ایک بادشاہ تھا جس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے۔ جنگیں بھی دیکھی تھیں، شکستیں بھی، فتوحات بھی، وفاداریاں بھی اور غداری بھی۔ اب عمر ڈھلنے لگی تو اس کی سب سے بڑی فکر سلطنت نہیں بلکہ اس کا بیٹا تھا، جو ایک دن اسی تخت پر بیٹھنے والا تھا۔ ایک شام بادشاہ نے شہزادے کو اپنے پاس بلایا اور کہا، “بیٹا! تخت سنبھالنے کے لیے صرف تلوار چلانا یا دربار لگانا کافی نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت آتا ہے جب کوئی ایسا مسئلہ سامنے کھڑا ہو جس کا جواب تمہیں کہیں سے نہ مل رہا ہو۔ اس وقت ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا: جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” شہزادہ حیران ہوا۔ اس نے پوچھا، “ابا حضور! ہمارے دربار میں بڑے بڑے عالم، پڑھے لکھے لوگ، ماہرین اور ذہین مشیر موجود ہیں۔ آپ ہمیشہ بوڑھے لوگوں کے پاس جانے کی تاکید کیوں کرتے ہیں؟” بادشاہ نے مسکرا کر کہا، “علم والے کو ضرور سننا، مگر تجربہ کار کو نظرانداز نہ کرنا۔ کتاب انسان کو بتاتی ہے کہ طوفان کیا ہوتا ہے، مگر جس شخص نے اپنی کشتی طوفان میں چلائی ہو، وہ بتا سکتا ہے کہ طوفان آنے پر کشتی کو کس طرف موڑنا ہے۔” شہزادہ خاموش رہا۔ بادشاہ نے میز پر پڑی ایک کتاب اٹھائی اور کہا، “پڑھا لکھا آدمی بہت سی باتیں جانتا ہے۔ اس نے کتابوں میں پڑھا ہوتا ہے کہ کون سا راستہ کہاں جاتا ہے، کس بیماری کی کیا علامت ہے، جنگ کیسے لڑی جاتی ہے اور تجارت کے اصول کیا ہیں۔ مگر بیٹا! بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو کتاب میں لکھی ہی نہیں ہوتیں۔” پھر بادشاہ نے محل کے باہر موجود باغ کی طرف اشارہ کیا اور کہا، “ریت پر لکھی ہوئی لکیر بھی ایک نقشہ بناتی ہے، مگر ایک لہر آئے تو مٹ جاتی ہے۔ اسی طرح صرف کتاب سے نکلا ہوا مشورہ کبھی کبھی خوبصورت ہوتا ہے، مگر حالات کی پہلی سخت لہر اسے بدل دیتی ہے۔ جبکہ جو شخص زندگی کے تجربات سے گزرا ہو، اس کا مشورہ پتھر پر کھدی ہوئی لکیر کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں غلطیاں بھی شامل ہوتی ہیں، نقصان بھی، پچھتاوے بھی اور وہ سبق بھی جو انسان نے اپنی جان کی قیمت پر سیکھا ہوتا ہے۔” شہزادہ مسکرایا اور بولا، “لیکن ابا حضور، کیا ہر بوڑھا عقل مند ہوتا ہے؟” بادشاہ نے فوراً جواب دیا، “نہیں۔ صرف عمر عقل کی ضمانت نہیں۔ مگر جس شخص نے عمر کے ساتھ غور، مشاہدہ اور تجربہ بھی جمع کیا ہو، اس کے پاس وہ دولت ہوتی ہے جو کتابوں سے ہمیشہ نہیں ملتی۔” چند سال بعد بادشاہ بیمار ہوگیا اور سلطنت کی ذمہ داریاں آہستہ آہستہ شہزادے کے ہاتھ میں آنے لگیں۔ ایک دن سلطنت کے مشرقی حصے سے ایک گھبرایا ہوا قاصد دربار میں پہنچا۔ اس نے بتایا کہ ریاست کی سب سے بڑی نہر اچانک بند ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ زمین کو پانی پہنچنا بند ہوگیا ہے۔ اگر تین دن میں پانی کا راستہ نہ کھولا گیا تو فصلیں برباد ہوجائیں گی، اناج کی قلت پیدا ہوگی اور پورا صوبہ بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ شہزادے نے فوراً اپنے پڑھے لکھے ماہرین کو بلایا۔ نقشے کھولے گئے، کتابیں منگوائی گئیں، پرانے ریکارڈ دیکھے گئے۔ ایک ماہر نے کہا، “نہر کا رخ تبدیل کرنا ہوگا۔” دوسرے نے کہا، “پانی کا دباؤ کم کرنا ہوگا۔” تیسرے نے ایک پیچیدہ منصوبہ پیش کیا جس میں کئی دن لگنے تھے۔ شہزادے نے پوچھا، “اور اگر تین دن میں پانی نہ آیا؟” سب خاموش ہوگئے۔ اسی وقت شہزادے کو اپنے والد کی بات یاد آئی: “جتنا بڑا مسئلہ ہو، اتنے ہی تجربہ کار آدمی کے پاس جانا۔” اس نے دربار کے ایک پرانے خادم سے پوچھا، “اس علاقے میں سب سے عمر رسیدہ شخص کون ہے؟” خادم نے جواب دیا، “حضور! ایک بوڑھا کسان ہے۔ عمر شاید اسی یا نوے برس ہوگی۔ لوگ اسے بابا رحمت کہتے ہیں۔ وہ اسی نہر کے کنارے پیدا ہوا، وہیں پلا، اس نے اپنے باپ اور دادا کو اسی نہر کی دیکھ بھال کرتے دیکھا اور ساری عمر اسی علاقے میں گزاری ہے۔” شہزادے نے فوراً حکم دیا، “اسے ابھی دربار میں بلاؤ۔” تھوڑی دیر بعد ایک دبلا پتلا بوڑھا شخص لاٹھی کے سہارے دربار میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے اور ہاتھوں پر محنت کے نشان تھے۔ شہزادے نے کہا، “بابا! ہماری نہر بند ہوگئی ہے۔ بڑے بڑے ماہرین اسے کھولنے کا راستہ نہیں نکال سکے۔ تم نے زندگی بھر اس نہر کو دیکھا ہے۔ بتاؤ، اسے کیسے کھولا جائے؟” بوڑھے نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے صرف پوچھا، “نہر کہاں بند ہوئی ہے؟” شہزادے نے نقشہ سامنے رکھ دیا۔ بوڑھے نے نقشے کو دیکھا، پھر سر ہلایا اور بولا، “حضور! نقشہ کچھ اور کہتا ہے، مگر نہر کچھ اور کہتی ہے۔” درباری ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ شہزادے نے پوچھا، “کیا مطلب؟” بوڑھا بولا، “مجھے وہاں لے چلیے۔” اسے نہر کے مقام پر لے جایا گیا۔ بوڑھا کافی دیر کنارے کھڑا پانی کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے مٹی ہاتھ میں لی، اسے سونگھا، کچھ قدم آگے گیا اور ایک جگہ اپنی لاٹھی زمین میں گاڑ دی۔ بولا، “یہاں سے نہیں، یہاں سے پانی کا راستہ بند ہوا ہے۔” ماہرین ہنسنے لگے۔ ایک نے کہا، “بابا! ہم نے نقشے اور حساب سے پورا علاقہ ناپا ہے۔” بوڑھے نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے صرف کہا، “پانی کو کتاب سے نہیں، بہتے ہوئے دیکھو۔” پھر اس نے حکم دیا کہ نہر کے ایک پرانے کنارے پر پڑی مٹی ہٹائی جائے۔ چند گھنٹوں کی محنت کے بعد نیچے سے لکڑی اور پتھروں کی ایک پرانی تہہ نکلی۔ بوڑھے نے کہا، “یہاں کبھی ایک عارضی بند بنایا گیا تھا۔ کئی دہائیاں پہلے سیلاب آیا تھا، میرے والد نے مجھے بتایا تھا کہ اس وقت پانی کا رخ بدلنے کے لیے یہاں لکڑیاں گاڑی گئی تھیں۔ وقت کے ساتھ سب کچھ مٹی میں دب گیا، مگر پانی اپنا پرانا راستہ نہیں بھولا۔” ماہرین حیران رہ گئے۔ بوڑھے نے کہا، “اس بند کو یہاں سے ہٹاؤ اور پانی کا رخ ذرا سا اس طرف موڑ دو۔” ایسا ہی کیا گیا۔ چند گھنٹوں بعد پانی کا بہاؤ تیز ہوگیا اور پھر نہر میں پانی دوڑنے لگا۔ تین دن کا خطرہ ایک دن میں ختم ہوگیا۔ فصلیں بچ گئیں اور پورا صوبہ ایک بڑے بحران سے محفوظ ہوگیا۔ شہزادہ خاموشی سے اس بوڑھے کو دیکھتا رہا۔ واپسی پر اس نے پوچھا، “بابا! آپ کو یہ بات کیسے معلوم تھی؟” بوڑھے نے مسکرا کر کہا، “حضور! یہ بات مجھے کسی کتاب میں نہیں ملی۔ میں نے یہ نہر اپنے باپ کے ساتھ دیکھی، میرے باپ نے اپنے باپ کے ساتھ دیکھی، اور میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے کئی بار اس نہر کو بپھرتے، راستہ بدلتے اور پھر سنبھلتے دیکھا ہے۔” شہزادے کو اپنے والد کی بات یاد آگئی۔ اسے سمجھ آیا کہ کتاب میں لکھی ہوئی بات اور زندگی میں گزری ہوئی بات میں کیا فرق ہے۔ ایک درباری عالم نے شاید نہر کے بارے میں سو صفحات پڑھ رکھے ہوں، مگر اس بوڑھے نے اسی نہر کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزاری تھی۔ شہزادے نے بوڑھے سے کہا، “آج مجھے سمجھ آیا کہ ابا حضور کیوں کہتے تھے کہ بڑے مسئلے کے لیے بڑے تجربے والے شخص کے پاس جانا۔” بوڑھے نے جواب دیا، “حضور! کتاب کو کبھی کم نہ سمجھنا۔ علم راستہ دکھاتا ہے، مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس راستے پر کہاں قدم رکھنا ہے اور کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے۔” شہزادہ مسکرایا اور بولا، “تو پھر ابا حضور کی بات مکمل طور پر درست تھی۔” بوڑھے نے کہا، “بادشاہ سلامت! شاید ان کی بات اس سے بھی زیادہ درست تھی، کیونکہ جو بات انسان خود جھیل کر سیکھتا ہے، اسے بھولنے کے لیے بھی پوری زندگی چاہیے ہوتی ہے۔” شہزادہ دیر تک خاموش رہا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ عمر صرف برسوں کا نام نہیں؛ اگر انسان نے ان برسوں کو غور، تجربے اور مشاہدے میں گزارا ہو تو ہر گزرتا سال اس کے اندر ایک نئی کتاب لکھتا رہتا ہے۔
حاصلِ سبق:
علم انسان کو بہت کچھ سکھاتا ہے، مگر تجربہ علم کو زندگی میں استعمال کرنا سکھاتا ہے۔ کتابوں کا علم قیمتی ہے، اس لیے اسے کبھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، لیکن زندگی کے میدان میں برسوں کا تجربہ رکھنے والے لوگوں کی بات بھی معمولی سمجھنا بڑی غلطی ہوسکتی ہے۔ ریت پر لکھی لکیر خوبصورت ضرور ہوتی ہے، مگر ایک لہر اسے مٹا سکتی ہے؛ پتھر پر کھدی ہوئی لکیر شاید خوبصورت نہ ہو، مگر اسے مٹانے کے لیے وقت، محنت اور طاقت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے جب مسئلہ چھوٹا ہو تو کتاب دیکھ لیجیے، ماہر سے پوچھ لیجیے؛ لیکن جب مسئلہ زندگی جتنا بڑا ہو تو اس شخص کو بھی ضرور تلاش کیجیے جس نے زندگی کو صرف پڑھا نہیں، جیا بھی ہو۔

