ایک غریب آدمی کو کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔
وہ ساہوکار پر بھروسہ کرتا تھا، اس لیے نہ رسید لی اور نہ کوئی گواہ بنایا۔
چھ ماہ بعد واپس آیا تو ساہوکار سے اپنی رقم مانگی۔
ساہوکار نے صاف انکار کر دیا:
“میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!”
غریب بہت منت سماجت کرتا رہا، مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔
آخرکار وہ بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور ساری داستان سنا دی۔
بادشاہ نے پوچھا:
“کیا تمہارے پاس کوئی رسید یا گواہ ہے؟”
غریب نے سر جھکا کر کہا:
“نہیں، حضور۔”
بادشاہ نے کچھ دیر سوچا، پھر مسکرا کر بولا:
“ثبوت تو نہیں، مگر ایک تدبیر ضرور ہے۔”
اگلے دن بادشاہ نے اسے حکم دیا کہ ساہوکار کی دکان پر بیٹھا رہے۔
کچھ دیر بعد بادشاہ شاہی سواری پر وہاں سے گزرا۔ اس نے غریب کو دیکھا تو بڑے احترام سے سلام کیا اور بولا:
“آپ یہاں؟ ہم تو کئی دنوں سے آپ کا انتظار کر رہے ہیں!”
غریب نے بھی بے تکلفی سے جواب دیا:
“حضور، ایک ضروری معاملے میں مصروف ہوں۔ وہ حل ہو جائے تو حاضر ہو جاؤں گا۔”
بادشاہ نے کہا:
“کوئی پریشانی ہو تو ہمیں ضرور بتائیے گا۔”
یہ کہہ کر بادشاہ وہاں سے چلا گیا۔
ساہوکار نے یہ منظر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے۔
اس نے سوچا:
“اگر یہ واقعی بادشاہ کا قریبی آدمی ہے اور اس نے میری شکایت کر دی تو میری خیر نہیں!”
وہ فوراً غریب کے پاس گیا اور بولا:
“بھائی! مجھے یاد آ گیا… تم نے واقعی میرے پاس ایک ہزار روپے رکھوائے تھے۔ شاید مجھے بھول گیا تھا۔ یہ لو، اپنی رقم واپس لے لو۔”
غریب نے خاموشی سے رقم لی اور دل ہی دل میں بادشاہ کی عقل مندی کو داد دی۔
سبق:
ہر مشکل طاقت سے حل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی صبر، عقل اور درست تدبیر وہ کام کر دیتی ہے جو طاقت بھی نہیں کر سکتی۔


