ایک دن ایک مشہور فلسفی اپنے علم اور عقل پر بڑا ناز کرتا ہوا ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچا۔ گاؤں والوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی عقل مند ہو تو پہلے ملا صاحب سے ملاقات ضرور کرنا!
فلسفی ملا کے پاس پہنچا۔ کافی دیر علمی گفتگو ہوتی رہی، پھر دونوں کھانا کھانے ایک ہوٹل چلے گئے۔
ویٹر نے آ کر بتایا:
”جناب! آج تازہ مچھلی دستیاب ہے۔“
فلسفی نے فوراً دو مچھلیاں منگوا لیں۔ تھوڑی دیر بعد کھانا آیا تو ایک مچھلی بڑی اور دوسری چھوٹی تھی۔
ملا نصرالدین نے بغیر دیر کیے بڑی مچھلی اٹھائی اور اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ 😂🐟
یہ دیکھ کر فلسفی کا پارہ چڑھ گیا۔
کہنے لگا:
”ملا صاحب! یہ کون سا اخلاق ہے؟ ایک مہذب انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ تہذیب، شرافت اور انسانی اقدار کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ بڑی مچھلی اپنے مہمان کو دیتے!“
ملا صاحب خاموشی سے اس کا لیکچر سنتے رہے۔ جب فلسفی کی تقریر ختم ہوئی تو ملا نے معصومیت سے پوچھا:
”اچھا جناب! اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے؟“
فلسفی نے فخر سے سینہ پھلایا اور بولا:
”میں تو یقیناً چھوٹی مچھلی لیتا، کیونکہ میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہوں!“ 😎
ملا نصرالدین نے فوراً چھوٹی مچھلی اٹھائی اور فلسفی کی پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولے:
”تو پھر اتنی لمبی تقریر کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو آپ کی پسند کی مچھلی مل گئی اور مجھے میری پسند کی! اب آرام سے کھانا کھائیں، فلسفہ بعد میں جھاڑ لیجیے گا!“ 🤣🤣
فلسفی کا چہرہ دیکھنے والا تھا، اور ملا صاحب مزے سے اپنی بڑی مچھلی کھانے لگے! 😂🐠
سبق: بعض لوگ دوسروں کو نصیحتیں تو بہت کرتے ہیں، لیکن جب اپنی باری آئے تو ان کی عقل بھی اپنی سہولت کے مطابق چلنے لگتی ہے۔ 🤭

