میں آ کر فوراً چھلانگ لگا دی۔ مگر وہ بھی اسی دلدل کا شکار ہو گیا۔
لالچ اکثر وہ جال ہوتا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔
بکری نے بھیڑئیے کو تڑپتے دیکھا تو مسکرا دی۔
بھیڑئیے نے حیرت سے پوچھا:
“تم خود بھی مصیبت میں ہو، پھر ہنس کیوں رہی ہو؟”
بکری نے جواب دیا:
“اس لیے کہ میرے اور تمہارے انجام میں بہت فرق ہے۔”
بھیڑیا بولا:
“کیسا فرق؟”
بکری نے کہا:
“شام کو میرا مالک اپنی بکریاں گنے گا۔ جب ایک کم نکلے گی تو وہ مجھے ڈھونڈنے آئے گا، مجھے اس دلدل سے نکال لے گا اور اپنے ساتھ واپس لے جائے گا۔”
پھر وہ خاموش ہوئی، بھیڑئیے کی طرف دیکھا اور بولی:
“اب تم بتاؤ… تمہارا مالک کون ہے؟ تمہیں ڈھونڈنے کون آئے گا؟”
زندگی کی دلدلوں سے نکلنے کا سب سے بڑا سہارا اپنے حقیقی مالک، اللہ تعالیٰ، سے مضبوط تعلق ہے۔ جو خود کو اپنے رب سے وابستہ رکھتا ہے، وہ کبھی تنہا نہیں چھوڑا جاتا۔
