کیا آپ جانتے ہیں کہ شیطان کو آپ کے پورے گھر کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اسے صرف ایک کیل لگانے کی جگہ چاہیے ہوتی ہے۔
یہ کہانی توآپ نے ضرور سن رکھی ہو گی کہ،
ایک شخص کے پاس بہت خوبصورت مکان تھا۔ ایک خریدار اس کے پاس آیا اور گھر کی اچھی قیمت پیش کی، لیکن مالک نے بیچنے سے انکار کر دیا۔ خریدار بار بار آتا رہا، رقم بڑھاتا رہا، مگر مالک ہر بار انکار کرتا رہا۔
پھر ایک دن خریدار آیا، اس نے آدھی قیمت پیش کی اور کہا: “مجھے آپ کا پورا گھر نہیں چاہیے، مجھے صرف ایک دیوار چاہیے جس پر میں ایک کیل ٹھونک سکوں۔”
مالک نے سوچا کہ صرف ایک کیل کی بدولت اسے گھر کی آدھی قیمت مل رہی ہے، سودا برا نہیں ہے۔ چنانچہ ان کے درمیان معاہدہ ہو گیا۔ خریدار نے دیوار پر کیل ٹھونکی اور چلا گیا۔
ایک دو ہفتے گزرنے کے بعد خریدار واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بوری تھی جس میں مرے ہوئے جانوروں کی لاشیں تھیں اور اس سے شدہد بدبو آ رہی تھی۔ اس نے وہ بوری اس کیل پر لٹکا دی۔
مالک مکان کو غصہ آیا اور اس نے کہا: “کتنی بدبو پھیل رہی ہے، اس بوری کو یہاں سے لے جاؤ!”
اس پر خریدار نے کہا: “یہ دیوار اور اس پر لگی کیل میری ہے۔”
مالک مکان کچھ نہ کہہ سکا۔ اگلے ہی دن سے پورے گھر میں بدبو پھیلنے لگی، یہاں تک کہ مکھیاں آنے لگیں اور بچے بیمار ہونے لگے۔ آخر کار، اس بدبو اور تعفن سے تنگ آ کر مالک مکان اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔
شیطان بھی آپ کے ساتھ یہی کرتا ہے۔ وہ ایک گناہ جو ہم یہ سوچ کر خوشی سے کر لیتے ہیں کہ “صرف ایک بار ہی تو جھوٹ بولا ہے”، “ایک بار ہی تو دوست کے کہنے پر پی ہے”، “ایک بار ہی تو کسی کو گھورا ہے”، “ایک بار ہی تو وہ ویڈیو دیکھی ہے”، یا “ایک بار ہی تو اپنی بے عزتی برداشت کی ہے” وہی “ایک بار” کا گناہ آہستہ آہستہ آپ کے پورے وجود میں بدبو اور برائی پھیلا دیتا ہے۔
اسی لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ شیطان کے آگے تسلیم ہونے کی بجائے اللہ تعالی کے آگے سر تسلیمِ خم کر دیں۔ کیونکہ اللہ تعالی اس ایک دیوار اور بوری سے پیدا ہونے والی بدبو کو دور کر کے آپ کے پورے گھر (وجود) کی صفائی فرما دیتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اس ایک “کیل” (شروعاتی گناہ) کے بارے میں نہیں سوچتے، بلکہ یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ہمارے گھر (زندگی) میں اتنی تکلیفیں اور پریشانیاں کہاں سے آ گئیں!
