بادشاہ کی آخری آزمائش

بادشاہ کی آخری آزمائش



صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔

سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔

تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔

سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔

ایک دن سلطان نے تینوں بیٹوں کو دربار میں بلایا۔

اس نے کہا،
“میرے بیٹو! میں تم تینوں کو ایک ایک تھیلی سونے کی دیتا ہوں۔ تم تینوں اس سونے کو لے کر شہر سے باہر جاؤ اور ایک ہفتے بعد واپس آؤ۔ لیکن یاد رکھنا، میں تم سے یہ نہیں پوچھوں گا کہ تم نے سونا کتنا بڑھایا۔ میں صرف یہ دیکھوں گا کہ تم نے اس کے ساتھ کیا کیا۔”

تینوں شہزادے حیران ہوئے، مگر حکم مان کر روانہ ہوگئے۔

شہزادہ کامران نے سوچا کہ سونے سے کوئی قیمتی چیز خرید کر واپس لے جائے گا تاکہ والد کو دکھا سکے کہ وہ کتنا سمجھ دار ہے۔ اس نے ایک دور دراز شہر کا رخ کیا جہاں قیمتی گھوڑے اور جواہرات فروخت ہوتے تھے۔

شہزادہ سلیم نے سوچا کہ وہ سونا کسی تاجر کو دے کر تجارت کرے گا اور خوب منافع کمائے گا۔

لیکن شہزادہ فہیم راستے میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ لوگ شدید پریشان ہیں۔ کئی دنوں سے بارش نہیں ہوئی تھی اور گاؤں کا کنواں بھی خشک ہونے کے قریب تھا۔

گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے فہیم کو بتایا،
“شہزادے! ہمارے پاس کھانے کو بہت کم ہے۔ اگر چند دن اور بارش نہ ہوئی تو ہمارے بچے بھوکے رہ جائیں گے۔”

فہیم نے اپنی تھیلی کھولی۔ اس میں موجود سونے کو دیکھ کر کچھ دیر سوچتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر سارا سونا خرچ کر دیا تو اس کے پاس واپس لے جانے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

پھر اس نے گاؤں والوں سے کہا،
“اس سونے سے اناج خرید لو۔ جو کچھ بچے، اس سے کنویں کی صفائی اور مرمت کرو۔”

گاؤں والے حیران رہ گئے۔

ایک شخص نے کہا،
“لیکن شہزادے! اگر سلطان نے پوچھا کہ سونا کہاں گیا تو؟”

فہیم مسکرایا اور بولا،
“اگر میرے والد بادشاہ ہیں تو وہ سونے سے زیادہ انسانوں کی قدر جانتے ہوں گے۔”

گاؤں والوں نے اناج خریدا۔ کنواں بھی صاف کیا گیا۔ چند دنوں میں گاؤں کے لوگوں کے چہروں پر پھر سے رونق آگئی۔

ادھر ایک ہفتے بعد تینوں شہزادے محل واپس پہنچے۔

سلطان نے سب کو دربار میں بلایا۔

سب سے پہلے کامران آگے بڑھا۔ اس نے ایک خوب صورت گھوڑا پیش کیا اور کہا،
“ابا حضور! میں نے آپ کے دیے ہوئے سونے سے یہ گھوڑا خریدا ہے۔ یہ بہت قیمتی ہے اور جنگ میں بھی کام آئے گا۔”

سلطان نے سر ہلایا اور خاموش رہا۔

پھر سلیم آگے بڑھا۔ اس نے سونے کے زیورات اور قیمتی کپڑے پیش کیے۔

“میں نے سونے سے تجارت کی اور یہ چیزیں خریدیں۔ ان کی قیمت میرے خرچ کیے ہوئے سونے سے کہیں زیادہ ہے۔”

دربار میں موجود لوگوں نے سلیم کی تعریف کی۔

آخر میں فہیم آگے آیا۔ اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے۔

کامران ہنس پڑا۔

“دیکھا ابا حضور! فہیم تو سارا سونا ضائع کرکے خالی ہاتھ واپس آیا ہے۔”

سلیم نے بھی کہا،
“شاید اسے تجارت کا طریقہ ہی معلوم نہیں۔”

سلطان نے فہیم کی طرف دیکھا اور پوچھا،
“بیٹا! تمہارا سونا کہاں ہے؟”

فہیم نے سر جھکا کر کہا،
“ابا حضور! میں نے وہ سونا ایک گاؤں کے لوگوں پر خرچ کر دیا۔ وہاں بچے بھوک سے تڑپ رہے تھے اور کنواں خشک ہو رہا تھا۔ میں نے اناج خریدا اور کنویں کی مرمت کروائی۔ میرے پاس آپ کو دینے کے لیے کچھ نہیں۔”

دربار میں خاموشی چھا گئی۔

سلطان نے اپنے وزیر کی طرف دیکھا اور کہا،
“کیا تم میرے ساتھ گاؤں چل سکتے ہو؟”

وزیر نے سر جھکا کر کہا،
“جی، حضور۔”

سلطان نے اسی وقت تینوں شہزادوں کو ساتھ لیا اور اس گاؤں کی طرف روانہ ہوگیا۔

جب وہ گاؤں پہنچے تو لوگوں نے شہزادہ فہیم کو دیکھا تو خوشی سے جمع ہوگئے۔

ایک بوڑھا شخص آگے آیا اور سلطان کے سامنے جھک کر بولا،
“بادشاہ سلامت! آپ کا بیٹا ہمارے لیے فرشتہ بن کر آیا تھا۔ اگر وہ ہماری مدد نہ کرتا تو نہ جانے کتنے بچے بھوک سے مر جاتے۔”

سلطان نے فہیم کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔

پھر اس نے اپنے تینوں بیٹوں سے کہا:

“کامران! تم نے سونے کو ایک گھوڑے میں بدل دیا۔
سلیم! تم نے سونے کو مزید سونے میں بدل دیا۔
لیکن فہیم نے سونے کو دعاؤں میں بدل دیا۔”

تینوں شہزادے خاموش کھڑے تھے۔

سلطان نے کہا،
“یاد رکھو! بادشاہ وہ نہیں جو خزانے بھر دے۔ بادشاہ وہ ہے جو اپنی رعایا کے دل بھر دے۔ دولت ختم ہوسکتی ہے، محل اجڑ سکتے ہیں اور خزانے لٹ سکتے ہیں، مگر کسی ضرورت مند کی مدد سے ملنے والی دعا انسان کے ساتھ بہت دور تک جاتی ہے۔”

پھر سلطان نے فہیم کا ہاتھ پکڑا اور کہا:

“آج سے تم صرف میرے بیٹے نہیں، بلکہ اس سلطنت کے مستقبل کے بادشاہ ہو۔”

کامران اور سلیم نے اپنے بھائی کی طرف دیکھا۔ اس بار ان کے دل میں حسد نہیں بلکہ شرمندگی تھی۔

کامران نے آگے بڑھ کر فہیم کو گلے لگا لیا۔

“بھائی! آج ہمیں معلوم ہوا کہ اصل دولت کیا ہوتی ہے۔”

فہیم نے مسکرا کر جواب دیا،
“اصل دولت وہی ہے جس سے کسی دوسرے کے چہرے پر مسکراہٹ آئے۔”

کئی سال بعد سلطان بوڑھا ہوا اور اس نے سلطنت کی ذمہ داری فہیم کے سپرد کردی۔

فہیم نے اپنے والد کی نصیحت ہمیشہ یاد رکھی۔ اس کے دور میں غریبوں کے لیے اناج کے ذخیرے بنائے گئے، مسافروں کے لیے سرائیں تعمیر ہوئیں اور دور دراز علاقوں میں کنویں کھدوائے گئے۔

کہتے ہیں کہ فہیم کی حکومت میں نورآباد پہلے سے کہیں زیادہ خوشحال ہوگیا۔

اور لوگ آج بھی اس واقعے کو یاد کرکے کہتے ہیں:

“دولت وہ نہیں جو صندوق میں بند ہو، دولت وہ ہے جو کسی کے کام آئے۔”

سبق

انسان کی اصل عظمت اس کی دولت، طاقت یا علم میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنی صلاحیت اور دولت سے دوسروں کے لیے کتنا فائدہ مند بنتا ہے۔ نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی؛ کسی کی مدد کے بدلے ملنے والی دعا دنیا کی بڑی سے بڑی دولت سے زیادہ قیمتی ہوسکتی ہے

Leave a Reply

NZ's Corner