ایک دن ملا نصیرالدین نہ جانے کیا سوچ کر اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے۔
جب واپس نیچے اتارنے لگے تو گدھے نے ضد پکڑ لی۔ وہ ایک قدم بھی نیچے اترنے کو تیار نہ تھا۔
ملا نے کبھی اسے پیار سے سمجھایا، کبھی ڈانٹا، کبھی کھینچا، کبھی دھکا دیا، مگر گدھا اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
آخرکار ملا تھک ہار کر خود نیچے آ گئے اور سوچا کہ شاید کچھ دیر بعد گدھا خود ہی نیچے اتر آئے۔
کچھ وقت گزرا تو ملا نے اوپر دیکھا۔ گدھا آرام سے کھڑا نہیں تھا، بلکہ پوری طاقت سے چھت پر لاتیں مار رہا تھا۔
یہ دیکھ کر ملا گھبرا گئے۔
وہ جانتے تھے کہ چھت زیادہ مضبوط نہیں، اگر گدھا یونہی لاتیں مارتا رہا تو پوری چھت گر سکتی ہے۔
ملا فوراً دوبارہ چھت پر پہنچے اور ہر ممکن کوشش کی کہ گدھے کو سیڑھیوں کی طرف لے آئیں، مگر گدھا اپنی ضد پر اڑا رہا۔
آخر ایک بار پھر ملا نے اسے دھکا دے کر آگے بڑھانا چاہا تو گدھے نے زور دار لات ماری۔
لات لگتے ہی ملا لڑکھڑائے اور دھڑام سے نیچے جا گرے۔
ادھر گدھا بدستور چھت پر لاتیں مارتا رہا، یہاں تک کہ چھت ٹوٹ گئی اور وہ خود بھی چھت سمیت زمین پر آ گرا۔
کافی دیر بعد ملا اٹھے، کپڑے جھاڑے، گدھے کو دیکھا، پھر ٹوٹی ہوئی چھت پر نظر ڈالی اور مسکرا کر بولے:
“غلطی گدھے کی نہیں، میری تھی۔ جسے جس مقام کی سمجھ نہ ہو، اسے بلند مقام پر بٹھانا صرف اس کے لیے نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ نااہل شخص نہ صرف خود نقصان اٹھاتا ہے بلکہ اس منصب کی عزت اور اسے وہاں تک پہنچانے والوں کی ساکھ بھی متاثر کرتا ہے۔”
