سونے کی چابی اور غریب لکڑہارا

سونے کی چابی اور غریب لکڑہارا



بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ پہاڑوں کے درمیان ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ بستی کے اردگرد گھنے جنگلات تھے، جہاں صبح کے وقت پرندوں کی آوازیں گونجتیں اور شام ہوتے ہی دھند پہاڑوں کو اپنی سفید چادر میں چھپا لیتی۔

اسی بستی میں حامد نام کا ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا چھوٹا سا گھر تھا، جس کی چھت جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ حامد روزانہ صبح سویرے کلہاڑی کندھے پر رکھتا اور جنگل کی طرف نکل جاتا۔ دن بھر لکڑیاں کاٹتا، شام کو انہیں بازار میں فروخت کرتا اور جو تھوڑے بہت پیسے ملتے، ان سے اپنے گھر کا چولہا جلاتا۔

حامد غریب ضرور تھا، مگر ایماندار بہت تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا:

> “رزق کم ہو تو کوئی بات نہیں، مگر حرام کا ایک سکہ بھی گھر میں نہیں آنا چاہیے۔”

ایک دن سردیوں کی صبح حامد معمول کے مطابق جنگل میں گیا۔ اس روز برف باری کے باعث لکڑی خشک جگہوں پر کم مل رہی تھی۔ وہ جنگل کے ایک ایسے حصے میں پہنچ گیا جہاں پہلے کبھی نہیں گیا تھا۔

اچانک اسے درختوں کے درمیان ایک پرانا پتھریلا کنواں نظر آیا۔ کنویں کے پاس زمین پر ایک عجیب سی چیز پڑی تھی۔ حامد نے قریب جا کر دیکھا تو وہ سونے کی ایک خوب صورت چابی تھی۔

چابی اتنی چمک رہی تھی کہ حامد کی آنکھیں چندھیا گئیں۔

اس نے چابی اٹھائی اور حیرت سے بولا:

“یہ یہاں کس کی ہو سکتی ہے؟”

وہ چابی لے کر گھر واپس آگیا۔ ساری رات وہ سوچتا رہا کہ شاید اس چابی کا کوئی راز ہے۔ اگلی صبح وہ دوبارہ اسی جگہ پہنچا۔

اس نے کنویں کے آس پاس غور سے دیکھا تو ایک بڑے پتھر پر عجیب نشان بنا ہوا تھا۔ حامد نے پتھر کو ہٹانے کی کوشش کی تو وہ ذرا سا سرک گیا۔ نیچے ایک لوہے کا چھوٹا سا دروازہ دکھائی دیا۔

دروازے پر چابی کا سوراخ تھا۔

حامد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔

اس نے چابی سوراخ میں ڈالی اور آہستہ سے گھمائی۔

کلک!

دروازہ کھل گیا۔

اندر ایک تنگ سی سیڑھی نیچے جا رہی تھی۔ حامد مشعل روشن کرکے سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگا۔ کچھ دور جانے کے بعد اسے ایک بڑا زیرِ زمین کمرہ نظر آیا۔

کمرے کے بیچوں بیچ ایک صندوق رکھا تھا۔

حامد نے صندوق کھولا تو اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

صندوق میں سونے کے سکے، قیمتی پتھر اور جواہرات بھرے ہوئے تھے۔

حامد کے دل میں خیال آیا:

“اگر میں یہ سب لے جاؤں تو میری غربت ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔”

مگر اسی وقت اسے اپنے باپ کی نصیحت یاد آگئی:

“بیٹا! جو چیز تمہاری نہ ہو، وہ خواہ زمین پر پڑی ملے یا محل میں، تمہاری نہیں ہو جاتی۔”

حامد نے صندوق بند کر دیا۔

وہ واپس بستی میں آیا اور سیدھا وہاں کے بوڑھے قاضی کے پاس گیا۔ اس نے سارا واقعہ بیان کردیا۔

قاضی نے حیرت سے پوچھا:

“تم نے خزانہ دیکھا اور پھر بھی ایک سکہ نہیں لیا؟”

حامد نے جواب دیا:

“قاضی صاحب! میں غریب ضرور ہوں، چور نہیں۔”

قاضی مسکرایا اور بولا:

“بیٹا، شاید آج تمہیں اس خزانے سے بھی بڑی چیز ملنے والی ہے۔”

قاضی نے بستی کے چند بزرگوں کو ساتھ لیا اور سب جنگل میں پہنچ گئے۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں موجود ایک پرانی تختی بھی ملی۔ تختی پر لکھا تھا:

“یہ خزانہ اس شخص کے لیے ہے جو اسے پائے، مگر اسے اپنے لیے رکھنے کے بجائے بستی کی بھلائی پر خرچ کرے۔ جو شخص لالچ کرے گا، اس کے لیے یہ خزانہ مصیبت بن جائے گا۔”

بستی کے لوگوں نے فیصلہ کیا کہ خزانے سے ایک نیا کنواں بنوایا جائے، غریبوں کے لیے گھر تعمیر کیے جائیں، مسافروں کے لیے سرائے بنائی جائے اور بچوں کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا جائے۔

حامد کو بھی اس کی ایمانداری کے صلے میں اتنی رقم دی گئی کہ وہ اپنے گھر کی مرمت کروا سکے اور لکڑیاں کاٹنے کی سخت مشقت سے نجات حاصل کر سکے۔

کچھ عرصے بعد اسی بستی میں ایک لالچی تاجر کو اس خزانے کا علم ہوا۔ اس نے سوچا:

“اگر میں وہ سونے کی چابی چرا لوں تو سارا خزانہ میرا ہو سکتا ہے۔”

رات کے اندھیرے میں وہ جنگل پہنچا اور خفیہ دروازہ کھول کر زیرِ زمین کمرے میں داخل ہوگیا۔

اس نے جیسے ہی صندوق سے سونے کے سکے نکالنے کی کوشش کی، اچانک زمین زور سے ہلنے لگی۔ تاجر گھبرا کر باہر بھاگا۔ صبح جب لوگ وہاں پہنچے تو زیرِ زمین راستہ مٹی اور پتھروں سے بند ہو چکا تھا۔

تاجر خوف سے کانپ رہا تھا۔

حامد نے اسے دیکھا تو کہا:

“دولت انسان کو امیر نہیں بناتی، دولت کے بارے میں انسان کا رویہ اسے بڑا یا چھوٹا بناتا ہے۔”

تاجر نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔

اس دن کے بعد بستی میں یہ قصہ نسل در نسل سنایا جانے لگا کہ ایک غریب لکڑہارے کو جنگل میں سونے کی چابی ملی تھی، مگر اس نے چابی سے کھلنے والے خزانے سے پہلے اپنے ضمیر کا دروازہ کھولا تھا۔

سبق:
لالچ انسان کو اندھا کر دیتا ہے، جبکہ ایمانداری کبھی کبھی ایسا راستہ کھول دیتی ہے جس کا انسان نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا ہوتا۔ دولت مل جائے تو اسے صرف اپنے لیے جمع کرنے کے بجائے دوسروں کی بھلائی میں استعمال کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner