ایک بوڑھا آدمی تھا اور ایک اس کی بوڑھی بیوی تھی۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ بوڑھا اور بڑھیا شہر سے دور سب سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ بوڑھا محنت مزدوری کے لیے صبح منہ اندھیرے گھر سے نکل جاتا اور شام پڑے واپس آتا۔ وہ بہت رحم دل تھا، مگر جانے کیا بات ہے کہ رحم دل اور نیک لوگ کم کم ہی ہوتے ہیں۔ اس شخص کا ہاتھ تو بہت ہی تنگ رہتا تھا، مگر رحم دلی اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔ کسی کو مشکل میں دیکھتا تو اپنے سارے کام چھوڑ کر اس کا ہاتھ بٹاتا۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ شام ہو گئی تھی اور وہ لپک جھپک گھر جا رہا تھا۔ آج اسے گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ صبح چلتے وقت بیوی نے کہا تھا کہ رات کے لیے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ پیسے لے کر آؤ گے تو روٹی پکے گی۔ وہ ایکّے کے پاس سے گزر رہا تھا کہ پر پھڑپھڑانے کی آواز آئی۔ اس آواز پر اس کے کان کھڑے ہوئے۔ اس نے سوچا کہ شام ہو گئی ہے، شاید کوئی پرندہ بھول بھٹک کر کسی مشکل میں گھر گیا ہے۔ اس خیال سے وہ بہت بے چین ہوا اور اس آواز کے رخ پر ایکّے کی طرف گھس گیا۔ قریب جا کر اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت سارس ہے، جو جال میں پھنسا ہے اور پھڑپھڑا رہا ہے۔ ہانپتے اور پھڑپھڑاتے سارس کو دیکھ کر اسے ترس آ گیا اور اس نے فوراً جال کاٹ دیا۔ سارس آزاد ہو گیا اور قائیں قائیں کرتا اڑ گیا۔
بوڑھا دیر سے گھر پہنچا اور بیوی سے کہا، “بی بی، کیا بتاؤں! ایک سارس جال میں پھنس گیا تھا، بس اسے چھوڑ آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔”
ابھی وہ یہ کہہ رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک میٹھی اور معصوم سی آواز آئی:
“میں اندر آ جاؤں؟”
“ہاں، آ جاؤ بیٹا۔ کون ہو تم؟”
بڑھیا نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ ایک ننھی منی پیاری سی لڑکی اندر آئی اور کہنے لگی، “میں گھر کا راستہ بھول گئی ہوں اور باہر اندھیرا بہت ہے۔” بوڑھے اور بڑھیا نے کہا، “بیٹی، گھبرانے کی بات نہیں۔ رات یہیں آرام کرو، صبح جب اجالا ہو جائے تو گھر چلی جانا۔”
اس لڑکی نے وہ رات وہیں گزاری۔ وہ بہت پیاری لڑکی تھی اور بھولی بھالی باتیں کرتی تھی۔ بوڑھا اور بڑھیا اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ بعد میں اس نے بتایا کہ میرے ماں باپ مر چکے ہیں اور میں اکیلی ہوں۔ یہ سن کر انہوں نے اسے بہت پچکارا اور کہا کہ تم ہماری بیٹی بن جاؤ اور ہمارے ساتھ رہا کرو۔ اصل میں وہ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ اللہ میاں نے ہم بے اولادوں کو یہ اولاد دی ہے، اور لڑکی اپنی جگہ خوش تھی۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں؟ اسے ایک سہارا مل گیا، بس وہ وہیں رہ پڑی اور ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔
ایک دن لڑکی نے اپنے نئے ماں باپ سے کہا:
“میں کپڑا بننا جانتی ہوں، مگر شرط یہ ہے کہ الگ کوٹھری میں بنا کروں گی۔ کوئی اس وقت اندر نہ آئے۔” بوڑھے اور بڑھیا کو اس پر تعجب تو ہوا، مگر سوچا کہ بچی ہے، ہٹ کرتی ہے۔ انہوں نے اس کی یہ شرط مان لی۔
اس کے بعد سے یہ معمول ہو گیا کہ وہ لڑکی روز صبح کوٹھری میں جا کر اندر سے دروازہ بند کر لیती۔ باہر کسی کو پتہ نہ چلता کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ بس ہلکی ہلکی آواز آتی رہتی جیسے کپڑا بنا جا رہا ہے۔ شام کو وہ کپڑے کا ایک تھان لیے ہوئے نکلتی۔ کپڑا اتنا باریک اور نفیس ہوتا کہ جو دیکھتا عش عش کر اٹھتا۔ اس کپڑے کا دور دور چرچا ہوا اور مہنگے داموں بکنے لگا۔ بوڑھا اور بڑھیا اس کپڑے کی بدولت بہت امیر ہو گئے۔
دن گزرتے گئے اور تھان پر تھان تیار ہوتے گئے۔
بڑھیا کو یہ کرید رہنے لگی کہ یہ بالشت بھر کی لونڈیا ایسا نفیس کپڑا کس ترکیب سے بنتی ہے! ایک دن اس سے ضبط نہ ہو سکا۔ وہ دبے پاؤں کوٹھری کے پاس گئی اور دروازے میں سے جھانک کر دیکھنے لگی۔
مگر… وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئی کہ وہاں کوئی لڑکی نہیں ہے، بلکہ ایک سارس ہے جس نے اپنے سفید براق پر پھیلا رکھے ہیں اور اپنی لمبی چونچ سے کپڑا بن رہا ہے۔
جب شام ہوئی تو بوڑھا گھر واپس آیا۔ ادھر وہ لڑکی کوٹھری سے نکلی اور بوڑھے سے بولی، “میں وہی سارس ہوں جسے آپ نے جال سے چھڑایا تھا۔ آپ کے احسان کا بدلہ چکانے کے لیے میں نے یہ روپ بھرا تھا، لیکن آج اماں جی نے مجھے اصل روپ میں دیکھ لیا۔ میں اصل میں سارس پری ہوں، میرا بھید کھل گیا۔ اب میرا یہاں رہنا ممکن نہیں۔ مجھے گھر جانے کی اجازت دیجیے۔”
اس پر بوڑھا بہت حیران ہوا۔ بڑھیا حیران بھی ہوئی اور پچھتائی بھی بہت کہ آخر اسے کیا پڑی تھی جو اس نے کوٹھڑی میں جھانکا۔
دونوں کو اس کی جدائی کا بہت دکھ تھا۔ وہ اسے اپنی آنکھوں کا تارا سمجھتے تھے، مگر کیا کرتے، مجبور تھے۔ وہ اب دم بھر کو یہاں رکنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس نے انہیں سلام کیا اور اچانک اپنے اصلی روپ میں آ گئی۔
بوڑھے اور بڑھیا نے دیکھا کہ سفید براق سارس پر پھڑپھڑا کر اڑا اور بلندی کی طرف اٹھتا چلا گیا۔ پھر اس نے آرام سے اپنے پر پھیلا کر چھوڑ دیے اور نیلے آسمان میں کھو گیا۔

