موت سے فرار

موت سے فرار



ایک رات ایک بادشاہ نے نہایت عجیب اور خوفناک خواب دیکھا۔

اس نے دیکھا کہ ایک سیاہ سایہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور خاموشی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔

بادشاہ خوف کے مارے کانپنے لگا۔

سائے نے دھیمی آواز میں کہا:

”گھبراؤ مت! میں تمہیں خوف زدہ کرنے نہیں، بلکہ ایک خبر دینے آیا ہوں۔“

بادشاہ نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا:

”تم کون ہو؟“

سایہ مسکرایا اور بولا:

”میں تمہاری موت ہوں۔ کل سورج غروب ہوتے ہی تمہیں اپنے ساتھ لے جانے آؤں گا۔“

یہ سنتے ہی بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس کا پورا جسم پسینے سے بھیگا ہوا تھا اور دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ ایک خواب تھا، لیکن اس خواب نے اس کے دل میں ایسا خوف بٹھا دیا کہ وہ دوبارہ سکون سے سو نہ سکا۔

🌅 صبح ہوتے ہی بادشاہ نے اپنی سلطنت کے بڑے بڑے عالموں، نجومیوں اور دانشوروں کو دربار میں طلب کر لیا۔

اس نے سب کو اپنا خواب سنایا اور پریشانی سے پوچھا:

”کیا یہ خواب حقیقت بننے والا ہے؟ کیا واقعی کل سورج غروب ہوتے ہی میری موت آ جائے گی؟“

دربار میں بحث شروع ہو گئی۔

ایک دانشور بولا:

”بادشاہ سلامت! یہ محض ایک ڈراؤنا خواب ہے، آپ پریشان نہ ہوں۔“

دوسرا کہنے لگا:

”ممکن ہے یہ کسی آنے والی مصیبت کی علامت ہو۔“

تیسرا نجومی اپنی پیش گوئیاں کرنے لگا۔

گھنٹوں گزر گئے، لیکن کوئی بھی یقین کے ساتھ بادشاہ کو تسلی نہ دے سکا۔

بادشاہ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے موت اس کے بالکل قریب کھڑی ہو اور وہ کسی بھی لمحے اسے اپنے ساتھ لے جائے گی۔

اسی دوران محل کا ایک بوڑھا خادم، جو بادشاہ کے بچپن سے اس کے ساتھ تھا، آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا۔

اس نے دھیمی آواز میں کہا:

”بادشاہ سلامت! یہ لوگ بحث کرتے رہیں گے، لیکن آپ کی پریشانی کا کوئی حل نہیں نکال سکیں گے۔ اگر آپ اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو میری ایک بات مان لیجیے۔“

بادشاہ نے فوراً پوچھا:

”جلدی بتاؤ، مجھے کیا کرنا چاہیے؟“

بوڑھے خادم نے جواب دیا:

”اپنا سب سے تیز رفتار گھوڑا لیجیے اور یہاں سے جتنی دور جا سکتے ہیں، چلے جائیے۔ آج سورج غروب ہونے سے پہلے واپس آنے کی کوشش ہرگز نہ کیجیے گا۔“

بادشاہ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔

وہ اپنے سب سے تیز گھوڑے پر سوار ہوا اور محل سے نکل پڑا۔

🏇 گھوڑا پوری رفتار سے دوڑ رہا تھا اور بادشاہ کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال تھا:

”مجھے ہر حال میں موت سے بچنا ہے!“

وہ نہ کھانے کے لیے رکا، نہ پانی پینے کے لیے۔ اسے صرف اپنی جان کی فکر تھی۔ وہ راستے، فاصلے اور تھکن سب کچھ بھول چکا تھا۔

آخرکار سارا دن سفر کرنے کے بعد وہ شام کے وقت دمشق کے قریب پہنچ گیا۔

اپنے خیال میں وہ موت سے بہت دور نکل آیا تھا۔ اس نے سکون کا سانس لیا، گھوڑے کو ایک درخت کے نیچے روکا اور محبت سے اس کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:

”میرے وفادار ساتھی! آج تم نے میری جان بچا لی۔ تم مجھے موت سے سینکڑوں میل دور لے آئے ہو۔ اب وہ میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟“

مگر اسے کیا معلوم تھا کہ اصل کہانی ابھی باقی ہے!

🌇 اسی لمحے سورج غروب ہونے لگا۔

اچانک بادشاہ نے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس کیا۔

وہی ہاتھ، جسے اس نے گزشتہ رات خواب میں محسوس کیا تھا!

اس کے جسم میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ اس نے آہستہ آہستہ پیچھے مڑ کر دیکھا۔

اس کے سامنے وہی سیاہ سایہ کھڑا تھا۔

بادشاہ کی زبان گنگ ہو گئی۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

سایہ مسکرایا اور کہنے لگا:

”بادشاہ سلامت! مجھے تمہارے اس وفادار گھوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔“

بادشاہ حیرت اور خوف سے اسے دیکھنے لگا۔

سائے نے اپنی بات جاری رکھی:

”مجھے خدشہ تھا کہ تم وقت پر یہاں پہنچ بھی پاؤ گے یا نہیں۔ کیونکہ تمہاری موت کی جگہ تو یہی مقرر تھی!“

بادشاہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر اس کے حلق سے آواز نہ نکل سکی۔

سائے نے آخری بار کہا:

”تم موت سے بچنے کے لیے بھاگے ضرور تھے، لیکن تمہارا یہ سفر تمہیں اسی جگہ لے آیا جہاں موت تمہارا انتظار کر رہی تھی۔“

اور پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

🌿 سبق آموز پیغام

یہ کہانی ہمیں زندگی کی ایک اہم حقیقت یاد دلاتی ہے کہ انسان اپنی حفاظت کے لیے تدبیریں کر سکتا ہے، راستے بدل سکتا ہے اور خطرات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر سکتا ہے، لیکن موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہمیشہ کے لیے فرار ممکن نہیں۔

انسان اپنے مستقبل کے بارے میں بہت سے منصوبے بناتا ہے، دولت جمع کرتا ہے، بڑے بڑے خواب دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ابھی اس کے پاس بہت وقت باقی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ اس کی زندگی کی آخری گھڑی کب آ جائے گی۔

اس لیے موت کے خوف میں جینے کے بجائے موت کی تیاری کے ساتھ جینا سیکھیں۔

اپنے رب کے حقوق ادا کریں، لوگوں کے حقوق کا خیال رکھیں، کسی کا دل نہ دکھائیں، کسی پر ظلم نہ کریں، اپنے والدین کی خدمت کریں اور جہاں تک ممکن ہو، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

یاد رکھیے! ہم اپنی تقدیر کے تمام راز نہیں جانتے، لیکن اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔

موت کا وقت مقرر ہے، مگر اس وقت تک ہم اپنی زندگی کو نیکی، محبت، رحم دلی اور اچھے اعمال سے ضرور بھر سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت سے بچائے، نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!

Leave a Reply

NZ's Corner